دہشت گردی کے مقدمات کی اپیلوں کے لیے بینچ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بینچ پانچ جنوری سے دس کے قریب ایسی درخواستوں کی سماعت کرے گا جنھیں نچلی عدالتوں سے موت کی سزا سُنائی گئی

پاکستان کے چیف جسٹس ناصر الملک نے انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج ہونے والے مقدمات میں نچلی عدالتوں میں سزائے موت اور عمر قید کی سزا پانے والے مجرموں کی طرف سے سپریم کورٹ میں دائر ہونے والی اپیلوں کی سماعت کے لیے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں ایک بینچ تشکیل دیا ہے۔

عدالت عظمیٰ کا یہ بینچ پانچ جنوری سے ایسی درخواستوں کی سماعت کرے گا جو انسداد دہشت گردی کی متعقلہ عدالت اور پھر ہائی کورٹ کے فیصلوں کے خلاف دائر کی گئی ہوں گی۔

’عدالتیں شدت پسندی کے مقدمات کی روزانہ سماعت کریں‘

ان درخواستوں میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف پر حملوں کے الزام میں فوجی عدالت سے موت کی سزا پانے والے فوجی اہلکاروں محمد مشتاق اور مکرم حسین کی درخواستیں بھی شامل ہیں۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ پانچ جنوری سے دس کے قریب ایسی درخواستوں کی سماعت کرے گا جنھیں نچلی عدالتوں سے موت کی سزا سُنائی گئی ہے۔

گذشتہ ہفتے چیف جسٹس ناصر الملک نے اسلام آباد اور چاروں صوبوں کی ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا تھا کہ انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج ہونے والے مقدمات کو جلد از جلد نمٹا جائے گا۔

اُدھر سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے فوجی عدالتوں کو قانونی قرار دینے سے متعلق دائر ہونے والی درخواست کو اعتراض لگا کر واپس کر دیا ہے۔

یہ درخواست مولوی اقبال حیدر کے طرف سے دائر کی گئی تھی۔ اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ سپریم کورٹ فوجی عدالتوں سے متعلق اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔

درخواست گزار ایسے افراد میں شامل ہیں جو کسی بھی معاملےپر اعلیٰ عدالتوں میں آئینی درخواستیں دائر کرتے رہتے ہیں۔

سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس کا کہنا تھا کہ فوجی عدالتوں سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے سے درخواست گزار کا نہ کوئی حق متاثر ہوا ہے اور نہ ہی اُن کا کوئی حقِ دعویٰ بنتا ہے۔

دوسری جانب لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے فوج کے ہیڈ کوراٹر کے ناکے، کامرہ کمپلکس اور حمزہ کیمپ کے مقدمات میں انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کے فیصلے کے خلاف وفاق کی جانب سے دائر کی گئی درخواست مسترد کر دی ہے۔

جسٹس عبادالرحمنٰ لودھی کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے وفاق کی جانب سے دائر کی گئی اس درخواست کی سماعت کی۔

وفاق نے اس درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پیش گئے شواہد کو نظر انداز کرکے ملزمان سید عرب اور شفیق الرحمان کو بری کر دیا ہے لہذٰا انسداد دہشت گردی کی عدالت کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔

عدالت کا موقف تھا کہ دو سال تک یہ مقدمہ عدالت میں زیر سماعت رہا اور اس دوران ایسے کوئی شواہد عدالت میں پیش نہیں ہوئے جنھیں عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنایا جا سکتا ہو۔

اسی بارے میں