فوجی عدالتوں کے لیے آئینی ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں پیش

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption توقع ہے کہ آئین میں یہ ترامیم منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں منظور کر لی جائیں گی

پاکستان میں فوجی عدالتوں کے قیام کے لیے ہفتے کے روز آئین میں 21ویں ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا۔

اس کے علاوہ آرمی ایکٹ مجریہ 1952 میں مزید ترمیم کا بل بھی پیش کیا گیا ہے۔

یہ دونوں بل وزیرِ انصاف پرویز رشید نے پیش کیے۔ دہشت گردوں کو سزا دینے کےلیے آرمی ایکٹ کی شق ڈی میں ترمیم کی جائے گی۔

منظور ہونے کے بعد یہ بل فوری طور پر تمام ملک میں نافذ العمل ہوں گے۔

سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق مندرجہ ذیل جرائم میں ملوث افراد کو آرمی ایکٹ کے تحت سزا دی جا سکے گی:

  • پاکستان کے خلاف جنگ کرنے والے
  • فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملہ کرنے والے
  • اغوا برائے تاوان کے مجرم
  • غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کو مالی معاونت فراہم کرنے والے
  • مذہب اور فرقے کے نام پر ہتھیار اٹھانے والے
  • کسی دہشت گرد تنظیم کے اراکین
  • سول اور فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والے
  • دھماکہ خیز مواد رکھنے یا کہیں لانے لے جانے میں ملوث افراد
  • دہشت اور عدم تحفظ کا ماحول پیدا کرنے والے
  • بیرونِ ملک سے پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے

آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ حکومت کی پیشگی منظوری کے بعد چلایا جائے گا اور فوجی عدالت کو مقدمے کی منتقلی کے بعد مزید شہادتوں کی ضرورت نہیں ہو گی۔

اس کے علاوہ وفاقی حکومت زیرِ سماعت مقدمات بھی فوجی عدالتوں میں بھیج سکے گی۔

وفاقی وزیر قانون و انصاف اور اطلاعات پرویز رشید کی جانب سے قومی اسمبلی میں 21ویں آئینی ترمیم کے لیے پیش کیے جانے والے مسودے میں آئینی ترمیم کے وجوہات اور مقاصد کے بارے میں کہا گیا:

’ملک میں غیر معمولی حالات اور صورتحال یہ تقاضا کرتے ہیں کہ ایسے ملزمان کے خلاف مقدمات کی تیز ترین سماعت کی جائے جو دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہیں، پاکستان کے خلاف بغاوت یا جنگ کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ پاکستان کی سکیورٹی کے لیے خطرات کے واقعات کو روکنا ہے۔‘

مسودے میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان کی سالمیت اور اس کے آئین کے مقاصد جن کا تعین اس کے بنانے والوں نے کیا تھا کو دہشت گرد گروہوں سے خطرہ ہے، جنھوں نے مذہب اور ایک فرقے کا نام استعمال کر کے اور بیرونی اور مقامی امداد سے بغاوت برپا کر رکھی ہے اور ہتھیار اٹھا رکھے ہیں۔‘

مسودے کے مطابق ’یہاں یہ مناسب ہے کہ دہشت گرد گروہ جن میں ایسے کوئی بھی دہشت گرد گروہ ہیں جو کہ مذہب کا نام یا فرقے کا نام استعمال کر کے دہشت گردی کر رہے ہیں اور ان کے دہشت گردوں کو جب مسلح افواج یا دیگر سکیورٹی اداروں کے ساتھ لڑائی میں پکڑا جائے گا کہ ان پر مقدمے ان خصوصی عدالتوں میں چلائے جائیں گے۔‘

قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کی شام چار بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔ وزیرِ اعظم نواز شریف نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

وفاقی وزیرِ اطلاعات نے گذشتہ روز جمعے کو کہا تھا کہ فوجی عدالتوں کے لیے آئین میں ترمیم کا بل پیر کو قومی اسمبلی جبکہ منگل کو سینیٹ سے منظور ہو جائے گا۔

جمعے کے روز وزیراعظم نواز شریف کی سربراہی میں منعقد ہونے والی کل جماعتی کانفرنس میں فوجی عدالتوں کے قیام کے لیے آئین اور آرمی ایکٹ میں ترمیم کرنے پر اتفاق کر لیا گیا تھا۔

اسلام آباد میں جمعے کو منعقدہ اجلاس کے آغاز پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے کہا تھا کہ قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد سے متعلق تیار کیے گئے مسودے پر اب بحث کی کوئی گنجائش نہیں جبکہ بّری فوج کے سربراہ جنرل راحیل نے کہا تھا کہ خصوصی عدالتوں کا قیام فوج کی خواہش نہیں بلکہ یہ غیر معمولی حالات کی ضرورت ہیں۔

یاد رہے کہ آئین میں ترمیم اور خصوصی فوجی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ گذشتہ ماہ کی 16 تاریخ کو پشاور میں آرمی پبلک سکول پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد کیا گیا تھا۔ اس حملے میں سکول کے طلبہ سمیت ڈیڑھ سو افراد مارے گئے تھے۔

اسی بارے میں