’فوج فوری اور منصفانہ اقدامات کرے گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے پشاور میں ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں یقین دہانی کرائی ہے کہ دہشت گردی اور شدت پسندی کو مکمل طور پر جڑ سے اکھاڑ پھینکے کے لیے فوج قومی ایکشن پلان پر فوری اور منصفانہ اقدامات کرے گی۔

ایپکس کمیٹی کا اجلاس اتوار کو پشاور میں منعقد ہوا جس میں جنرل راحیل شریف کے علاوہ گورنر اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور دیگر صوبائی حکام نے شرکت کی۔ ایپکس کمیٹی کا مقصد حال ہی میں منظور کیے گئے قومی ایکشن پلان کے تحت ہرصوبے کی سطح پر سکیورٹی کی صورتحال پر مشترکہ اقدامات کرنا ہے۔

جنرل راحیل شریف نےگذشتہ روز صوبہ پنجاب کے حوالے سے لاہور میں ایپکش کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی تھی۔

جنرل راحیل شریف نے پشاور کے اجلاس میں کہا کہ اس منصوبے پر عملدرآمد کے دوران نہ صرف دہشت گردوں بلکہ ان دہشت گردوں کے ساتھی معاونین اور ان سے ہمدردی رکھنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ فوجی آپریشن سے متاثر ہونے والے متاثرین کی واپسی آئندہ ماہ سے شروع کر دی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ اس کے لیے پاک فوج صوبائی حکومت اور فاٹا حکام کے ساتھ مل کر مرحلہ وار واپسی کو یقینی بنایا جائے گا ۔

جنرل راحیل شریف نے فرنٹیئر کانسٹبلری کی کارکردگی بڑھانے کے لیے فوج کی جانب سے چار ہزار اے کے 47 قسم کی بندوقیں دینے کا وعدہ کیا۔

واضح رہے کہ پشاور میں آرمی پبلک سکول اینڈ کالج پرحملے کے بعد سے وفاقی اور صوبائی حکومت نے فوج کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے منصوبہ بندی کی ہے اور اس کے لیے حکومت کا کہنا ہے کہ عملی اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔

پشاور سکول پر حملے میں لگ بھگ ڈیڑھ سو بچے اور عملے کے کئی افراد ہلاک کر دیے گئےتھے۔ خیبر پختونخوا میں اس واقعے کے بعد سے اب تک تعلیمی ادارے بند ہیں۔

اسی بارے میں