ملاقاتیں، تقریریں مگر دراڑیں بھی

فوجی عدالتوں کے حوالے سے ترامیم پر ووٹنگ کی توقع سے قومی اسمبلی کی پریس گیلری بھری ہوئی تھی۔

کچھ صحافی کہہ رہے تھے کہ پارکنگ بھی مشکل سے ملی۔ اجلاس کا وقت چار بجے تھا لیکن جب تک وزیرِ اعظم نواز شریف قریباً پانچ بجے کے بعد ایوان میں نہیں پہنچے، ارکانِ پارلیمان کی نشستیں خالی خالی نظر آئیں۔

وزیرِ اعظم پیپلز پارٹی کے رہنما اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف خورشید شاہ کے ساتھ داخل ہوئے۔

خورشید شاہ تو اپنی نشست پر بیٹھ گئے لیکن وزیرِ اعظم کے گرد پاکستان مسلم لیگ نون کے اراکین کا ایسا جمگھٹا لگ گیا کہ جیسے وہ برسوں بعد وزیراعظم سے مل رہے ہوں۔ ایک نے تو وزیرِاعظم کی آسانی کے لیے ان کی کرسی بھی سیدھی کی۔

پھر وزیرِ قانون و انصاف پرویز رشید نے آرمی ایکٹ اور آئین میں ترمیم کے بل کو منظوری کے لیے ایوان میں پیش کیا۔

اس وقت تک تو صحافیوں کو یقین تھا کہ بل منظور ہو کر رہے گا۔ جب سپیکر ایاز صادق نے پرویز رشید سے درخواست کی کہ وہ بل کی وضاحت کے لیے چند الفاظ بولیں، تو انھوں نے یہ ذمہ داری وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی کی جانب بڑھا دی۔ لیکن جب مغرب کی اذان میں چند منٹ باقی بچے اور ان کے پاس نوٹس کے کئی صفحات ابھی باقی تھے تو چوہدری نثار نے درخواست کی کہ قانون کی وضاحت وہ نماز کے بعد کریں گے۔

ایک صحافی نے لقمہ دیا ’چلو، اب تو یہ بولتے ہی چلے جائیں گے۔‘

صحافی کی یہ پیشنگوئی درست ہی نکلی کیونکہ مغرب کی نماز کے بعد چوہدری نثار علی نے کم سے کم چار بار اپنی ’آخری بات‘ شروع کی۔ اور جب انہوں نے بتایا کہ دہشت گردی کے واقعات کو روکنے کے لیے قائم کی گئی ہیلپ لائن پر روزانہ چار سو پرینک کالز ( غیر ضروری) گھریلو مسائل کے حوالے سے آتی ہیں تو کسی نے مذاق کیا کہ ایسا لگتا ہے کہ اخبار کی سرخی تو یہی ہوگی کہ ’ہیلپ لائن پر دہشت گردی کو روکنے کے لیے کے بجائے میاں بیوی کے جھگڑوں کی کالز۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ PID

اس وقت تک صحافیوں میں یہ بات پھیل چکی تھی کہ پانچ جنوری کے اجلاس میں فوجی عدالتوں کی منظوری مشکل ہے۔

پیپلز پارٹی نے ذوالفقار علی بھٹو کی سالگرہ کی وجہ سے ووٹنگ سے معذرت کر لی جبکہ مولانا فضل الرحمان نے اپنے اعتراضات اسمبلی میں داخل ہونے سے پہلے ہی پریس کانفرنس میں افشا کر دیے۔ وزیرِ اعظم نواز شریف تو چوہدری نثار کی تقریر کے بعد متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما کی تقریر کے دوران ہی ایوان سے رخصت ہو گئے۔

اگرچہ ایک طرف چوہدری نثار نے فوجی عدالتوں کے قیام کا بھرپور دفاع کیا تو دوسری طرف جمیعت علمائے اسلام (ف) کے مولانا فضل الرحمان نے واضح کیا کہ بل کی موجودہ شکل میں منظوری نہیں دی جا سکتی۔ ان کا موقف تھا کہ اس ترمیم کے ذریعے دینی مدارس کو مغرب کے کہنے پر نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ’چوہدری نثار، آپ سے بہتر تو سابق صدر پرویز مشرف تھے جنھوں نے کہا تھا کہ صرف دو فیصد مدارس ایسے ہیں جو دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہیں۔‘

فاورق ستار نے خوشی کا اظہار کیا کہ قوم اس بات پر اتفاق کرتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سانحہ پشاور کے بعد پاکستان کی جنگ تسلیم کیا جا رہا ہے۔ تاہم، مولانا فضل ارحمان نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’ایسے حالات میں یہ اب بھی ہماری جنگ نہیں ہے، امریکہ کی جنگ ہے۔‘ اس پر صحافیوں کا کہنا تھا کہ آل پارٹیز کانفرنس کے بعد ایسا لگتا ہے کہ مولانا صاحب کو اپنے حلقے سے شکایات آنا شروع ہو گئی ہیں۔

پیر کے اجلاس کے بعد لگتا ہے کہ ایک بات مزید واضح ہو گئی ہے اور وہ یہ کہ پشاور کے حملے کے بعد سیاسی قیادت میں جو اتفاق نظر آیا تھا، اب اس میں دراڑیں نظرآ رہی ہیں۔

اسی بارے میں