پانچ ملزمان کی سزائے موت کالعدم، رہائی کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے 9 دسمبر 2004 کو ان چار ملزمان کو پھانسی کی سزا سنائی تھی

پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں نے پیر کے روز انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے سزائے موت پانے والے پانچ ملزمان کی سزائیں کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نےسنہ 2002 میں امام بارگاہ پر حملے کے ملزمان کو انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے دی جانے والی سزائے موت کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انھیں فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کے جسٹس عباد الرحمان اور جسٹس قاضی محمد امین نے پیر کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کی جانب سے دہشت گردی کے جرم میں چار افراد کو دی جانے والی سزائے موت کے فیصلے کو غلط قرار دیتے ہوئے اسے کالعدم قرار دیا۔

جن چار ملزمان کی سزائے موت کو کالعدم قرار دیا گیا ہے ان میں حبیب اللہ، فضل حمید، طاہر محمود اور حافظ نصیر احمد شامل ہیں۔

ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے پھانسی کا سزائیں انصاف کے تقاضے پورے کیے بغیر سنائی گئی تھیں۔ لہذا چاروں ملزمان کو فوری طور پر باعزت رہا کیا جائے۔

واضح رہے کہ 26 فروری سنہ 2002 میں راولپنڈی میں امام بارگاہ شاہ نجف پر ایک خودکش حملہ ہوا تھا جس میں 11 افراد ہلاک اور 19 زخمی ہوئے تھے۔

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے 9 دسمبر 2004 کو ان چار ملزمان کو پھانسی کی سزا سنائی تھی۔

وکیل دفاع ملک رفیق نے عدالت کو بتایا کہ امام بارگاہ شاہ نجف پر خود کش حملہ کیا گیا تھا اور ان کے موکل کو شک کی بنیاد پر سزا دی گئی ہے۔

وکیل استغاثہ مرزا عثمان نے عدالت کو بتایا کہ یہ چار ملزمان خودکش حملہ آور کے سہولت کار تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام شواہد انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں پیش کیے گئے تھے۔

یاد رہے کہ اس مقدمے کی تفتیش کے دوران تفتیشی افسر انسپیکٹر راجہ ثقلین کو نامعلوم افراد نے گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔

سپریم کورٹ

دوسری جانب سپریم کورٹ نے قتل کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے شخص مظہر حسین کو ناکافی شہادتوں کی بنا پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ٹرائل کورٹ نے مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت میں پیش کیے جانے والی دستاویزات کی موثر طریقے سے جانچ پڑتال نہیں کی تھی۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سزائے موت سے متعلق عدالتی فیصلوں کے خلاف درخواستوں کی سماعت کی۔

کراچی کی سینٹرل جیل کے سپرنٹینڈنٹ نے عدالت کو بتایا کہ موت کی سزا پانے والے مجرم عبدالوحید 2013 میں پولیس کی تحویل سے فرار ہوگیا تھا جسے ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا۔

بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’سندھ کا اللہ ہی حافظ ہے‘۔ اُنھوں نے کہا کہ سندھ میں ملزم پولیس کی تحویل سے بھاگ جاتے ہیں یا پھر اُنھیں بھگادیا جاتا ہے۔

عدالت نے مجرم کی طرف سے دائر کی گئی درخواست کو خارج کر دیا اور کہا کہ اگر مجرم کو دوبارہ گرفتار کرلیا جائے تو وہ خود گرفتاری دے دے تو پھر وہ دوبارہ اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر سکتا ہے۔

اسی بارے میں