ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی فورسز کی فائرنگ سے چار افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان نے ورکنگ باؤنڈری پر فائرنگ کے واقعات پر بھارت سے احتجاج کیا ہے

پاکستان کے عسکری حکام کا کہنا ہے کہ ورکنگ باؤنڈری پر بھارت کی سرحدی فورسز کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کے نتیجے میں چار عام شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔

فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ظفر وال سیکٹر کے مختلف علاقوں میں بی ایس ایف کی جانب سے شہری آبادی پر بلا اشتعال فائرنگ سے بور چک کے رہائشی 18 سالہ نوجوان عظیم جبکہ سُخمل نامی گاؤں میں مبارک علی نامی شخص کی اہلیہ ہلاک ہو گئیں۔

فوج کی جانب سے جاری ہونے والے ایک دوسرے بیان کے مطابق سیالکوٹ کے شکر گڑھ سیکٹر میں بھارتی سرحدی فورس بی ایس ایف کی فائرنگ کے نتیجے میں دو عام شہری ہلاک ہو گئے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ شکر گڑھ کے گاؤں ُسکھمال، بکھی چک اور بھوری چک پر بھارتی فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں یہ ہلاکتیں ہوئیں۔

گذشتہ ایک ہفتے کے دوران سیالکوٹ کی ورکنگ باؤنڈری اور ایل او سی پر فائرنگ کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔

اس سے پہلے سنیچر کو ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر ظفر والے سیکٹر ہی میں فائرنگ کے واقعات میں دو بھارتی سکیورٹی اہلکاروں سمیت چار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

دونوں جانب کے حکام کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں پاکستان کی جانب ایک 13 سالہ بچی جبکہ بھارت کی جانب دو فوجیوں کے علاوہ ایک 14 سالہ بچی ہلاک ہوئے۔

سنیچر کو ہلاک ہونے والوں میں چک نیہلا کی رہائشی 13 سالہ سمیرا ہلاک جبکہ شکر گڑھ سیکٹر میں بھیکا چک کا رہائشی 8 سالہ مرسلین زخمی ہو گیا تھا۔

بھاتی فوجی حکام کے مطابق پاکستانی رینجرز نے وادی کشمیر کے کپوارہ سیکٹر میں بھارتی ٹھکانوں پر فائرنگ کی جس میں دو سکیورٹی اہلکار مارے گئے۔ اس واقعے کے بعد کپوارہ اور بارہمولہ کے سبھی سرحدی خطوں میں فوج کو اضافی سکیورٹی انتظامات کا حکم دیا گیا۔

31 دسمبر کو ورکنگ باؤنڈری کے شکر گڑھ سیکٹر میں بھارتی سرحدی فورسز اور چناب رینجرز کے درمیان فائرنگ کا تبادلے میں دو پاکستانی اور ایک بھارتی اہلکار ہلاک ہو گیا تھا۔

پاکستان نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے بھارت سے احتجاج کیا تھا۔ بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو بدھ کے روز دفتر خارجہ طلب کیا گیا اور بھارتی بارڈر سیکورٹی فورس کی جانب سے فائرنگ کی شدید مذمت کی گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان اور بھارت ایک دوسرے پر جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہیں

گذشتہ جمعے کو پاکستان کے وزیراعظم کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے رینجرز اہلکاروں کی ہلاکت کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے بھارتی وزیر خارجہ کو خط بھی لکھا تھا۔

خط کے متن کے مطابق:’اس افسوسناک واقعے سے کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری کے ساتھ امن وامان قائم رکھنے کے بارے میں دونوں ملکوں کے معاہدے کونقصان پہنچے گا۔‘

خیال رہے کہ پاکستان سکیورٹی حکام کے مطابق بھارت کی سرحدی فورس کے ایک پوسٹ کمانڈر نے فلیگ میٹنگ بلائی تھی اور جب رینجرز اہلکار اس میں شرکت کرنے پہنچے تو ان پر فائرنگ کر دی گئی اور اس واقعے میں رینجرز کے دو اہلکار ہلاک ہو گئے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان سیالکوٹ ورکنگ باونڈری اور لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کا سلسلہ سرحدوں پر کئی برس کے امن کے بعد 2013 میں شروع ہوا تھا۔

پاکستان کے ساببق فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف اور واجپائی کے دور اقتدار میں دونوں ملکوں نے سرحدوں اور عبوری سرحد یعنی لائن آف کنٹرول پر فائربندی کا معاہدہ 2003 میں ہوا تھا۔ لیکن اکثر اوقات سرحدوں پر فائرنگ ہوتی رہی اور ہر بار دونوں ملک ایک دوسرے کو جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا مرتکب ٹھہراتے ہیں۔

اسی بارے میں