سلمان تاثیر کی برسی کی تقریب پر حملے کا مقدمہ درج

تصویر کے کاپی رائٹ jupiter still
Image caption سول سوسائٹی کے اراکین نے گلبرگ تھانے میں اتوار کو ایف آئی آر کٹوانے کی کوشش کی لیکن پولیس نے مقدمہ درج نہیں کیا تھا

صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کی برسی کے موقع پر شمعیں روشن کرنے والے افراد پر حملے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

بی بی سی اردو کی صبا اعتزاز کے مطابق گلبرگ پولیس کے مطابق نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

تاہم پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کی برسی کے موقع پر شمعیں روشن کرنے والے سول سوسائٹی کے اراکین پر حملہ کرنے والوں میں سے چھ افراد کی نشاندہی ہو گئی ہے جن کو شام تک گرفتار کر لیا جائے گا۔

یاد رہے کہ یہ حملہ لاہور کے علاقے لبرٹی چوک میں اُس وقت کیا گیا جب سول سوسائٹی کے اراکین شمعیں روشن کرنے والے تھے۔

سول سوسائٹی کے اراکین نے گلبرگ تھانے میں اتوار کو ایف آئی آر کٹوانے کی کوشش کی لیکن پولیس نے مقدمہ درج نہیں کیا۔

خیال رہے کہ سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو سنہ 2011 میں اُن کے محافظ نے گولیاں مار کر اسلام آباد میں ہلاک کر دیا تھا۔

اتوار کو نامعلوم افراد نے اچانک سول سوسائٹی کے اراکین پر پتھر مارے اور ڈنڈوں سے حملہ کر دیا۔ حملہ آوروں نے سلمان تاثیر کے حق میں اُٹھائے گئے پوسٹر بھی پھاڑ دیے۔ اس حملے میں کئی افراد زخمی بھی ہوئے۔

پولیس کے موقع پر پہنچنے سے پہلے حملہ آور وہاں سے چلے گئے تھے۔ حملے آوروں کے جانے کے بعد سول سوسائٹی کے اراکین نے شمعیں روشن کیں اور طالبان کے خلاف نعرے لگائے۔

سلمان تاثیر کے بیٹے شہریار تاثیر کا کہنا ہے کہ حملے کے باوجود لوگ اُن کے والد کی برسی کے موقع پر موجود رہے۔

اِس موقع پر سماجی کارکن مدیحہ گوہر کا کہنا تھا کہ گذشتہ چار سالوں سے سلمان تاثیر کی برسی کے موقع پر شمعیں روشن کی جاتی ہیں لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ شدت پسندوں کی طرف سے حملہ کیا گیا ہے۔ اُن کے بقول ’یہ حکومت کو ایک پیغام ہے کہ آپ جو مرضی کر لیں ہم تو ڈٹے ہوئے ہیں۔‘

مدیحہ گوہر نے کہا کہ پولیس نے پیر کو سلمان تاثیر کے حق میں ہونے والے ریلی نکالنے سے منع کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’پولیس ہمیشہ اِنتہاپسندوں کی طرفداری کرتی ہے جبکہ ہم جیسے نہتے لوگوں کو کہا جاتا ہے کہ آپ خاموش ہو جائیں۔‘

اسی بارے میں