615 شدت پسندوں کے سروں کی قیمت مقرر

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption صوبائی حکومت نے شدت پسندوں کے نام نہیں بتائے ہیں

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا حکومت نے دہشت گردی کے واقعات میں ملوث 615 افراد کی فہرست تیار کی ہے جن کے سر کی قیمت کے لیے 76 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

پشاور میں آرمی پبلک سکول حملے کے بعد سے ملک میں جہاں نیا سکیورٹی پلان تیار کیا جا رہا ہے اس سلسلے میں صوبائی حکومت نے دہشت گردی میں ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے ان کے سر کی قیمت مقرر کی گئی ہے۔

صوبائی وزیر اطلاعات مشتاق غنی کے مطابق صوبائی حکومت نے اس سلسلے میں نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے جس میں615 ایسے افراد کی نشاندہی کی گئی ہے جو حکومت کو دہشت گردی کے مختلف واقعات میں مطلوب ہیں۔

مشتاق غنی نے ان افراد کے نام نہیں بتائے لیکن یہ کہا ہے کہ ان 615 افراد کے سر کی قیمت کے لیے حکومت نے 76 کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی میں ملوث افراد کے سر کی قیمت مختلف ہے۔

یہاں ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ شدت پسند تنظیموں کے اہم رہنما اور کارکن اس فہرست میں شامل ہیں۔ ان میں تین ایسے افراد ہیں جن کے سر کی قیمت ایک ایک کروڑ روپے رکھی گئی ہے جبکہ 15 شدت پسندوں کے سر کی قیمت پچاس پچاس لاکھ اور پھر اس طرح دیگر کے سر کی قیمت اس سے کم ہیں۔

مشتاق غنی کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت اپنی طرف سے تمام اقدامات کر رہی ہے لیکن اس کے لیے وفاقی حکومت کو بھی خیبر پختونخوا حکومت کی مدد کرنا ہوگی اور یہ مدد صرف زبانی کلامی نہیں بلکہ وفاقی حکومت کو اس کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

یاد رہے دو روز پہلے پشاور میں منعقد ہونے والی ایپکس کمیٹی کی اجلاس میں بھی دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لیے اہم فیصلے کیے گئے تھے۔ اس اجلاس میں پاکستان فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف شریک ہوئے تھے۔

انھوں نے فرنٹیئر کانسٹبلری کی استعداد بڑھانے کے لیے آرمی کی طرف سے چار ہزار اے کے 47 رائفل دینے کا اعلان کیا تھا۔

آرمی پبلک سکول اینڈ کالج پر حملے کو 22 روز ہو گئے ہیں لیکن پشاور سمیت صوبہ بھر میں اب بھی سوگ کی حالت ہے اور تمام تعلیمی ادارے بند ہیں۔

صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا ہے کہ تعلیمی ادارے 12 جنوری کو کھلیں گے لیکن اس سے پہلے حکومت تمام اداروں کی سکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لے گی اور اگر کہیں کوئی کمی واقع ہوئی تو پھر مزید چند روز تک تعلیمی ادارے بند رکھے جائیں گے۔

اسی بارے میں