مہمند ایجنسی سے تین لاشیں برآمد، شناخت نہیں ہو سکی

Image caption لاشیں ایجنسی ہیڈکوارٹر ہسپتال غلنئی میں پہنچا دی گئی ہیں لیکن تاحال ان کی شناخت نہیں ہو سکی

پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی کی تحصیل صافی سے منگل کے روز تین افراد کی لاشیں ملی ہیں جن کی شناخت نہیں ہو سکی۔

یہ لاشیں ایک چھوٹے دیہات کندرو خخ میں قبرستان کے قریب سے ملی ہیں۔ مہمند ایجنسی کی پولیٹکل انتظامیہ کے اہلکاروں کے مطابق تینوں افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا ہے۔

لاشیں ایجنسی ہیڈکوارٹر ہسپتال غلنئی میں پہنچا دی گئی ہیں لیکن تاحال ان کی شناخت نہیں ہو سکی۔ اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اس بارے میں مذید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے ان افراد کی عمریں بظاہر پچیس سے پینتیس سال کے درمیان ہیں۔

تاہم اکثر مقامی لوگ اس بارے کوئی بات نہیں کر رہے۔

مہمند ایجنسی میں کچھ عرصے سے صورتحال کشیدہ ہے۔ گزشتہ چند روز میں سکیورٹی فورسز اور محکمہ صحت کے ایک شخص کو دھماکے کر کے نشانہ بنایا گیا ہے جن میں ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔

گذشتہ ماہ مہمند ایجنسی میں یکہ غنڈ کے علاقے سے چھ افراد کی گولیوں سے چھلنی لاشیں ملی تھیں۔ ان افراد کی شناخت بھی نہیں ہو سکی تھی۔

دو ماہ پہلے نومبر کے مہینے میں خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے قریب نوشہرہ سے چار افراد کی بوری بند لاشیں ملی تھیں۔ ان میں دو افراد کی شناخت ہو سکی تھی۔

اکتوبر کے اوائل میں مہمند اور خیبر ایجنسی سے پانچ افراد کی لاشیں ملی تھیں۔ ان میں چار لاشیں خیبر ایجنسی کے علاقے جمرود اور تیراہ سے ملی تھیں جبکہ ایک لاش مہمند ایجنسی کے علاقے عمر زیی سے ملی تھی۔

اگرچے ان میں بیشتر افراد کی شناخت نہیں ہو سکتی لیکن مقامی سطح پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ان کا تعلق شدت پسندوں سے ہوتا ہے۔

اسی بارے میں