’پہلے کبھی اتنا شرمندہ نہیں ہوا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رندھی ہوئی آواز میں رضا ربانی بمشکل تین جملے ہی ادا کر پائے اور ان کا آخری جملہ ادھورا ہی رہ گیا

پاکستان کے ایوان بالا میں اکثریتی جماعت پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما رضا ربانی نے 21ویں آئینی ترمیم اور آرمی ایکٹ کی متفقہ منظوری کے بعد اپنے ردعمل میں کہا کہ جتنے وہ آج شرمندہ ہیں اتنا پہلے کبھی نہیں ہوئے۔

سینیٹ سے آئینی ترمیم کے بعد حزب اختلاف کی جماعت پیپلزپارٹی کی جانب سے ایوان میں اپنی تقریر کے آغاز پر ہی سینیٹر رضا ربانی آبدیدہ تھے۔

انھوں نے کہا ’مجھے اس سینیٹ میں تقریباً 10 سے 12 سال ہو چکے ہیں لیکن شاید جتنا شرمندہ میں آج ہوں شاید اس سے پہلے کبھی نہیں تھا۔‘

رندھی ہوئی آواز میں رضا ربانی بمشکل تین جملے ہی ادا کر پائے اور ان کا آخری جملہ ادھورا ہی رہ گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ووٹ پارٹی کی امانت تھی جو میں نے ادا کر دی اب آئندہ کا لائحہ عمل اوپر ہے، میں نے آج اپنے ضمیر کے خلاف ۔۔۔‘

اس کے بعد رضا ربانی اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکے اور تقریر مکمل کیے بغیر اپنی سیٹ پر بیٹھ گئے۔

نیشنل پارٹی کے سربراہ میر حاصل بزنجو نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ ترمیم ہماری ضرورت بھی تھی اور مجبوری بھی تھی۔

’ کیا ہمارے پاس اس کے علاوہ اور بھی کوئی چارہ تھا؟ ہم زیادہ خوش نہیں اور کسی پارلیمان کو اپنے ہاتھ کاٹ کر دینے میں خوشی ہوتی بھی نہیں مگر سوال یہ بھی ہے کہ کیا ہمارے پاس اس کے علاوہ بھی کوئی چارہ تھا۔ قانون بننے سے ریاستیں محفوظ نہیں ہوتیں ہمیں یہ بات سوچنی ہوگی کہ ہم اپنے 20 سے 25 سالہ رویہ بدلیں گے یا نہیں۔‘

انھوں نے سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکرسی کا نام لے کر کہا ’ایک بات یاد رکھیں اب ناکامی اور حیلے بہانے کی گنجائش ختم ہو چکی ہے، اس ترمیم کے بعد جب پوری قوم پارلیمان، حکومت اور اداروں کے پیچھے کھڑی ہے تو اب آپ کو ان کا مقابلہ کرنا ہوگا۔‘

اس سے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں آئینی ترمیم میں حصہ نہ لینے والی جماعت جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ سکیولر ذہن کے لوگ دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں لڑ سکتے لیکن مذہبی قوتیں امن کا پیغام دے کر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑیں گی۔

جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے قومی اسمبلی کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ متحدہ مجلس عمل میں شامل سیاسی جماعتوں اور تنظیمات مدارس کو بلائیں گے اور دیکھیں گے کہ ترمیمی بلوں میں ان کی جانب سے دی گئی تجاویز کو شامل کیا گیا یا نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ’پاکستان کو سکیولر پاکستان نہیں بننے دیا جائے گا‘

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو سکیولر پاکستان نہیں بننے دیا جائے گا۔ ’یہ ایک مذہبی ملک ہے اسلام کے نام پر قائم ہوا ہے۔‘

مولانا فضل الرحمٰن نے بتایا کہ وہ آئینی ترمیم کے مسودے سے’مذہب اور فرقے‘ کا لفظ نکالنے کے مطالبے سے دستبردار ہو گئے تھے۔

مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ انھوں نے فوجی عدالتوں کے قیام پر اتفاق کر لیا تھا تاہم ملک میں مذہبی اور غیر مذہبی کی جنگ چھیڑ دی گئی ہے اور ہم فوج کے حوالے ہوگئے ہیں۔

مولانا فضل الرحمن نے بتایا کہ وہ مذہب اور فرقے کے لفظ کو ہٹانے کے مطالبے سے دستبردار ہو گئے تھے تاہم حکومت نے ان کی جانب سے اس ترمیم میں زبان، قوم اور نسل کے الفاظ ڈالنے کا مطالبہ مسترد کر دیا۔

مولانا فضل الرحمٰن نے فوجی عدالتوں پر تنقید کی اور کہا کہ انھوں نے حکومت کو تجویز دی تھی کہ سپریم کورٹ کا کردار ہونا چاہیے تاہم اس پر اتفاق نہیں کیا گیا۔

کیا حکومت نے دباؤ میں آئینی ترامیم کی ہیں؟

اس سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ’یا تو یہ دباؤ میں ہوا ہے یا ہمارے صاحب ٹریپ ہوگئے ہیں۔‘

اسی بارے میں