لکھوی کی ضمانت پر کارروائی روکنے کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ممبئی حملے سازش کیس میں ضمانت کے بعد اسلام آباد کی پولیس نے لکھوی کو ایک شخص کے اغوا کے مقدمے میں دوبارہ گرفتار کرلیا تھا

پاکستان کی سپریم کورٹ نے اسلام آباد کی مقامی عدالت کو ممبئی حملے سازش کیس کے مرکزی ملزم ذکی الرحمن لکھوی کی اغوا کے مقدمے میں ضمانت کی درخواست پر کارروائی کرنے سے روک دیا ہے۔

یہ حکم سپریم کورٹ نے ممبئی حملوں کی سازش تیار کرنے کے مقدمے کے مرکزی ملزم ذکی الرحمن لکھوی کی نظر بندی ختم کرنے کے فیصلے کے خلاف وفاق کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کی سماعت کے دوران دیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر ذکی الرحمن لکھوی کی نظر بندی ختم ہونے اور جیل سے رہائی کے بعد اسلام آباد کی پولیس نے اُنھیں ایک شخص کے اغوا کے مقدمے میں دوبارہ گرفتار کرکے جیل بجھوا دیا تھا۔

ذکی الرحمن لکھوی کے وکیل نے اس مقدمے میں مقامی عدالت میں ضمانت کی درخواست دائر کر رکھی ہے جس کی سماعت سات جنوری کو ہوگی۔

جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دور کنی بینچ نے وفاق کی جانب سے ذکی الرحمن لکھوی کی نظربندی ختم کرنے کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست کی سماعت کی۔

اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاق کا موقف سنے بغیر ہی ملزم ذکی الرحمن لکھوی کی نظر بندی ختم کردی۔

اُنھوں نے کہا کہ وفاق کے وکیل نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے مقدمے کی تیاری کے لیے کچھ دنوں کی مہلت مانگی تھی لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے ذکی الرحمن لکھوی کی نظر بندی کے احکامات جاری کیے تھے۔

اُنھوں نے کہا کہ ذکی الرحمن لکھوی کی ایک اور مقدمے میں ضمانت کی درخواست بھی دائر کی گئی ہے اور اُنھیں خدشہ ہے کہ اُن کی نظر بندی کے خلاف وفاق کی طرف سے دائر اپیل کا فیصلہ ہونے سے پہلے ذکی الرحمن لکھوی کی ضمانت کی درخواست پر فیصلہ ہو جائے گا۔

عدالت نے وفاق کی طرف سے دیے گیے ان خدشات کی بنا پر اسلام آباد کی مقامی عدالت کو ذکی الرحمن لکھوی کی درخواست ضمانت پر سات جنوری کو کارروائی کرنے سے روک دیا۔

سپریم کورٹ نے نظر بندی ختم کرنے کے فیصلے کے خلاف وفاق کی درخواست پر ذکی الرحمن لکھوی کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ ملزم کو سنے بغیر اس درخواست پر فیصلہ نہیں دیا جا سکتا۔

دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ نے ذکی الرحمن لکھوی کی ضمانت منظور ہونے کے انسداد دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کے خلاف وفاق کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر بھی ملزم کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے دورکنی بینچ نے اس درخواست کی سماعت کی۔

اس مقدمے میں سرکاری وکیل چوہدری اظہر کا کہنا تھا کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ایک ایسے موقعے پر ذکی الرحمن لکھوی کی ضمانت منظور کی جب اس مقدمے میں 50 فیصد سے زائد سرکاری گواہوں کے بیانات قلم بند کیے جا چکے تھے۔

اُنھوں نے کہا کہ ملزم ذکی الرحمن لکھوی کا تعلق ایک کالعدم جماعت ہے اور وہ ایک بااثر شخصیت ہیں۔

سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ اُنھیں خدشہ ہے ذکی الرحمن لکھوی استغاثہ کے گواہوں پر اثرانداز ہوں گے۔

بینچ کے سربراہ نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ اس مقدمے کی سماعت میں پانچ سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے اور اس کو اپنے حتمی انجام تک پہنچانے میں اتنی تاخیر کیوں کی جارہی ہے۔

اس پر چوہدری اظہر کا کہنا تھا کہ اس مقدمے میں تاخیر اُن کی طرف سے نہیں بلکہ ملزمان کی وکلا کی طرف سے کی جا رہی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے اس مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرنے کی درخواستیں بھی دائر کی تھیں۔

عدالت نے ذکی الرحمن لکھوی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس درخواست کی سماعت ملتوی کر دی ہے۔

اسی بارے میں