صدرِ مملکت کے دستخط، 21 ویں آئینی ترمیم قانون میں شامل

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فوجی عدالتوں کے قیام کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ نے 21 ویں آئینی ترمیم کا بل منظور کیا

صدرِ پاکستان ممنون حسین نے ملک میں فوجی عدالتوں کے قیام کے لیے 21 ویں آئینی ترمیم کے مسودے پر دستخط کر دیے ہیں جس کے بعد یہ باضابطہ طور پر قانون کا حصہ بن گئی ہے۔

منگل کو ایوان بالا اور ایوان زیریں نے 21ویں آئینی ترمیم اور فوجی ایکٹ کے ترمیمی بل متفقہ طور پر منظور کیے تھے۔

قومی اسمبلی کے کل 342 اراکین ہیں، جن میں سے رائے شماری کے لیے ایوان میں حاضر 277 اراکین میں سے کسی نے بھی 21 ویں آئینی ترمیم کے خلاف ووٹ نہیں ڈالا جبکہ سینیٹ یعنی ایوان بالا کے کل 104 میں سے 78 رائے شماری کے مطابق ایوان میں حاضر تمام 77 اراکین نے اس کے حق میں ووٹ ڈالے۔

تاہم پاکستان تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور جمعیت علمائےاسلام ف نے آئینی ترامیم کی منظوری کے موقعے پر کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔

پی ٹی آئی کے اراکین قومی اسمبلی نے انتخابات میں دھاندلی کے معاملے کے باعث قومی اسمبلی کا بائیکاٹ کر رکھا ہے اور جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی کا موقف ہے کہ حکومت نےآئینی ترامیم میں ان کی تجاویز کو نظر انداز کیا ہے۔

آئینی ترامیم کے دونوں بلوں کی منظوری دینے والے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی نے اپنے تاثرات میں اس فیصلے کو مشکل اور مجبوری میں کیے جانے والا فیصلہ قرار دیا۔

یاد رہے کہ پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملے میں بچوں اور سکول اسٹاف سمیت ڈیڑھ سو افراد کی ہلاکت کے بعد تمام پارلیمانی جماعتوں نے 20 نکاتی قومی لائحہ عمل تیار کیا ہے جس کا مقصد ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہے۔

اسی بارے میں