بلوچستان میں تشدد اور فائرنگ کے نتیجے میں 6 ہلاکتیں

Image caption بلوچستان میں تشدد اور فائرنگ کے واقعات میں 6 ہلاکتیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے فضائیہ کے ایک اہلکار سمیت دو افراد کی تشدد زدہ لاشیں بر آمد ہوئی ہیں جبکہ صوبے کے دارالحکومت کوئٹہ اور آواران میں فائرنگ کے دو مختلف واقعات میں لیویز فورس کے ایک اہلکار سمیت چار افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے۔

پاکستانی فضائیہ کے ملازم کی لاش بدھ کے روز افغانستان سے متصل قلعہ سیف اللہ سے برآمد ہوئی ہے۔

قلعہ سیف اللہ میں انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ائیرفورس کے ملازم کو نامعلوم افراد نے گولی مار کر ہلاک کیا تھا۔ ہلاکت کے بعد اس کی لاش گوال اسماعیل زئی کے علاقے میں پھینکی گئی تھی۔ مارا جانے والا ایئر فورس کا اہلکار ان دس مغویوں میں شامل تھا جنھیں کوئٹہ اور ژوب کے درمیان سفر کے دوران قلعہ سیف اللہ سے اغوا کیا گیا تھا۔

اہلکار نے بتایا کہ ہلاک کیے جانے والے ائیر فورس کے ملازم کی جیب سے ایک پرچی ملی ہے جس کے مطابق اسے ہلاک کرنے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان نے قبول کی ہے۔

مغویوں میں سے دو افراد کو چھوڑ دیا گیا ہے جن میں ایک ڈرائیور اور ایک طالب علم شامل ہے۔

دوسری تشدد زدہ لاش کوئٹہ شہر کے اسپنی روڈ کے علاقے سے ملی۔ پولیس کے مطابق شکل و شبہات سے یہ کسی ازبک باشندے کی لاش معلوم ہوتی ہے ، جسے گلہ گھونٹ کر ہلاک کیاگیا ہے ۔

کوئٹہ ہی میں تشدد کے ایک اور واقعے میں سریاب کے علاقے کلی قمبرانی میں فائرنگ سے چار افراد ہلاک جبکہ دو زخمی ہوئے۔ سریاب پولیس کے مطابق ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد منشیات کے عادی تھے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ یہ واقعہ منشیات فروشوں کی آپس کی لڑائی کی وجہ سے پیش آیاہے ۔جس وقت ان افراد کی ہلاکت کا واقعہ پیش آیا اس دوران اس علاقے کے قرب و جوار میں پولیس کی ایک بڑی کارروائی جاری تھی ۔

پولیس حکام کے مطابق یہ کارروائی سریاب کے مختلف علاقوں میں مشتبہ افراد اور غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف کی گئی۔ اس کارروائی کے دوران 400 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں سے زیادہ تعداد غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی ہے۔

ادھر ضلع آواران میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں لیویز فورس کا ایک نائب رسالدار ہلاک ہوا ہے۔

آواران انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ لیویز فورس کے اہلکار سرکاری ملازمین کی تنخواہیں لا رہے تھے کہ مسلح افراد نے جھاؤ کے علاقے میں ان پر حملہ کیا ۔

اس حملے میں ایک نائب تحصیلدار اور لیویز فورس کے دو اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ حال ہی میں پاکستان میں لاپتہ بلوچ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار مسنگ بلوچ پرسنز نے بلوچستان کی حکومت کی جانب سے 2014 میں صوبے سے 164 لاشوں کی برآمدگی کے اعداد و شمار کو مسترد کر دیا ہے۔ تنظیم کے سربراہ نصراللہ بلوچ کا دعوی ہے کہ گذشتہ برس کے دوران کل 435 بلوچ لاپتہ ہوئے جبکہ 455 افراد کی تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوئیں۔

اسی بارے میں