72 کالعدم تنظیموں اور چند مدارس کی جانچ پڑتال

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption جائزہ اجلاس جمعے کو وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار احمد خان کی سربراہی مییں منعقد ہوا (فائل فوٹو)

پاکستان کی وزارت داخلہ نے تصدیق کی ہے کہ ملک میں چند مدارس کے دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ روابط کا جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ 72 کالعدم تنظیموں کی بھی چانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔

انسداد دہشت گردی کے لیے قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد سے متعلق ایک جائزہ اجلاس جمعے کو وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار احمد خان کی سربراہی مییں منعقد ہوا جس میں قومی سلامتی کے ادارے نیکٹا حکام نے بھی شرکت کی۔

وفاقی وزرات داخلہ سے موصول ہونے والے تحریری بیان کے مطابق اجلاس کو بتایا گیا کہ کالعدم تحریک طالبان سے منسلک اور ان کے خاموش ساتھیوں یا سلیپرز کا پتہ چلانے کا عمل جاری ہے اور اب تک صرف صوبہ پنجاب میں 95 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

وزارت داخلہ نے 72 تنظیموں کو کالعدم قرار دیا ہے اور اس ضمن میں یہ پتہ لگانے کے لیے ایک جامع تجزیہ کیا جا رہا ہے کہ ’ کالعدم تنظیموں میں سے کتنی متحرک ہیں، کسی اور نام سے کام کر رہی ہیں یا اس سے بھی اہم کہ ان میں سے کتنوں کے مسلح دھڑے ملک یا ملک سے باہر کام کر رہے ہیں۔‘

بیان کے مطابق ملک میں موجود 14 کڑور غیر تصدیق شدہ موبائل سمز میں سے 4 کڑور سموں کی تصدیق ہوگئی ہے۔

’باقی ماندہ 10 کڑور سموں کی تصدیق کے لیے 90 دن کا شیڈیول بنایاگیا ہے۔‘

اس موقعے پر وزیر داخلہ نے واضح طور پر کہا کہ 90 روز کی مدت گذر جانے کے بعد غیر رجسٹرڈ سموں یا ان کی متعلقہ کمپنی سے کوئی رعایت نہیں کی جائے گی۔

وزارت داخلہ کے مطابق چند مدارس کے دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ روابط کا پتہ چلا ہے اور مستقبل میں ان کے خلاف کارروائی کے لیے تین سطحوں پر چانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔

ملک میں روزانہ کی بنیاد پردہشت گرد عناصر کے خلاف کیے جانے والے سرچ آپریشنز کے بارے میں بتایا گیا کہ اب تک 2000 افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

دوسری جانب ملک کے مختلف علاقوں میں موجود افغان مہاجرین کی افغانستان واپسی کے لیے ان کی رجسٹریشن کا عمل جاری ہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق صرف پنجاب میں کل 7000 افغان مہاجرین کو رجسٹرڈ کیا گیا ہے جو اب تک رجسٹرڈ نہیں تھے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ دہشت گردی سے متعلق اطلاعات کے لیے قائم کی جانے والی خصوصی ہیلپ لائن 1717 پر گذشتہ نو دنوں میں 358 کالز موصول ہوئیں تاہم ان میں سے صرف 5 کالز مشکوک افراد سے متعلق تھی اور باقی پرینک کالز تھیں۔

وفاقی وزارت داخلہ کے بیان کے مطابق مسجدوں میں لاؤڈ سپیکر کے غلط استعمال اور شرانگیز مواد کو ضبط کرنے اور تلف کرنے کے لیے کمیٹیاں کام کر رہی ہیں۔

’صرف وفاقی دارلحکومت میں لاؤڈ سپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے پر 176 مقدمات درج کیے گئے ہیں اور 115 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔‘

.فوجی عدالتوں کو بھجوائے جانے والے مقدمات سے متعلق کہا گیا کہ 21 ویں آئینی ترمیم کے مطابق فوجی عدالتوں کے قیام کے لیے فوجی حکام اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مشاورت کا عمل جاری ہے تاہم وزارت کی جانب سے میڈیا میں فوجی عدالتوں کو بھجوائے جانے والی مقدمات کی تعداد کو مسترد کیا گیا ہے۔

’سپیڈی ٹرائل کورٹس کو مقدمات بھجوانے کے لیے صوبائی حکومتوں کو کہا جا رہا ہے کہ ’وہ کثیر الجہتی سکروٹنی نظام قائم کریں، جیسے وزارت دفاع کو بھجوانے سے قبل وفاقی سطح پر وزارت داخلہ دیکھے گی۔‘

وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ ایک جوائنٹ اینٹیلجیس ڈائریکٹریٹ بھی قائم کی جا رہی ہے جووزارت داخلہ کے اشتراک سے ملک کی تمام خفیہ اداروں کی نمائندگی کرے گی۔

وزیرداخلہ چوہدری نثار کے مطابق قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد سے متعلق جائزہ اجلاس آئندہ ہفتے سے روزانہ کی بنیاد پر ہوگا اور میڈیا اور عوام کو بھی اس سے آگاہ رکھا جائے گا۔