سینئیر صحافی شیخ سیلم اللہ انتقال کر گئے

پاکستان کے خیبر پختونخوا کے سینئیر صحافی اور خیبر یونین آف جرنلسٹس کے سابق صدر شیخ سلیم اللہ انتقال کر گئے ہیں۔

صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں انھوں نے وفات پائی۔ ان کا شمار نڈر اخبار نویسوں میں ہوتا تھا۔

شیخ سلیم اللہ نے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز اپنے والد شیخ ثناء اللہ کے انگریزی اخبار ’خیبر میل‘ سے کیا جو اس صوبے کا پہلا انگریزی روزنامہ بھی تھا۔

انھوں نے ’سب ایڈیٹر‘ کی حیثیت سے کام کا آغاز کیا اور بعد میں ترقی کرتے ہوئے ’نیوز ایڈیٹر‘ کے عہدے تک جا پہنچے۔

ان کا صحافتی کیریئر تقریباً 40 سال پر محیط رہا اور اس دوران وہ مختلف اخبارات کے ساتھ منسلک رہے۔

شیخ سلیم اللہ اسلام آباد سے شائع ہونے والے انگریزی اخبار ’پاکستان ابزرور‘ پشاور بیورو کے ساتھ بھی مختصر عرصہ تک مسنلک رہے۔

اس کے ساتھ ساتھ وہ پشاور سے شائع ہونے والا انگریزی اخبار ’دی فرنٹیر سٹار‘ کے مدیر بھی رہے۔

شیخ سلیم اللہ صحافتی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ کارکن صحافیوں کے حقوق کےحوالے سے بھی خاصے سرگرم رہے۔

وہ ایسے وقت میں پشاور کے صحافیوں کی نمائندہ تنظیم خیبر یونین جرنلسٹس کے صدر تھے جب ملک میں مارشل لا کا دور تھا۔ اس کے باوجود انھوں نے صحافیوں کے حقوق کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائی۔

شیخ سلیم اللہ پشاور پریس کلب کے جنرل سیکریٹری کے عہدے پر بھی فائز رہے ۔ ان کا خاندان اس صوبے میں انگریزی صحافت کا بانی بھی سمجھا جاتا ہے۔ وہ ایک شفیق استاد کے طور پر بھی شہرت رکھتے تھے۔

پشاور کے سینئیر صحافی اور انگریزی اخبار ’دی فرنٹیر سٹار‘ کے چیف ایڈیٹر حافظ ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ شیخ سلیم بے باک صحافی تھے جنھوں نے ساری زندگی صحافت کے لیے وقف کر رکھی تھی۔

ادھر ملک بھر سے صحافیوں نے شیخ سلیم اللہ کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے سینئیر صحافی اور انگریزی اخبار ’دی نیوز‘ کے گروپ ایڈیٹر شاہین صہبائی نے سوشل میڈیا پر جاری ایک پیغام میں کہا ہے کہ شیخ سلیم اللہ ان کے پہلے استاد تھے جنھوں نے انھیں پروف ریڈنگ سکھائی۔

شیخ سلیم اللہ چند سال پہلے پشاور چھوڑ کر لاہور منتقل ہوگئے تھے۔ انھوں نے اپنے پیچھے بیوہ، دو بیٹوں اور ایک بیٹی کو سوگوار چھوڑا ہے۔

اسی بارے میں