پہلے مرحلے میں ملک میں نو فوجی عدالتیں قائم ہوں گی: فوج

Image caption ملک میں نو فوجی عدالتیں قائم کر دی گئی ہیں، آئی ایس پی آر

پاکستانی فوج کے مطابق ملک میں فوجی عدالتوں کے قیام کا آغاز ہوگیا ہے جو جلد ہی عملی طور پر کام شروع کر دیں گی۔

افوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری ہونے والے تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ابتدائی طور پر ملک بھر میں نو فوجی عدالتیں قائم کی جا رہی ہیں۔‘

آئی ایس پی آر کے مطابق خیبر پختونخوا اور پنجاب میں تین تین عدالت جبکہ سندھ میں دو اور بلوچستان میں ایک فوجی عدالت قائم کی گی ہے۔

یاد رہے کہ پشاور میں آرمی پبلک سکول پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد ملک کی سیاسی جماعتوں نے انسداد دہشت گردی کے لیے 24 دسمبر کو ایک 20 نکاتی قومی ایکشن پلان کا اعلان کیا تھا۔

اان 20 نکات میں سے ایک نکتہ ملک میں فوجی افسران کے ماتحت ’سپیشل ٹرائل کورٹس‘ بنانا بھی تھا۔

فوجی عدالتوں کے قیام کے لیے ملک کی سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے طویل مشاورت کی جس کے بعد 6 جنوری کو ملک کے آئین میں 21ویں ترمیم اور آرمی ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے فوجی عدالتوں کے قیام کی منظوری دی گئی ہے۔ تاہم سیاسی جماعتوں نے اسے ملک کے غیر معمولی حالات میں ایک ناگزیر ضرورت اور مجبوری سے تعبیر کیا ہے۔

ملک کی مذہبی سیاسی جماعتوں نے اس آئینی ترمیم کی منظوری کے موقع پر سینٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاسوں کا بائیکاٹ کیاتھا اور اب متحدہ مجلس عمل میں شامل تمام جماعتیں جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی سربراہی میں 22 جنوری کو قومی کانفرنس منعقد کریں گی۔

یاد رہے کہ اس سے قبل 90 کی دہائی میں فوجی عدالتوں کے قیام کو ملک کی عدالت عظمیٰ نے کالعدم قرار دے دیا تھا۔

اسی بارے میں