فوجی عدالتیں، سوالات اور دائرہ کار

Image caption عدالتوں کے قیام کے لیے فوج کی تیاریاں مکمل ہیں: وزیرِ قانون پرویز رشید

پاکستان کے وفاقی وزیر قانون پرویز رشید نے کہا ہے کہ فوجی عدالتوں کے لیے فوجی حکام کی تیاری مکمل ہے اور عدالتوں کی کارروائی چند ہی روز میں شروع ہو جائے گی۔

وفاقی وزیر قانون کے مطابق صدر مملکت کے دستخط کے بعد قانونی تقاضے پورے ہو گئے ہیں اور فوجی عدالتوں کے لیے ہوم ورک مکمل ہے۔

’دوسرا مرحلہ عملدرآمد کا ہے، چیف آف آرمی سٹاف نےایک اجلاس میں بتایا تھا کہ فوج میں قوانین سے واقف افراد کو چن لیا گیا ہے۔‘

مذہبی سیاسی جماعتوں کا اختلاف

ترمیم شدہ آرمی ایکٹ میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ سیاسی جماعتوں سے متعلق مجریہ 2002 آرڈر کے تحت موجود مذہبی یا سیاسی جماعت کے خلاف کارروائی نہیں کی جاسکے گی، تاہم اسی آرڈر پر پوری اترنے والی پاکستان کی مذہبی سیاسی جماعتیں انسداد دہشت گردی کے لیے آئینی ترامیم کو جمہوریت پر خودکش حملہ قرار دے رہی ہیں۔

سابقہ متحدہ مجلس عمل کی مذہبی جماعتوں کا یہ گٹھ جوڑ حکومت کی اپنی ہی اتحادی جماعت کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی کوششوں کے بعد سامنے آیا ہے اور 22 جنوری کو یہ جماعتیں لاہور میں قومی کانفرنس منعقد کریں گی۔

فضل الرحمٰن کا موقف ہے کہ اگر حکومت نے 21ویں آئینی ترمیم اور فوجی ایکٹ میں ترمیم کے لیے مذہب اور فرقے کا لفظ ڈالنا ہی تھا تو وہ ساتھ میں زبان، قوم اور دیگر وجوہات کی بنا پر ریاست کے خلاف دہشت گردی کرنے والوں کا حوالہ بھی شامل کرتی۔ حکومت نے ایسا کر کے مذہب کو نشانہ بنایا ہے؟

وہ کیا وجوہات ہیں جن کی بنا پر حکومت اپنی اتحادی جماعت کو ناراض کرنے پر مجبور ہوئی؟

اس سوال کے جواب میں وزیرقانون پرویز رشید نے کہا کہ تکنیکی طور پر یہ بات واضح ہے کہ پاکستان کی پارلیمان میں جمیعت علمائے اسلام (ف) سمیت کسی جماعت نے آئینی ترمیم کے خلاف ووٹ نہیں ڈالا۔ ان کے مطابق حکومت اس قانون کو محدود رکھنا چاہتی ہے، اس کا پھیلاؤ نہیں چاہتی۔ وہ کہتے ہیں کہ اس وقت پاکستان جس سب سے بڑی دہشت گردی کا شکار ہو رہا ہے وہ مذہب اور اسلام کے نام پر ہے۔

’دیگر لوگوں نے نہ کبھی کسی مسجد، سکول یا گرجا گھر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فوجی ایکٹ اور آئین ممیں ترمیم کے مطابق مذہبی اور سیاسی دونوں جماعتوں کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمات نہیں چل سکتے تاہم مولانا فضل الرحمٰن نے پارلیمنٹ کے اس اقدام کو جمہوریت پر خودکش حملہ قرار دیا ہے

سینئیر صحافی اور تجزیہ نگار ضیاالدین کہتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمٰن اور دیگر مذہبی جماعتیں اس وقت سیاسی بیان دے رہی ہیں، اندر خانے انھوں نے فوجی عدالتوں کے لیے ہونے والی آئینی ترامیم کے خلاف ووٹ نہیں دیا، مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنے حلقوں میں موجود ان مدارس کے خلاف نہیں کھڑے ہو سکتے جو بیرونی ممالک کی امداد سے چل رہے ہیں۔

’ان کو پتہ ہے کہ فوجی عدالتوں میں جو مقدمات جائیں گے وہ انہی کے طالب علموں کے جائیں گے اور انہی کے مدارس پر پابندی لگے گی۔‘

فوجی عدالتوں کے خلاف اپیل

نئی آئینی ترمیم میں اگر مولانا فضل الرحمٰن اور ان کے ہمنوا جماعتوں کے مطالبے کے مطابق دیگر گروہوں کے نام بھی شامل کر لیے جاتے تو ایسے میں عملی طور پر کیا صورتِ حال بنتی؟

قانونی ماہر سلمان اکرم راجہ سمجھتے ہیں کہ ایسی صورت میں مقدمات کی تعداد بہت زیادہ ہو جاتی اور حکومت کے لیے مشکل صورت حال پیدا ہو سکتی تھی۔ تاہم وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ وفاقی حکومت جب دہشت گردی کے چند مقدمات فوجی عدالتوں کو بھجوائے گی تو سوالات ان پر بھی اٹھیں گے۔

’تعین حکومت کو ہی کرنا ہے کہ کون سا مقدمہ مذہب اور فرقے سے متعلق دہشت گردی سے ہے اور جب حکومت فیصلہ کرے گی اور مقدمہ بھیجے گی تو فوجی عدالتیں مقدمہ سنیں گی، لیکن جو حکومت کا منتخب کرنے کا عمل ہو گا اس کے حوالے سے بھی شکوک اور سوال اٹھیں گے کہ تمام دہشت گردی کے مقدمات جو ’مذہب اور فرقے‘ سے منسلک ہیں ان میں سے کچھ کو کیوں بھیجا جا رہا ہے اور کچھ کو کیوں چھوڑا جا رہا ہے۔‘

90 کی دہائی میں سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کو کالعدم قرار دیا تھا تاہم اس وقت آئینی ترمیم کے بجائے صدارتی آرڈینینس کا استعمال ہوا تھا۔

اگرچہ پارلیمنیٹ کے اراکین نے فوجی عدالتوں کے لیے منظور کی جانے والی آئینی ترامیم کو مجبوری قرار دیا ہے، تاہم قانون ماہرین کی بڑی تعداد ایسی ہے جس کا موقف یہ ہے کہ یہ ترامیم غلط ہیں اور موجودہ آئینی نظام کے مقابل ایک متوازی نظام قائم کیا گیا ہے۔

تاہم سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس سعید الزمان صدیقی کہتے ہیں کہ بادی النظر میں نئی آئینی ترمیم اور فوجی ایکٹ میں ترمیم میں ملزمان کے لیے تحفظ بھی دکھائی دیتا ہے اورسب سے اہم یہ ہے کہ یہ محدود عرصے کے لیے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ اسے سپریم کورٹ میں چیلینج بھی کیا جاسکتا ہے لیکن اس کے لیے ثابت کرنا ہوگا کہ یہ آئین کی کسی شق سے متصادم ہیں یا انسانی حقوق کے مخالف ہیں۔

’1997 میں سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کو کالعدم قرار دیا گیا تھا لیکن موجودہ ترمیم سے بظاہر یہ لگتا ہے کہ اس میں سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا لحاظ رکھا گیا ہے۔‘

دوسری جانب سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس وجیہ الدین کہتے ہیں کہ آئینی تحفظ کے باوجود فوجی عدالتیں موجود عدالتوں کے متوازی ہی ہیں۔ اس سلسے میں تجویز بھی تھی کہ فوجی عدالتوں کے فیصلے کو سپریم کورٹ کے سامنے بھی محدود عرصے کے لیے رکھا جاتا لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

بہت سے قانونی ماہرین یہ توقع کر رہے تھے کہ فوجی افسران کے ماتحت قائم ہونے والی عدالتوں میں سول جج بھی شامل ہوں گے تاہم وفاقی وزیر قانون کے مطابق فوجی عدالتوں کو وسعت دی گئی ہے اور ان کا ڈھانچہ وہی ہو گا جو ایک عام فوجی عدالت کا ہوتا ہے یعنی ’یہ صرف فوجی افسران پر ہی مشتمل ہوں گی۔‘

مگر سوال یہ ہے کہ فوجی عدالتوں کے جیوری سسٹم میں آئین اور قانون سے لاعلم حاضر سروس افسران کیسے کسی کو انصاف مہیا کریں گے؟ اور اس کی شفافیت پر کس قسم کے سوال اٹھ سکتے ہیں؟

کرنل ریٹائرڈ محمد اکرم جو اس وقت سپریم کورٹ آف پاکستان میں بطور وکیل منسلک ہیں اور خود فوجی عدالتوں میں بطور افسر کام کرتے رہے ہیں، کہتے ہیں کہ اگر فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے فیصلے کے خلاف ’کورٹ آف اپیل‘ میں فوجی افسران کے بجائے ریٹائرڈ سویلین ججوں کو تعینات کر دیا جائے تو بہت سے تحفظات ختم ہو سکتے ہیں۔

کرنل(ر) محمد اکرام کے مطابق آرمی ایکٹ کے تحت ’فیلڈ جنرل کورٹ مارشل‘ ہی پاکستان میں جنگ اور عام حالات میں مقدمات چلاتا ہے: ’یہ عدالت کم سے کم تین افسران پر مشتمل ہوتی ہیں جن میں عام طور پر ایک لیفٹیننٹ کرنل اور ایک میجر شامل ہوتا ہے تاہم ان کی تعداد بڑھائی بھی جاسکتی ہے اور یہ جیوری کی طرح کام کرتی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بادی النظر میں فوجی عدالتوں کے لیے کی جانے والی ترامیم میں سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے کا لحاظ رکھا گیا ہے

انھوں نے بتایا کہ فوجی عدالت کی رہنمائی کے لیے جج ایڈووکیٹ جنرل موجود ہوتا ہے۔

آرمی ایکٹ کے تحت کسی بھی شخص پر الزام عائد ہونے کے بعد ایک کمانڈنگ افسر تمام تحقیقات کرتا ہے: ’اگر وہ سمجھتا ہے کہ الزامات اس نوعیت کے ہیں کہ کورٹ مارشل ہونا چاہیے تو پھر وہ ’سمری آف ایوڈینس‘ طلب کرتا ہے جس میں ملزم کا بیان، وکیل اور دفاع میں کوئی گواہ دینا چاہے وہ شامل ہوتے ہیں اور پھر جج ایڈووکیٹ جنرل ڈیپارٹمنٹ سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا الزامات ثابت ہوں گے یا نہیں اور اس عمل کو مقدمے سے قبل دی جانے والی تجویز قرار دیا جاتا ہے۔ ‘

وہ بتاتے ہیں کہ فوجی عدالت میں ملزم کو آئین پاکستان کی دفعہ 10 کے تحت یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنی مرضی کا وکیل مقرر کرے۔ تاہم مقدمہ چلنے کے بعد کورٹ اپنا فیصلہ دیتی ہے لیکن تحقیقات کے دوران جج ایڈووکیٹ موجود نہیں ہوتا اور سزا کے دوران موجود ہوتا ہے۔

’سزا پانےوالا مجرم 40 دن کے اندر کورٹ آف اپیل میں جا سکتا ہے جو فوج کے ماتحت ہوتی ہے، سزایافتہ مجرم جو آرمی چیف اور صدر کو اپیل کر سکتا ہے لیکن فوجی مقدمات میں ایسا بہت ہی کم ہوتا ہے کہ اپیل صدر تک پہنچے۔‘

دوسری جانب سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر جس (ر) طارق محمود کہتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں ایسے کیسز سامنے آنے کی توقع ہے جن میں نہ صرف فوجی عدالتوں پر سوالات اٹھائے جائیں گے کہ وہاں سے سزا پانے والے بھی سول عدالت میں جاکر فوجی عدالت کے فیصلوں کو چیلنج کریں گے۔

’فوجی عدالتوں کے فیصلوں خلاف اپیل تو میجر جنرل لیول کے فوجی افسر سن سکیں گے لیکن انفرادی مقدمات میں ہو سکتا ہے کہ لوگ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں جائیں اور عدالتوں کو غیر قانونی قرار دیں یا عدالتی کارروائی کو غلط قرار دینے کی اپیل کریں۔‘

پاکستان میں پہلی بار قانونی طور پر قائم ہونے والی فوجی عدالتوں کا قیام آغاز میں ہی متنازع تو بن گیا ہے تاہم ان آئینی ترامیم میں وفاقی حکومت کا کردار بہت اہم سمجھا جا رہا ہے کہ کیسے وہ شفافیت کو برقرار رکھے گی۔

لیکن سوال یہ بھی ہے کہ جہاں ایک قانونی مسودے میں ترمیم کی صورت میں مذہب اور فرقہ واریت کی بنیاد پر ریاست کی رٹ چیلنج ہونے کو پہلی بار تسلیم کیا گیا ہے اس پر مذہبی سیاسی جماعتوں کا اضطراب آنے والے دنوں میں کیا رنگ دکھا سکتا ہے؟

اسی بارے میں