’ہلاکتیں 62 ہوگئیں، لاشیں ناقابلِ شناخت‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ کہنا بھی مشکل ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں سے کتنے خواتین اور بچے ہیں کیونکہ لاشیں مکمل طور پر جل چکی ہیں: ڈاکٹر سیمی جمالی

پاکستان کے صوبہ سندھ میں کراچی کے قریب شکارپور جانے والی ایک مسافر بس اور آئل ٹینکر کے درمیان ٹکر کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 62 ہوگئی ہے اور تمام لاشیں ناقابلِ شناخت ہیں۔

کراچی کے جناح ہسپتال کی ترجمان ڈاکٹر سیمی جمالی نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جناح ہسپتال میں لاشوں کی تعداد 62 ہو گئی ہے اور یہ تمام 100 فیصد تک جل چکے ہیں اس لیے ان کی شناخت ناممکن ہے۔

انھوں نے بتایا کے چار افراد معمولی زخمی ہیں جنہیں طبی امداد کے بعد گھر بھیج دیا گیا تھا۔

ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا تھا کہ جو لاشیں ہسپتال لائی گئیں وہ مکمل طور پر جل چکی تھیں۔

ان کا مزید کہنا تھا ’یہ کہنا بھی مشکل ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں سے کتنی خواتین اور بچے ہیں کیونکہ لاشیں مکمل طور پر جل چکی ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ لاشوں کے ڈی این اے نمونے لے لیے گئے ہیں اور اسی کے ذریعے ہی شناخت ممکن ہے۔

ہمارے نامہ نگار حسن کاظمی کے مطابق اس سے قبل کمشنر کراچی شعیب احمد صدیقی نے حادثے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ یہ حادثہ سنیچر کی شب ساڑھے گیارہ بجے کے قریب گلشنِ حدید کو لانڈھی سے ملانے والی لنک روڈ پر کاٹھور پُل کے قریب پیش آیا اور مسافر بس کراچی سے شکارپور جا رہی تھی۔

شعیب احمد صدیقی کا کہنا تھا کہ آئل ٹینکر اوور ٹیک کرتے ہوئے سامنے سے آنے والی مسافر بس سے ٹکرا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ آئل ٹینکر کا ڈرائیور فرار ہوگیا ہے۔

اس علاقے کے تھانے میمن گوٹھ کے اے ایس آئی رب نواز جو جائے حادثہ کے قریب ہی واقع ایک پولیس چوکی پر موجود تھے اور اس واقعے کے عینی شاہد بھی ہیں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’تصادم کی آواز سن کر وہ موقع پر پہنچے تو بس کے ایک حصے میں آگ لگی ہوئی تھی۔ بس کی چھت پر سوار کچھ افراد نے چھلانگیں لگاکر اپنی جانیں بچائیں۔‘

رب نواز کے مطابق بس میں گنجائش سے زیادہ مسافر سوار تھے اور مرنے والے افراد کی لاشیں مکمل طور پر جل کر کوئلہ بن گئی ہیں اور کسی کی شناخت انتہائی مشکل عمل ہوگا۔

یاد رہے کہ 11 نومبر 2014 کو سندھ ہی میں خیرپور کے قریب ٹیڑھی بائی پاس پر مسافر بس اور ٹرالر میں تصادم کے نتیجے میں 59 افراد ہلاک اور 21 زخمی ہوگئے تھے۔

اسی حادثے کے بعد سندھ ہائی کورٹ سکھر میں حادثے کے خلاف شمس راجپر نامی وکیل نے ایک آئینی درخواست دائر کی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ قومی شاہراہ ایک بڑے عرصے سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے جس وجہ سے اس قسم کے خوفناک اور دردناک حادثات پیش آتے ہیں۔

اسی بارے میں