ایم کیو ایم کا کل بھی یومِ سوگ، ہڑتال مؤخر

تصویر کے کاپی رائٹ MQM
Image caption متحدہ قومی موومنٹ کے کارکن کراچی میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے چار لاشیں رکھ کر احتجاج کر رہے ہیں

پاکستان کے صوبے سندھ میں حزب اختلاف کی جماعت ایم کیو ایم نے یوم سوگ میں کل تک توسیع کر دی ہے لیکن کل دی گئی ہڑتال کا کال موخر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

کراچی سمیت سندھ کے بیشتر علاقوں میں اتوار کو کاروبارِ زندگی معطل رہا ٹرانسپورٹ اور دوکانیں بند تھیں۔

ادھر پولیس کی حراست میں مرنے والے ایم کیو ایم کے کارکن سمیت چار کارکنوں کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ہے۔

ایم کیو ایم کے رہنما حیدر عباس رضوی کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کی جانب سے کسی نے تعزیت نہیں کی ہے جس کی بنا پر سوگ کو جاری رہے گا۔

اس سے پہلے کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کہ جانب سے اپنے کارکنوں کی ہلاکتوں کے خلاف سندھ کے وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے لاشیں رکھ کر احتجاج کیا۔

ایم کیو ایم کے رہنما حیدر عباس رضوی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ان کے ایک کارکن فراز کو کھوکھراپار تھانےمیں مبینہ طور پر بدترین تشدد کا نشانہ بناکر مار دیا گیا۔

حیدر عباس رضوی کے مطابق فراز کو اٹھائیس دسمبر کو گرفتار کیا گیا تھا مگر اس کی گرفتاری تین جنوری کو ظاہر کی گئی۔ انہیں سات جنوری کو عدالت میں پیش کیا گیا تاہم جج نے فراز کے جسم پر تشدد کے واضع نشانات ہونے کے باوجود اس کا دو روزہ ریمانڈ دے دیا جس کے بعد آج اس کی ہلاکت کی خبر آئی۔

تئیس سالہ فراز کی صرف ڈیڑھ سال پہلے ہی شادی ہوئی تھی اور ان کا چھ ماہ کا ایک بیٹا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ MQM
Image caption وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے احتجاج کرنے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں

حیدر عباس رضوی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ماڑی پور روڈ سے اغوا کیے گئے سات افراد میں سے چار کو چھوڑ دیا گیا اور تین کی لاشیں ملی ہیں جن میں سے ایک ان کا کارکن تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاپوش کے علاقے میں دو ڈاکٹرز ، اکبر علی اور یاور حسین کوقتل کیا گیا جن میں سے ایک ان کے ہمدرد تھے اور ان کی جماعت سے تعلق رکھنے والے سابق یونین ناظم عبدالرؤوف کو بھی ہلاک کیا گیا ہے۔

حیدر عباس رضوی کے مطابق وہ ان چار افراد کی لاشیں وزیرِ اعلٰی ہاؤس کے سامنے رکھ کر احتجاج کررہے ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ فوری طور پر ایک عدالتی کمیشن قائم کیا جائے جو ان واقعات کی تحقیقات کرے۔

تصویر کے کاپی رائٹ MQM
Image caption ایم کیو ایم کا مطالبہ ہے کہ فوری طور پر ایک عدالتی کمیشن قائم کیا جائے جو ان واقعات کی تحقیقات کرے

حیدر عباس رضوی نے پولیس کی جانب سے کی گئی تحقیقات کو ناقابلِ قبول قرار دیا اور کہا کہ پولیس تو اس معاملے میں خود ہی ایک فریق ہے۔

دوسری جانب پولیس کے حکام نے متعلقہ تھانے کے عملے کو معطل کرکے محکمانہ تحقیقات شروع کردیں ہیں۔

اطلاعات کے مطابق وزیرِ اعلیٰ ہاؤس کی جانب سے متعدد بار مظاہرین سے رابطہ ہوا تاہم مظاہرین بضد ہیں کہ وزیرِ اعلیٰ خود مذاکرات کے لیے آگے آئیں۔

اسی بارے میں