’عمران خان دوبارہ گنتی کے نتائج تسلیم کرلیں‘

Image caption پرویز رشید کا کہنا تھا کہالیکشن ٹربیونل کی رپورٹ کے مطابق این اے 122 میں ایاز صادق کے ووٹ پہلے سے بڑھ گئے ہیں

پاکستان کے وفاقی وزیرِ اطلاعات پرویز رشید کا کہنا ہے کہ این اے 122 میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے نتائج کے مطابق ایاز صادق کے ہی ووٹ زیادہ ہیں اور انھوں نے عمران خان پر زور دیا کہ دوبارہ گنتی کے بارے میں الیکشن ٹریبونل کا فیصلہ تسلیم کریں۔

وفاقی وزیرِ اطلاعات نے اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ این اے 122 سے متعلق دو رکنی الیکشن ٹریبونل کی رپورٹ الیکشن کمیشن کو بھیج دی گئی ہے۔

پرویز رشید کا کہنا تھا کہ الیکشن ٹربیونل کی رپورٹ کے مطابق ایاز صادق کے ووٹ پہلے سے بڑھ گئے ہیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ دوبارہ گنتی سے اس حلقے میں عمران خان کے ووٹ پہلے سے بھی کم ہو گئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’کچھ لوگ جھوٹ بول کر قوم کو اذیت میں مبتلا کر رہے ہیں۔‘

وزیرِ اطلاعات پرویز رشید کا کہنا تھا ’جن چار حلقوں کے کھولنے کا مطالبہ کیا گیا تھا وہ کبھی بند تھے ہی نہیں۔‘

پرویز رشید نے کہا کہ رپورٹ کے مطابق عمران خان این اے 122 سے ہار گئے ہیں۔

انھوں نے عمران خان کو مخاطب کر کے کہا کہ ’سیاست کے لیے آپ کے پاس کا 2017 کا پورا سال پڑا ہے آپ ہماری حکومت پر خوب تنقید اور سیاست کر سکتے ہیں۔‘

رکنِ قومی اسمبلی دانیال عزیز کا اس موقعے پر کہنا تھا کہ دوبارہ گنتی کے عمل میں کئی ووٹ رد کیےگئے ہیں جن پر دستخط نہیں تھے یا کوئی اور نشان موجود تھا تاہم پھر بھی سبقت ایاز صادق ہی کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اس حلقے سے مسترد کیے جانے والے زیادہ تر ووٹ عمران خان کے ہی تھے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی جانب سے عائد کیا جانا والا 30ہزار جعلی ووٹوں کا الزام سراسر بے بنیاد تھا۔

وزیر مملکت انوشے رحمان بھی اس نیوز کانفرنس میں موجود تھیں۔ انھوں نے کہا کہ دوبارہ گنتی کے نتائج بھی تحریک انصاف کی شکست ثابت کر دی ہے لیکن اب وہ جوڈیشل کمیشن کے پیچھے چھپنا چاہ رہے ہیں۔

تحریکِ انصاف کا ردِ عمل

دوسری جانب وفاقی وزیرِ اطلاعات کے بیان پر پاکستان تحریکِ انصاف کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیریں مزاری نے ردِ عمل میں کہا ہے کہ پرویز رشید جھوٹ بول کر قوم کو گمراہ کرنے کا سلسلہ بند کریں۔

انھوں نے وضاحت کی کہ تحریکِ انصاف کے مطالبے پر ’این اے 122 میں ووٹوں کی گنتی کا نہیں بلکہ نتائج کی جانچ کا حکم دیا گیا ہے۔‘

پارٹی کی جانب سے جاری ایک بیان میں انھوں نے ایک بار پھر پارٹی موقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ ’این اے 122 میں تیس ہزار ووٹ جعلی ہیں۔ جبکہ بے ضابطگیوں میں ریٹرننگ افسران کا کردار بھی سامنے آیا ہے۔‘

شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ حلقےسے متعلق رپورٹ منظرِ عام پر آنے کا انتظار کیا جانا چاہیے۔

’اگر انتخابات شفاف ہیں تو حکومت دھاندلی کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کے قیام سے خوفزدہ کیوں ہے۔‘

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے جن چار حلقوں کو کھولنے اور ان کی دوبارہ گنتی کروانے کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے اس میں قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 122 بھی شامل ہے جہاں سے قومی اسمبلی کے سپیکیر ایاز صادق کامیاب قرار پائے تھے۔

ایاز صادق سنہ 2002 کے انتخابات میں بھی عمران خان کو اسی حلقے سے شکست دے چکے ہیں۔

اسی بارے میں