بلوچستان کے 29 اضلاع خشک سالی کا شکار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بلوچستان کی معیشت میں مویشیوں پر مبنی دیہی معیشت کا اہم کردار ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے 29 اضلاع بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے خشک سالی سے متاثرہوئے ہیں۔

بلوچستان اسمبلی کے اجلاسوں میں اراکین اسمبلی کی جانب سے خشک سالی کی نشاندہی اور میڈیا میں آنے والی رپورٹوں کے بعد بلوچستان حکومت نے خشک سالی کا جائزہ لینے کے لیے سروے کی ہدایت کی تھی۔

اب تک 32 اضلاع میں سے29 اضلاع کے بارے میں جو رپورٹ آئی ہے اس کے مطابق یہ 29 اضلاع خشک سالی سے متاثر ہیں۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل نورمحمد جوگیزئی کا کہنا ہے کہ اب تک ادارے کے پاس 29 اضلاع کے اعداد و شمار آئے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ان اضلاع کی آبادی مختلف پہلوؤں سے خشک سالی سے متاثرہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان اضلاع میں خشک سالی ایک مسئلہ ہے جبکہ کچھ اضلاع میں اس کے اثرات زیادہ ہیں اور کچھ میں کم۔

ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ خشک سالی سے جانوروں اور مویشیوں کے علاوہ زراعت کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’کچھ علاقے ایسے ہیں کہ جہاں مال مویشی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ بلوچستان کی معیشت میں مویشیوں کا حصہ 45 فیصد ہے جو کہ دیہی معیشت کا بڑا حصہ ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’ژوب میں کاکڑ خراسان، سبی میں یونین کونسل گشگور کے علاوہ نوشکی میں بعض ایسے علاقے ہیں جہاں سے لوگ بہتر مقامات کی تلاش میں نقل مکانی بھی کر رہے ہیں۔‘

نورمحمد جوگیزئی نے بتایا کہ اس صورتحال سے بلوچستان حکومت کو آگاہ کردیا گیا ہے۔

بلوچستان اس سے قبل بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے سنہ 1997 سے 2003 تک طویل خشک سالی کے دور سے دوچار ہوا تھا۔

سابقہ طویل خشک سالی کے دوران بلوچستان میں زراعت اور گلہ بانی کے شعبے بری طرح سے متائثر ہوئے تھے۔

اسی بارے میں