’وہ آزاد ہیں، دھمکیاں دے رہے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سکول کے مرکزی گیٹ سے اندر داخل ہونے میں ایک چھوٹے سے احاطے میں خود کو تقریباً چاروں اطراف سے ان بچوں کے درمیان محسوس کرتے ہیں جو طالبان کے قتل عام کا نشانہ بنے جس سے ماحول مزید سوگوار ہو جاتا ہے

پشاور میں طالبان کے حملے کا نشانہ بننے والے آرمی پبلک سکول میں ہلاک ہونے والے بچوں کی یادگار کے سامنے لوگ جہاں نم آنکھوں کے ساتھ افسوس اور غم کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں وہیں حملے کے بعد حکومتی اقدامات پر مایوسی کا اظہار بھی کرتے ہیں۔

آرمی پبلک سکول پہنچنے پر وہاں تعینات ایک مسلح فوجی جوان اپنے گرد کھڑے چند نوجوانوں کو اپنے رائفل کے بارے میں بتا رہا تھا۔ گاڑی کھڑی کرنے اور ایک دو لوگوں سے بات کرنے پر متوجہ ہوا اور فوراً پوچھا کہ ’آپ لوگ کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں؟‘

شناخت کرانے پر کہا کہ اپنے افسر سے پوچھ کر بتاتا ہے کہ میڈیا کو اندر جانے کی اجازت ابھی ہے کہ نہیں۔ اسی دوران اس کے وائرلیس پر پیغام آتا ہے کہ چوکس رہنا ’فائرنگ ہو رہی ہے۔‘ اس پر فوجی جوان نے ہماری طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا ’روجر‘۔

سکول کے مرکزی گیٹ سے اندر داخل ہونے میں ایک چھوٹے سے احاطے میں خود کو تقریباً چاروں اطراف سے ان بچوں کے درمیان محسوس کرتے ہیں جو طالبان کے قتل عام کا نشانہ بنے جس سے ماحول مزید سوگوار ہو جاتا ہے۔

اس احاطے میں خاندان، نوجوان وقفے وقفے سے اب بھی آ رہے ہیں اور دیواروں کے سامنے کھڑے ہو کر ہلاک ہونے والے بچوں کی مسکراتی ہوئی تصاویر کے سامنے گویا ان سے ہی اظہار تعزیت کرتے نظر آتے ہیں۔

تاج محمود ملک بھی اپنے پوتیوں اور پوتوں کے ساتھ یہاں آئے تھے۔ تاج محمود ملک کی دو پوتیاں آرمی پبلک سکول میں ہی پڑھتی ہیں اور ان کی رہائش گاہ اس سکول کے آڈیٹوریئم کے بالکل سامنے واقع ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’جتنی خوفناک تباہی اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے اس کے بعد بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہوں ۔۔۔ سوچیں گے، دیکھیں گے۔ لیکن ہم نے ابھی کچھ عملی اقدامات ہوتے نہیں دیکھے ہیں‘

تاج محمود ملک نے سکول کی نئی تعمیر کردہ بلند دیواروں اور ان پر لگی خاردار تاروں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ ’نئے انتظامات ہو گئے ہیں‘۔ لیکن ان کے لہجے میں عدم اطمینان اور خوف واضح تھا۔

پیر کو سکول میں اپنے پیاروں کو دوبارہ بھیجنے کے سوال پر کہا ’دیکھتے ہیں، ہاں بھیجیں گے۔ خطرات اب بھی ہیں۔ ہمیں ابھی تک کچھ معلوم نہیں ہوا کہ حملہ آخر کیسے ہو گیا؟ جن لوگوں نے کیا، ان کے خلاف کیا اقدامات ہوئے؟ کچھ پتہ نہیں چل سکا۔ وہ لوگ تو اب بھی آزاد ہیں اور دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔‘

تاج محمود ملک نے غیر یقینی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’جتنی خوفناک تباہی اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے اس کے بعد بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہوں۔۔۔ سوچیں گے، دیکھیں گے لیکن ہم نے ابھی کچھ عملی اقدامات ہوتے نہیں دیکھے ہیں۔‘

ایک میز پر بچوں کی یاد میں چراغ روشن کرنے والے جواد عقیل بھی شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔

’ابھی تک کالعدم تنظیموں کے رہنما، ان کے ہمدرد کھلے عام گھوم پھر رہے ہیں، تو ہم خود کو کیسے محفوظ سمجھیں۔ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود آخر ان کو کیسے کھلا چھوڑا جا سکتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’ابھی تک کالعدم تنظیموں کے رہنما، ان کے ہمدرد کھلے عام گھوم پھر رہے ہیں، تو ہم خود کو کیسے محفوظ سمجھیں۔ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود آخر ان کو کیسے کھلا چھوڑا جا سکتا ہے‘

انھوں نے کہا کہ سکولوں کی دیواروں کو اونچا کرنے سے معاملات حل نہیں ہوں گے۔ ’اب قوم کچھ عملی اقدامات ہوتے دیکھنا چاہتی ہے اور ان کو نظر آنا چاہیے کہ اب عملی طور پر اچھے اور برے طالبان کی تمیز ختم ہو چکی ہے۔‘

کچھ فاصلے پر دو نوجوان دیواروں پر لگے پوسٹرز میں جیسے گم ہو گئے تھے۔ ان میں سے ایک نوجوان سہیل انور خان نے بتایا کہ وہ بی ایس سی کے طالب علم ہیں اور حملے کے بعد اکثر یہاں دعا کے لیے آتے ہیں۔ ’اگرچہ ہلاک ہونے والے بچوں میں میرا کوئی عزیز نہیں لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ سب ہمارے بھائی ہوں۔‘

سہیل کے رشتے دار تیمور خان کے مطابق شہروں میں شدت پسندی کے واقعات کی وجہ سے لوگ خوفزدہ ہیں۔

’ہمارے گاؤں کے ساتھ ایک دوسرے گاؤں بیغو خیل کا ایک بچہ اس واقعے میں ہلاک ہوا۔ اسی کے گاؤں کے ایک ٹیچر نے مشکل سے اپنے تبادلہ پشاور کرایا تھا تاکہ بچوں کو بہتر تعلیم مل سکے لیکن اس حادثے کے بعد اب وہ دوبارہ اپنے اہلخانہ کے ساتھ واپس چلا گیا ہے اور یہ اس وجہ سے کیا کیونکہ شاید ان کے خیال میں اب کوئی محفوظ نہیں ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’اگرچہ ہلاک ہونے والے بچوں میں میرا کوئی عزیز نہیں لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ سب ہمارے بھائی ہوں‘

سکول کے احاطے سے نکلتے وقت فائر بریگیڈ کی گاڑیوں سے دھول سے اٹے درختوں کو دھویا جا رہا تھا۔ اس کو دیکھ کی ایک صحافی دوست کی بات یاد آ گئی کہ ’ہم نے تو دفاعی انداز اپنایا ہوا ہے، شدت پسند تھانوں پر حملہ کریں، تو ان کی سکیورٹی بڑھا دو، سرکاری عمارتوں پر حملہ کریں تو ان کی سکیورٹی بڑھا دو، اب سکولوں پر تو ان کی سکیورٹی، یعنی فائر فائٹنگ کرتے رہو۔‘

شاید اسی وجہ سے پشاور کی ایک مرکزی سڑک سے گزرتے ہوئے اونچی دیواریں، ان کی حفاظتی چوکیاں ایک جیسا منظر پیش کرتی ہیں اور اسی میں اگر ایک عمارت پر لکھی تحریر کو غور سے نہیں دیکھیں تو شاید معلوم ہی نہ ہو پائے کہ یہ سینٹ میری سکول ہے۔

اسی بارے میں