’ہم دوستوں کی شناخت پین سے ہوجائے گی‘

Image caption ’میرا بھتیجا چھٹی جماعت میں زیر تعلیم ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ کیمرے اور حفاظتی باڑ لگائی گئی ہے اور دیواریں اونچی کردی گئی ہی‘

پشاور میں واقع آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد پہلی بار یہ سکول پیر کو دوبارہ کھلے گا لیکن اس سے ایک روز پہلے بھی یہاں لوگوں کا تانتا بندھا ہے۔

سکول میں زیر تعلیم والدین اور ان کے رشتہ داروں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے جو یہاں اس بات کی تصدیق چاہتے ہیں کہ سکول کی جانب سے سکیورٹی کے کیا انتظامات کیے گئے ہیں۔ آرمی پبلک سکول کے باہر ملنے والی ایسی ہی ایک خاتون عاصمہ فرید کا کہنا تھا ’میرا بھتیجا چھٹی جماعت میں زیر تعلیم ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ کیمرے اور حفاظتی باڑ لگائی گئی ہے اور دیواریں اونچی کردی گئی ہی۔‘

عاصمہ فرید کے بقول ان کے بھتیجے نے 16 دسمبر کی ہولناکی اپنی آنکھوں سے دیکھی۔ اُس بچے نے اپنے دوست کی ٹیچر کو جلتے ہوئے دیکھا ۔۔۔ وہ انتہائی صدمے میں ہے اور سکول جانے کوتیار نہیں۔‘

ان کے بقول ’اس بچے کو ہر وقت اپنے دوست یاد آتے ہیں۔ وہ سو نہیں پاتا۔ ہم اُس سے باتیں کرتے رہتے ہیں۔ وہ بتاتا ہے کہ حملے کے وقت جب میرا بھتیجا اپنے دوست کے ساتھ بھاگنے لگا تو اُس کے ہاتھ میں دو پین تھے۔ اس نے اپنے دوست سے کہا کہ ایک تم رکھ لو اور ایک میں۔ ہم دوستوں کی باڈی کی شناخت پین سے ہوجائے گی کہ یہ میرا دوست ہے۔‘

عاصمہ فرید نے بتایا کہ ’آرمی پبلک سکول کی جانب سے بچوں کو ’خوشی کی راہ‘ کے نام سے ایک گائیڈ بُک دی گئی ہے جس میں بچوں کی حوصلہ افزائی کے لیے پیغامات ہیں اور یہ کتاب کافی مفید ثابت ہورہی ہے۔‘

سکول میں زیر تعلیم بچوں کے والدین کے علاوہ یہاں پشاور شہر سمیت دیگر شہروں سے بھی لوگوں کا آنا جانا جاری ہے۔

Image caption پشاور سکول حملے میں ہلاک ہونے والےافراد کی یاد تازہ کرنے کے لیے وہاں آنے والے بعض لوگوں نے شمعیں جلائیں اور بعض آنسوؤں کے ساتھ ان کی مغفرت کے لیے دُعائیں کرتے نظرآئے

شمع نورین کا تعلق راولپنڈی سے ہے۔ وہ خصوصی طور پر آرمی پبلک سکول دیکھنے کے لیے آئی تھیں۔ ہلاک ہونے والے بچوں کی ماؤں کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے نم آنکھوں کے ساتھ انہوں نے کہا ’میرے بچے راولپنڈی کی درسگاہوں میں زیر تعلیم ہیں لیکن وہ ڈر و خوف کی وجہ سے اپنے سکول جانے کو تیار نہیں۔‘

انھوں نے حکومت سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ’خدارا ملک میں امن قائم کرنے کے لیے اقدامات کریں۔‘

پشاور کے آرمی پبلک سکول پرحملے کے دوران سکول کی جن دیواروں کو نقصان پہنچا تھا ان کی مرمت کردی گئی ہے اور سکول کے بیرونی احاطے کی دیواروں کو کئی فُٹ اونچا کرکے اُن پر باڑیں لگادی گئی ہیں۔

فی الوقت آپ کو سکول کے باہر ایک گارڈ اور ایک واک تھرو گیٹ سمیت چند رکاوٹیں نظر آئیں گی۔ لیکن پیر کے روز سکول کے باقاعدہ آغاز سے قبل ہونے والی تقریب کے لیے زور و شور سے تیاریاں جاری ہیں۔

سکول کے بیرونی احاطے میں داخل ہوں تو دیوار کے چاروں جانب پشاور سکول حملے میں ہلاک ہونے والے طلباء کی تصاویر کے ساتھ ملک بھر کی مختلف سیاسی جماعتوں، اداروں، تنظیموں اور مختلف سکولوں کے طلبا کی جانب سے پھولوں کے گلدستوں رکھے ہیں اور اس کے علاوہ تعزیتی مگر حوصلہ افزا پیغامات بینر کی صورت میں لگے ہیں۔

پشاور سکول حملے میں ہلاک ہونے والےافراد کی یاد تازہ کرنے کے لیے وہاں آنے والے کچھ لوگوں نے شمعیں جلائیں اور کچھ آنسوؤں کے ساتھ ان کی مغفرت کے لیے دُعائیں کرتے نظرآئے۔

اسی بارے میں