اندھیرا تو بزدل ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اندھیرا جتنا بھی گھپ ہو بھلا دیے کے آگے تھوڑی ٹھہر سکتا ہے

بے شمار پیارے بیٹے بیٹیو،

مجھے معلوم ہے کہ چھٹیوں کے بعد پہلے دن سکول جانا اکثر بچوں کو اچھا نہیں لگتا۔ مجھے بھی نہیں لگتا تھا۔ لیکن جب بہت دن بعد اپنے ساتھیوں اور ٹیچروں سے ملاقات ہوتی تھی تو اچھا لگتا تھا۔ مجھے یقین ہے کہ تمھیں بھی کل سکول جا کے بہت اچھا لگے گا۔

ہاں تم میں سے بہت سوں کے ابا اماں پہلے دن سکول بھیجتے ہوئے پریشان ہوں گے۔ طرح طرح کے خدشات ہوں گے ان کے دل میں۔ تو تم اپنے ممی پاپا اور ابا اماں سے کہہ دو کہ جب ہم نہیں ڈر رہے ہیں تو آپ کاہے کو ڈر رہے ہیں۔ ہم تو آپ کی خون پسینے کی کمائی سے روشنی خریدنے جارہے ہیں۔اس روشنی سے وہ سب بھوت بھاگ جائیں گے جو روشنی سے ڈرتے ہیں۔ زندگی سے ڈرتے ہیں۔

ارے ! میں شاید کچھ غلط کہہ گیا۔ یہ بھوت ووت کچھ نہیں ہوتا۔ اندھیرے میں تو کوئی بھی آدمی بھوت نظر آ سکتا ہے۔اسی لیے تو روشنی ضروری ہے تاکہ سب ایک دوسرے کو پہچان لیں۔ مگر اس کے لیے صرف باہر ہی نہیں دماغ کے اندر بھی موم بتی روشن کرنا پڑتی ہے اور ہم سکول اسی لیے تو جاتے ہیں۔ جب تمہارا سر اندر سے روشن ہوجائے گا تو باہر بھی سب روشن روشن سا لگے گا۔ آیا کچھ اس چھوٹی سی کھپڑیا میں!

حالانکہ میں کبھی تمہارے سکول نہیں گیا پھر بھی مجھے معلوم ہے کہ تمہارے سکول میں خصوصاً تمہاری کلاس میں کچھ بچے طوطے کی طرح باتونی ہیں اور کچھ خاموش خاموش سے رہتے ہیں۔ چند بچوں کا پڑھنے میں جی لگتا ہے اور بہت سوں کو کھیلنے کودنے میں زیادہ مزہ آتا ہے۔ تمہارے چند ساتھی بہت شرارتی ہیں اور کچھ اپنے آپ میں مست رہتے ہیں۔ کچھ بہت ضدی ہیں تو کچھ فرمانبردار۔

تم میں سے زیادہ تر بچے مار پیٹ بالکل پسند نہیں کرتے مگر تمہارے ہی ساتھ کے کچھ بچے خامخواہ اڑنگا لگا کے دوسروں کو گرانے اور اپنا رعب جمانے میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔ یہ بچے کبھی کبھی ٹیچروں کے لیے بھی دردِ سر بن جاتے ہیں اور کچھ کو ان کی حرکتوں پر سزا ملتی ہے۔ مگر تم میں سے بہت سوں کو شاباشی بھی تو ملتی ہے۔

پیارے بیٹے بیٹیو!

Image caption سب سے اچھی بات یہ ہے کہ علم کی روشنی کی لوڈ شیڈنگ نہیں ہوسکتی، نہ ہی اس کا بل آتا ہے اور یہ روشنی بانٹنے سے کم نہیں ہوتی بلکہ بڑھتی ہی چلی جاتی ہے

یہ دنیا بھی بالکل تمہارے کلاس روم کی طرح ہے۔ جب تم چند سال میں بڑے ہوکر عملی زندگی میں قدم رکھو گے تو اچھائی اور برائی میں زیادہ بہتر فرق کر سکو گے۔ تمہیں بھانت بھانت کے لوگوں سے مل کے اندازہ ہوگا کہ کوئی مذہب، نسل، رنگ، قوم، ملک اچھا یا برا نہیں ہوتا۔ اچھائی اور برائی آدمی میں ہوتی ہے اور اسے پہچاننا بہت ضروری ہے۔

مگر بچو، برے کو صرف برا کہنے سے تو کام نہیں چلتا۔ تمہیں برے لوگوں کی مدد بھی تو کرنی ہوگی۔ وہ ایسے کہ ان کے ساتھ روشنی بانٹنی ہوگی۔ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ علم کی روشنی کی لوڈ شیڈنگ نہیں ہوسکتی، نہ ہی اس کا بل آتا ہے اور یہ روشنی بانٹنے سے کم نہیں ہوتی بلکہ بڑھتی ہی چلی جاتی ہے اور ایک بار جسے اس روشنی میں رہنے کا چسکہ پڑ جائے تو وہ اندھیرے سے ہمیشہ دور بھاگتا ہے۔

ہاں! اس زندگی میں اونچ نیچ، حادثے اور آفات تو آتے ہی رہتے ہیں مگر ان سے گھبرا کے کوئی چھپ تھوڑی جاتا ہے۔ایسا ہوتا تو اس وقت ہم میں سے اکثر لوگ کسی نہ کسی وجہ سے کبھی گھروں سے باہر ہی نہ نکلتے اور اندھیرا کرکے بیٹھے رہتے۔نا ۔۔۔ بالکل نہیں۔۔۔جو ڈر گیا وہ مرگیا۔

اب تم پوچھو گے کہ انکل اگر اندھیرا روشنی کا لباس پہن کے سامنے آئے تو ہم پہچانیں گے کیسے؟ ارے بھئی یہ کوئی مشکل تھوڑی ہے۔ جو دلیل کو گولی بنائے وہ روشنی ہے اور جو گولی کو دلیل بنائے وہ اندھیرا ہے۔ اگر یہ نشانی تم یاد رکھو تو اندھیرا کوئی بھی بھیس بدل کے آئے تم فوراً پہچان لوگے۔ تمہیں بس یہ کرنا ہے کہ اس کے آگے دیا لے کے کھڑے ہوجانا ہے۔اندھیرا جتنا بھی گھپ ہو بھلا دیے کے آگے تھوڑی ٹھہر سکتا ہے؟

چلو بس بہت باتیں ہوگئیں۔ اب آنے والی صبح کی تیاری کرو اور آج ذرا جلدی سوجانا۔

اسی بارے میں