آرمی پبلک سکول میں تعزیتی تقریب، بیشتر سکول بند

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آرمی پبلک سکول پشاور ایک مختصر تعزیتی تقریب کے دوبارہ بند کردیا گیا اور باضابطہ طور پر سکول منگل کو کھلے گا

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاوہ ملک کے مختلف علاقوں کی طرح پشاور میں آج سکول دوبارہ سے کھل گئے ہیں تاہم اب بھی سکولوں کی بڑی تعداد بند رہی ہے۔

پشاور کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بڑی تعداد میں سکولوں نے حکومت کی جانب سے سکیورٹی کے انتظامات مکمل نہیں کیے جس کے باعث اس سکولوں کو پیر کو کھلنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

16 دسمبر کوپشاور آرمی پبلک سکول پر طالبان کے حملے کے بعد پہلی آرمی پبلک سکول پیر کو کھلا۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی ار کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بّری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف آرمی پبلک سکول پشاور میں موجود تھے جہاں انھوں نے بچوں کا استقبال کیا۔

بیان کے مطابق جنرل راحیل نے کہا کہ ’تمام بچے ہائی سپرٹس میں ہیں اور اس قوم کو شکست نہیں دی جاسکتی‘۔

سکول ایک مختصر سی تعزیتی تقریب کے دوبارہ بند کردیا گیا اور باضابطہ طور پر سکول منگل کو کھلے گا۔

ایس ایس پی آپریشنز ڈاکٹر میاں سعید نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ پشاور ڈویژن میں کُل 2032 نجی اور سرکاری سکول ہیں۔

’ان 2032 سکولوں میں سے 118 سکولوں نے سکیورٹی احکامات پورے کیے اور ان کو این او سی جاری کردیا گیا۔ تاہم باقی سکول ایسے ہیں جنھوں نے سکیورٹی احکامات کے مطابق انتظامات نہیں کیے جس کے باعث ان کو این او سی جاری نہیں کیا گیا۔‘

ہمارے نامہ نگار ذیشان ظفر نے پشاور سے بتایا کہ پشاور میں عوام میں سکولوں کی سکیورٹی کے حوالے سے ملے جلے تاثرات پائے جاتے ہیں۔ بظاہر والدین سکول کھلنے سے چند گھنٹے پہلے تک اس مخمصے میں تھے کہ آیا بچوں کو سکول بھیجا جائے کہ نہیں۔

ان میں سے بعض والدین کے مطابق وہ پیر کو پہلے اپنے بچوں کے سکول میں جائیں گے اور اگر وہ وہاں سکیورٹی کے انتظامات سے مطمئن ہوئے تو پھر اگلے روز یعنی منگل کو اپنے بچوں کو سکول بھیجیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پشاور ضلعے میں 1380 کی قریب سکول ہیں جن میں سے انتظامیہ نے صرف 180 سکولوں کو کھولنے کی اجازت کے لیے این او سی جاری کیے ہیں

اسلام آباد

دارالحکومت اسلام آباد میں نجی سکولوں کی بڑی تعداد پیر کو بندرہی۔

ایک نجی سکول نے پیر کو سکول کھلے ہونے کا اعلان کیا تھا تاہم اتوار کو رات گئے اس سکول نے سکول بند رہنے کا اعلان کیا۔

اس نجی سکول نے اعلان میں کہا ’بہت سے والدین نے سکول کھولے جانے پر تشویش کا اظہار کیا اور اس کے ساتھ سکیورٹی صورتحال کے حوالے سے معلومات ملنے پر سکول پیر کو بند رہے گا۔‘

دوسری جانب زیادہ تر نجی سکولوں نے پہلے ہی 16 جنوری کو سکول کھولے جانے کا اعلان کیا ہوا ہے۔

اسلام آباد میں سرکاری سکولوں میں سکیورٹی کے انتظامات بہتر دیکھنے کو ملے ہیں۔ سیکٹر ایف سیون تھری میں ایک سرکاری سکول کے باہر رینجرز کی گاڑی موجود تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption وزیر تعلیم پنجاب رانا مشہور احمد کا کہنا ہے کہ صوبے بھر میں سرکاری اور نجی سکولوں کی تعداد 80 ہزار ہے

لاہور

پنجاب کے صوبائی دارلحکومت لاہور میں سرکاری اور نجی سکولز سانحہ پشاور کے بعد کھل گئے ہیں تاہم مشنری سکول ابھی بھی بند ہیں۔

صوبے بھر کے تمام سکولوں کو 16 دسمبر کو آرمی پبلک سکول پشاور پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد بند کر دیا گیا تھا تاہم حکومتی اعلان کے بعد سکولوں کو 12جنوری کو کھول دیا گیا ہے۔

نامہ نگار عدیل اکرم کے مطابق مشنری سکولز سمیت دیگر کئی تعلیمی اداروں نے سکیورٹی کے اِنتظامات کے پیش نظر سکول نہ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ تعلیمی ادارے 19جنوری کو کھولیں گے۔

وزیر تعلیم پنجاب رانا مشہور احمد کا کہنا ہے کہ صوبے بھر میں سرکاری اور نجی سکولوں کی تعداد 80 ہزار ہے۔

وزیر تعلیم کا کہنا ہے کہ صوبہ بھر کے تمام سرکاری سکول آج کھولے تھے اور صرف 80 نجی سکول ایسے ہیں جو کہ پیر کو نہیں کھول سکے اِن میں مشنری سکول بھی شامل ہیں۔

رانا مشہود کا کہنا تھا کہ جو سکول آج نہیں کھول سکے ہیں وہ تمام سکول بھی چند دنوں میں کھول جائیں گے۔

اِس سے پہلے پنجاب حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں کو سکیورٹی کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کرنے کی ہدایت جاری کی گئیں تھیں۔

جس کے بعد شہر کے بڑے سرکاری اور مہنگے نجی سکولوں نے تو حفاظتی انتظامات کر لیے ہیں مگر اکثر سرکاری اور چھوٹے نجی سکولوں میں کس قسم کے خاطر خواہ انتظامات دیکھنے کو نہیں ملتے اِن سکولوں میں نہ تو دیواروں کو اُونچا کیا گیا ہے اور نہ ہی اُن پر خاردار تاریں نصب کی گئیں ہیں۔

کراچی

ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل نے بتایا کہ کراچی میں چند نجی سکولوں کے سوا سارے سکول پیر کو کھل گئے ہیں۔

تاہم کراچی کے چند ہی سکولوں اور کالجوں میں سکیورٹی اقدامات مزید بہتر کیے گئے ہیں۔ سرکاری اداروں نے خود کو اس سے لاتعلق رکھا ہے۔

محکمہ تعلیم کے مطابق شہر میں 16972 پرائمری اور سیکنڈری سکول ہیں، جن میں رجسٹرڈ پرائیوٹ سکولوں کی تعداد 11 ہزار کے قریب ہے۔

وسطی شہر کے علاقے صدر میں سینٹ پیٹرکس گرلز سکول کی چار دیواری کو دو سے تین فٹ اونچا کیا گیا ہے جبکہ اس پر کانٹے دار تار بھی نصب نظر آتی ہے۔ اس علاقے میں نصف سے زائد عیسائی مشنری سکول موجود ہیں جہاں مڈل کلاس شہریوں کے ہزاروں بچے زیر تعلیم ہیں۔

سینٹ پیٹرکس سکول سے چند قدم آگے آرمی پبلک اسکول کا عقبی حصہ واقع ہے جس کی دیواروں کو بھی مزید اونچا کیا گیا ہے جبکہ نجی کمپنی کے گارڈ بھی تعینات نظر آتے ہیں۔

اسی طرح سکول کے مرکزی دروازے پر ایک بینر آویزاں ہے جس میں والدین کو آگاہ کیا گیا ہے کہ گاڑیوں کے تمام سٹیکرز منسوخ کردیے گئے ہیں، اب بغیر سٹیکر والی کسی گاڑیوں کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی اور گاڑی میں صرف طالب علم اور ڈرائیور کو آنے کی اجازت ہوگی۔

کراچی میں تاحال کسی اسکول میں دہشت گردی کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا تاہم حکام آغا خان فاؤنڈیشن اور عیسائی مشنری کے زیر انتظام اسکولوں کی سکیورٹی کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

صوبائی حکومت نے اسکولوں کی سکیورٹی کا پلان بھی تشکیل دیا ہے، جس کے تحت اسکولوں کے علاقوں میں پولیس اور رینجرز گشت کریں گی جبکہ کسی ایمرجنسی کی صورت میں فوج آن کال رہے گی۔

اس سے قبل وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاھنے پیر کو لیاری اور صدر کے علاقے میں مشنری سکولوں اور آرمی پبلک سکول کا دورہ کیا۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جہاں کیمبرج بورڈ کی تعلیم دی جاتی ہے اور مشنری سکولوں کو کچھ خدشات موجود ہیں اور انھیں اعتماد دینے کے لیے انھوں نے یہ دورہ کیا ہے۔

’کچھ سکولوں کی دھمکی آمیز پیغامات موصل ہوئے ہیں۔ انھیں حکومت سکیورٹی فراہم کر رہی ہے۔ کراچی گرامر اسکول کا مرکزی سیکشن شہر کے بہت اندر ہے اور ان کی انتظامیہ کے ساتھ ایک ملاقات ہوچکی ہے جس میں انہیں مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اس علاقے سے کہیں اور منتقل ہوجائیں۔‘

اسی بارے میں