’سکول جانے کی خوشی میں سو نہیں پائی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سکول کھلنے کے کی خبر کے ساتھ بچوں میں بہت جوش و خروش دیکھنے کو ملا

پشاور کے آرمی پبلک سکول میں نویں کلاس کے طالب علم محمد معین 16 دسمبر کو طالبان کے حملے کے وقت آڈیٹوریم میں ہی موجود تھے۔ انھوں نے اِس حملے میں اپنے بہت سے دوست کھوئے ہیں لیکن آج وہ اپنے دیگر تین بہن بھائیوں کے ہمراہ ایک بار پھر سکول جانے کو تیار بیٹھے تھے۔

ان کی والدہ مسز فائزہ بتاتی ہیں کہ ’معین شروع کے دنوں میں کوئی بات نہیں کرتا تھا اور نہ ہی کھانا کھاتا تھا۔ اُسے سی ایم ایچ لے کر گئے جہاں اُس کا علاج ہوا اور چند روز بعد اُس کی ذہنی حالت بہتر ہوئی۔‘

پشاور سکول حملے کے بعد عمومی خیال یہ تھا کہ والدین اپنے بچوں کو سکول بھیجنے سے گھبرائیں گے اور خاص طور پر آرمی پبلک اسکول کے بچے دوبارہ سکول جانے کے لیے راضی نہیں ہوں گے لیکن پیر کی صبح پشاور کی سڑکوں پر موجود یونیفارم پہنے اور بھاری بھر کم بیگ لادے بچے ان تمام خدشات کی نفی کرتے نظر آئے۔

پیر کی صبح جب میں محمد معین کے گھر گئی تو وہ خاموشی سے سکول کی تیاری میں مصروف نظر آئے، جبکہ دیگر بہن بھائی بہت جوش و جذبے تیاریوں میں مصروف تھے۔

مسز فائزہ نے بتایا کہ چھوٹی بیٹی سکول جانے کی خوشی میں ساری رات سو نہیں پائی۔ ان کے سب سے چھوٹے بیٹے محمد متین کو فکر تھی کہ ماں نے بیگ میں انچ ٹیپ رکھا ہے کہ نہیں کیونکہ سکول بند ہونے سے پہلے ان کی ٹیچر نے لمبائی ناپنے کا طریقہ سکھانے کے لیے انچ ٹیپ منگوایا تھا۔

سکول جانے کی تیاری کے لیے جیسے حسِب معمول چہل پہل اور افراتفری ہوتی ہے ویسا ہی ماحول مسٹر سہیل کے گھر کا بھی تھا۔

چولھے پر چائے کا پانی چڑھا ہوا تھا اور ساتھ ہی ایک پتیلی میں انڈے اُبل رہے تھے۔ مسز فائزہ بچوں کو جگانےسمیت ان کے ناشتے اور لنچ باکس سمیت بچوں کے یونیفارم، جوتے اور بیگ تیار کرتی نظر آئیں۔

تیاری اور ناشتے کے بعد مسٹر اور مسز سہیل چاروں بچوں کو سکول چھوڑنے نکلے۔ میں بھی انھی کے ساتھ گاڑی میں موجود تھی۔

راستے بھر مجھے یونیفارم میں ملبوس بچے نظر آئے۔ کوئی پیدل، کوئی گھروں کی گاڑیوں اور سکوٹروں پہ سوار، کوئی سکول کی بس اور سوزوکی میں سوار، تو کوئی پبلک بس میں۔

سڑکوں پہ پولیس کے اکا دکا اہلکار دکھائی دیے البتہ مختلف جگہوں پر ٹریفک کنٹرول کرنے کے لیے ٹریفک پولیس اہلکار موجود تھے۔

محمد معین کے تین بہن بھائی گیریزن آرمی سکول میں زیر تعلیم ہیں۔ مسٹر اینڈ مسز سُہیل نے پہلے اِن تین بچوں کو ان کے سکول ڈراپ کیا۔ سکول کینٹ کے علاقے میں آتا ہے۔ جیسے ہی کینٹ میں داخل ہوئے توجگہ جگہ چوکیاں بنی تھیں جن کے اندر باہر مسلح فوجی تعینات تھے۔

کینٹ میں فوجی اہلکار رکاوٹیں کھڑی کرکے وہاں سے گُزرنے والی گاڑیوں اور افراد کی چیکنگ کرتے رہے۔ آرمی پبلک سکول کے داخلی دروازے سمیت چاروں جانب سکیورٹی انتہائی سخت تھی۔ مسلح فوجی اہلکار ہر بچے اور ان کے والدین کو شناخت کے بعد اندر جانے کی اجازت دے رہے تھے۔ یہاں میڈیا کو داخلے کی اجازت نہیں تھی اِس لیے میں نے باہر ہی رُک گئی۔

میڈیا کے تمام نمائندے آرمی پبلک سکول سے کافی فاصلے پر ورسک روڈ پہ موجود تھے جہاں کوشش تھی کہ آرمی پبلک اسکول کا کوئی بچہ اسکول جاتے ہوئے مل جائے تو اُس کی فوٹیج بنالی جائے اور اُس سے سوالات کیے جائیں۔ ایسا بچہ ڈھونڈنا بھی آج میڈیا کے لیے ایک سوال بنا رہا کیونکہ اسکول جانے کے راستے پر میڈیا کو کھڑے ہونے کی اجازت ہی نہیں دی گئی تھی۔

اسی بارے میں