سہمے بچے اور بے چین میڈیا

آرمی پبلک سکول
Image caption آرمی پبلک سکول کے باہر میڈیا کا بہت رش تھا لیکن اس کے قریب جانے پر سخت پابندی تھی

پشاور میں طالبان کے قتل عام کا نشانہ بننے والے آرمی پبلک سکول کے باہر پیر کی صبح پہنچنے پر فوج کی سخت سکیورٹی دیکھنے میں آئی۔ سکول کے قریب کھڑے ہونے کی سختی سے ممانعت تھی۔

اسی وجہ سے سکول کے نزدیک سے گزرنے والی سڑک پر میڈیا کی گاڑیاں آہستہ آہستہ جمع ہونا شروع ہو گئیں اور فضا میں ہیلی کاپٹروں کی پروازیں بھی۔

سڑک پر ٹریفک کے رش میں اضافہ ہونا شروع ہوا تو میڈیا کی بے چینی میں بھی اضافہ ہونے لگا اور انھوں نے سکول کی جانب مارچ کرنا شروع کیا لیکن فوج کی سختی کی وجہ سے کسی کو بھی مقرر کردہ ریڈ لائن سے آگے جانے کی اجازت نہیں مل سکی۔

پھر اس کے بعد سڑک سے سکول کی گاڑیاں گزرنا شروع ہوئیں تو سب کی توجہ ان کی جانب ہو گئی۔ کچھ دیر بعد ہی سلسلہ دوسرا رخ اختیار کر گیا اور آرمی پبلک سکول کی جانب جانے والی نجی گاڑیوں میں بیٹھے طالب علموں کی فوٹیج بنانے کی کوششیں شروع ہو گئیں۔

اسی کوشش میں ایک گاڑی سڑک پر روک لی گئی جس میں آرمی پبلک سکول کے گیارہویں اور نویں جماعت کے طالب علم اپنے والد کے ساتھ موجود تھے۔

ان کے اطراف میں میڈیا کا رش اتنا زیادہ ہو گیا کہ سڑک پر ٹریفک جام ہونا شروع ہو گئی تو ٹریفک پولیس کے اہلکار نے درخواست کی کہ میجر صاحب کہہ رہے ہیں کہ راستہ صاف کیا جائے لیکن اس کی طرف کسی نے دھیان نہیں دیا اور نہ ہی چند قدم پر کھڑے فوجی اہلکاروں نے کوئی کوشش کی۔

Image caption بچے سہمے ہوئے تو ضرور تھے لیکن سکولوں کے کھلنے سے خوش بھی تھے

میڈیا کی توجہ جن دو طالب علموں پر تھی ان کی والدہ سیدہ فرحت بی بی طالبان کے حملے میں ہلاک ہو گئیں تھیں۔

مقتولہ کے بیٹے سید باقر نے بتایا کہ آج کے دن وہ بہت نروس ہیں کیونکہ جہاں وہ جا رہے ہیں وہاں ان کے کئی دوستوں کی یادیں بھی ہیں جن کو بھلانا مشکل ہے۔

ان کی روانگی کے بعد دور سے آرمی پبلک سکول کے یونیفام سے ملتے جلتے یونیفام میں لڑکیوں کا ایک گروپ آتا نظر نہیں آیا تو سب ان کی جانب دوڑ پڑے لیکن پاس پہنچتے ہی انھوں نے زور زور سے کہنا شروع کر دیا کہ ہم آرمی پبلک سکول سے نہیں۔ اس کے ساتھ ہی کوئی وقت ضائع کیے بغیر میڈیا ان سے دور ہو گیا۔

ادھر ہی ایک طالب علم افتخار سے بات ہوئی جو سکینڈ ائر کے طالب علم ہیں اور ایڈورڈ کالج میں پڑھتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ خوش ہیں کہ آج سے پڑھائی دوبارہ شروع ہو رہی ہے کیونکہ گھر میں رہ کر بہت گھٹن محسوس کر رہے تھے۔

اسی دوران صحافیوں میں دوبارہ ہلچل شروع ہوئی اور کمیرہ مینوں کو ہدایات دی جانے لگیں کہ دوسری طرف دیکھیں۔ وہاں آرمی پبلک سکول کے یونیفام میں تین طالب علم آ رہے تھے۔ انھوں نے صحافیوں کو دیکھ کر تیز چلنا شروع کر دیا اور یہ کہہ کر بات کرنے سے انکار کر دیا کہ تاخیر ہو رہی ہے۔

’بس بس ہمیں آج صرف اتنا کہا گیا ہے کہ پڑھائی نہیں ہو گئی، چیف صاحب آئیں گے اور آپ سے باتیں کریں گے۔‘

اسی دوان ایک شخص اپنے بارہ سالہ بیٹے کا ہاتھ پکڑے قریب سے گزرا۔ پوچھنے پر اس نے بتایاکہ اس کا بیٹا عمر پشاور ماڈل سکول میں پانچویں کلاس میں پڑھتا ہے۔

’پہلے تو سکول وین میں آتا تھا لیکن سولہ دسمبر کے واقعے کے بعد سے ذہنی دباؤ کا شکار ہے، اکثر ڈر جاتا ہے، اور اس وقت ایک ماہر نفسیات سے اس کا علاج چل رہا ہے۔ یہ سکول دور ہے، چند دنوں میں گھر کے قریب واقع سکول میں داخلہ کرا دوں گا کیونکہ آج بھی بیٹا اتنی دور آنے سے ڈر رہا تھا، اس کی ماں اور بہنیں بھی پریشان تھیں۔‘

اسی بارے میں