’سپیکر قومی اسمبلی مستعفی ہوں‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption عمران خان نے کہا کہ اگر حکومت نے ان کی مرضی کا تحقیقاتی کمیشن نہ بنایا تو وہ پھر سڑکوں پر نکل پڑیں گے

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے سپیکر قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ 18 جنوری کو ’دھرنا کنونشن‘ منعقد کرنے کا اعلان بھی کیا۔

پیر کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب میں عمران خان نے ایک بار پھر الزام عائد کیا کہ 2013 کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی اور اس سلسلے میں تحقیقات کے لیے حکومت جس قسم کا عدالتی کمیشن بنانا چاہتی ہے، اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

انھوں نے حلقہ این اے 122 میں مبینہ دھاندلی پر حکومتی موقف کو مسترد کرتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنا عہدہ چھوڑ دیں کیونکہ کمیشن کی رپورٹ کے بعد وہ اس عہدے پر رہنے کا اخلاقی جواز نہیں رکھتے۔

ان کا کہنا تھا کہ حلقہ این اے 122 کے بارے میں الیکشن ٹریبیونل کو بھجوائی گئی کمیشن رپورٹ موصول ہوگئی ہے جس نے پی ٹی آئی کی جانب سے بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزام کو درست ثابت کر دیا ہے۔

’رپورٹ کے مطابق 34376 ووٹ جعلی تھے، جب کہ 1395 بیلٹ پیپر پریزائیڈنگ افسران کے دستخط اور سٹیمپ کے بغیر تھے۔‘

جوڈیشل کمیشن کے معاملے پر بات کرتے ہوئے تحریک انصاف کے سربراہ کا کہنا تھا:

’وہ جو جوڈیشل کمیشن بنانا چاہتے ہیں اس کو بنانے کا کوئی فائدہ ہی نہیں ہے، کیونکہ اس کے پاس کوئی اختیار ہی نہیں ہوگا۔ وہ کہتے ہیں کہ ٹریبیونل کا جو نتیجہ ہے وہ بھی جوڈیشل کمیشن میں نہیں رکھ سکتے، اگر آپ نے دھاندلی نہیں کی تو ہماری تجویز والے جوڈیشل کمیشن بنانے پر آپ کو ڈرنا نہیں چاہیے۔‘

انھوں نے ایک بار پھر 18 جنوری کو اسلام آباد میں دھرنے کے مقام پر جانے کا اعلان کیا اور بتایا کہ اس موقعے پر وہ آئندہ کے لائحۂ عمل کا اعلان کریں گے۔

عمران خان نے اپنا سابقہ بیان دہراتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت نے تحقیقاتی کمیشن نہ بنایا تو وہ سڑکوں پر نکلیں گے جس کے بعد حکومت کے لیے ’حکومت چلانا مشکل ہو جائے گی۔‘

یاد رہے کہ وفاقی وزیرِ اطلاعات پرویز رشید نے اتوار کو پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ این اے 122 میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے نتائج کے مطابق ایاز صادق کے ہی ووٹ زیادہ ہیں۔ تاہم عمران خان کا کہنا ہے کہ کمیشن کی رپورٹ حکومتی دعوے کے برعکس ہے اور وفاقی وزیر نے کمیشن کی رپورٹ آنے سے پہلے پریس کانفرنس کی اور وہ غلط بیانی کر رہے ہیں۔

عمران خان کی پریس کانفرنس کے بعد وفاقی وزیراطلاعات پرویز رشید نے ایک بار پھر میڈیا سے مختصر گفتگو کی اور کہا کہ عمران خان ثابت کریں کہ کمیشن نے حلقہ این اے 122 میں 30 ہزار بوگس ووٹوں کی رپورٹ دی ہے۔

ادھر حکومتی کمیٹی کے سربراہ اسحاق ڈار نے پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ پی ٹی آئی کے ساتھ عدالتی کمیشن پر بات آگے بڑھ رہی ہے۔ لیکن دوسری طرف عمران خان کے ہمراہ موجود پی ٹی آئی کی حکومت سے مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ شاہ محمود نے میڈیا کو بتایا کہ انھوں نے حکومتی کمیٹی کے سربراہ اسحاق ڈار کی فون کال کا جواب نہیں دیا اور اب مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار، احسن اقبال اور اٹارنی جنرل سے 27 دسمبر کی ملاقات بے فائدہ نظر آ رہی ہے۔

’ 27 دسمبر کو ایک حتمی مسودہ حکومتی کمیٹی کو دیا جس پر اٹارنی جنرل، احسن اقبال اور اسحاق ڈار نے کہا کہ وہ لیڈر شپ سے کلیئرینس لے کر آپ سے ملاقات کریں گے۔ نہ وہ کلیئرینس آئی اور نہ مجھے اس ملاقات کا کوئی فائدہ نظر آ رہا ہے۔‘

میڈیا رپورٹوں کے مطابق عمران خان نے سول نافرمانی ختم کر دی ہے اور اپنے گھر کا بجلی کا بل ادا کر دیا ہے۔ اس حوالے سے کیے جانے والے سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ وہ اس پر الگ پریس کانفرنس میں بات کریں گے۔

یاد رہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے 15 اگست کو اسلام آباد میں دھرنے کا آغاز ہوا تھا، تاہم پشاور سانحے کے بعد عمران خان نے 17 دسمبر کو دھرنا ختم کر دیا تھا۔

اسی بارے میں