سات مزید مجرموں کو پھانسی دے دی گئی

Image caption پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے پشاور میں گذشہ ماہ 16 دسمبر کو طالبان شدت پسندوں کے حملے میں 132 بچوں سمیت 150 افراد کی ہلاکت کے بعد سزائے موت پر عمل درآمد کی بحالی کا اعلان کیا تھا

پشاور کے آرمی پبلک سکول پر گذشتہ ماہ 16 دسمبر کو شدت پسندوں کے حملے کے بعد ملک کے چار مختلف قید خانوں میں سزائے موت کے سات قیدیوں کو منگل کی صبح پھانسی دے دی گئی۔

جن سات شدت پسندوں کو دہشت گردی کے مختلف واقعات میں منگل کی صبح پھانسی دی گئی وہ کراچی، فیصل آباد، سکھر اور راولپنڈی کی جیلوں میں قید تھے۔

کراچی پولیس نے تین ملزمان کا تعلق شدت پسند تنظیم لشکر جھنگوی، دو کا کالعدم تنظیم اور ایک کا القاعدہ سے ظاہر کیا تھا۔

کراچی سینٹرل جیل میں منگل کی صبح بہرام خان چانڈیو کو پھانسی دی گئی۔

بہرام خان پر الزام تھا کہ انھوں نے سنہ 2003 میں سندھ ہائی کورٹ کے کمرہ عدالت کے اندر فائرنگ کرکے ایک وکیل محمد اشرف کو ہلاک کردیا تھا۔

استغاثہ کا موقف تھا کہ بہرام خان اس وقت کے ایڈووکیٹ جنرل قربان چوہان کو قتل کرنا چاہتے تھے اور اسی ارادے سے جسٹس زوار حسین جعفری کی عدالت میں داخل ہوئے لیکن فائرنگ کا نشانہ محمد اشرف ایڈووکیٹ بن گئے۔

پھانسی سے دو روز قبل بہرام خان کی قریبی رشتے داروں سے آخری ملاقات کرائی گئی تھی۔ ان کی لاش دادو ضلعے کے شہر خیرپور ناتھن شاہ روانہ کردی گئی۔

یاد رہے کہ سینٹرل جیل کراچی میں فروری سنہ 2007 میں پھانسی کی سزا پر آخری بار عمل درآمد کیا گیا تھا۔

سکھر سینٹرل جیل میں محمد شاہد حنیف، محمد طلحہ حسین اور خلیل احمد عرف حسن جان کو پھانسی دی گئی۔

ملزمان پر سنہ 2001 میں کراچی کے علاقے ناظم آباد میں فائرنگ کرکے محکمۂ دفاع کے ڈائریکٹر ظفر حسین شاہ کو قتل کرنے کا الزام تھا۔

استغاثہ کا موقف تھا کہ ملزمان کا تعلق شدت پسند تنظیم لشکر جھنگوی سے ہے۔

تینوں ملزمان کو سنہ 2002 میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے موت کی سزا سنائی تھی جبکہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں بھی ان کی اپیلیں مسترد ہو چکی تھیں۔

راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ذوالفقار علی نامی ملزم کو پھانسی دی گئی۔

ذوالفقار علی پر سنہ 2004 میں کراچی کے فریئر تھانے کی حدود میں امریکی قونصلیٹ کے باہر تعینات دو سپاہیوں کو فائرنگ کر کے ہلاک کرنے کا الزام تھا۔ پولیس کا دعویٰ تھا کا ملزم کا تعلق القاعدہ سے ہے۔

فیصل آباد جیل میں دو شدت پسندوں نوازش علی اور مشتاق احمد کو سزائے موت دی گئی۔

دونوں شدت پسندوں پر پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف پر راولپنڈی کے علاقے جھنڈا چیچی میں قاتلانہ حملے میں ملوث ہونے کا الزام تھا، جنرل پرویز مشرف اس حملے میں معمولی زخمی ہوگئے تھے۔

نوازش علی پاکستان فضائیہ میں ٹیکنیشن جبکہ مشتاق احمد سویلین تھے دونوں کو سنہ 2004 میں پاکستان فضائیہ کے ٹربیونل نے سزائے موت سنائی تھی۔

خیال رہے کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے پشاور میں گذشہ ماہ 16 دسمبر کو طالبان شدت پسندوں کے حملے میں 132 بچوں سمیت 150 افراد کی ہلاکت کے بعد سزائے موت پر عمل درآمد کی بحالی کا اعلان کیا تھا۔

اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے ملک میں پھانسی کی سزا پر عمل درآمد روک دیا تھا۔ سنہ 2008 سے سنہ 2013 کے دوران صرف دو افراد کو پھانسی دی گئی تھی اور ان دونوں کو فوجی عدالت سے پھانسی کی سزا ہوئی تھی۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے پاس موجود اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی جیلوں میں اس وقت ساڑھے آٹھ ہزار کے قریب ایسے قیدی ہیں جنھیں موت کی سزا سنائی جا چکی ہے اور ان کی تمام اپیلیں مسترد ہو چکی ہیں۔

اسی بارے میں