پشاور حملہ: کچھ یادیں، کچھ خواب

16 دسمبر جو پشاور کے آرمی پبلک سکول پر طالبان کے حملے میں جن 141 بچوں اور عملے کے ارکان کو ہلاک کر دیا گیا، ان میں سکول کی پرنسپل بھی شامل تھیں جنھیں لوگ مسلسل خراج تحسین پیش کر رہے ہیں۔ درج ذیل میں سکول کے عملے اور ہلاک ہونے والے چند بچوں کو ان کے دوست اور عزیز یاد کرتے ہیں۔

کلک ایبل
  • مبین شاہد آفریدی

    ×

    اپنے سکول کا یہ ہونہار طالبعلم بڑا ہو کر ڈاکٹر یا انجینئر بننا چاہتا تھا۔ حملہ آوروں نے اسے سر کی پچھلی جانب اس وقت گولی مار کا ہلاک کر دیا جب وہ ایک کھڑکی سے فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔

  • سیف اللہ درانی

    ×

  • یاسراللہ - جماعت ہشتم

    ×

    یاسراللہ پشاور کے ایک صحافی منظور علی کے عزیز تھے۔ اپنی ایک خبر میں منظور علی کاکہنا تھا کہ 16 دسمبر سنہ2014 کو پاکستان کی نائن الیون سمجھا جانا چاہیے۔

  • رفیق بنگش

    ×

  • نوراللہ درانی

    ×

  • محمد علی - جماعت نہم

    ×

  • عزیر خان

    ×

  • شیر شاہ

    ×

  • اسد عزیز

    ×

  • اذن توریلے - نویں جماعت کا طالب علم

    ×

  • امیش سلمان - جماعت نہم

    ×

  • محمد یاسین - عمر 15 سال

    ×

    ماں باپ کا یہ اکلوتا بچہ ہمیشہ اپنی جماعت کے پانچ بہترین طالبعلموں میں ہوتا تھا اور اس کی خواہش تھی کہ بڑا ہوکر کسی برطانوی یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرے گا۔ حملہ آوروں نے اسے سکول کے آڈیٹوریم میں گولی مار کے ہلاک کر دیا۔

  • احمد الٰہی

    ×

    احمد الٰہی کی کزن سندس اشعر کے بقول ’نہ صرف وہ سکول کے بہترین طالبعلموں میں سے تھا، بلکہ وہ فرشتہ سیرت تھا۔ اس کی شخصیت میں وہ سب کچھ تھا جس کی کوئی بھی خواہش کر سکتا ہے۔ اس کی ہمیشہ سے خواہش تھی کہ وہ ڈاکٹر بنےگا۔ اس کے دوستوں کے بقول اس المناک دن وہ ایک ایمبولینس تک پہچ گیا تھا، لیکن اپنے چھوٹے بھائی کی جان بچانے کے خیال سے دوبارہ سکول کے اندر چلا گیا۔ پاکستانی فوج کے جوان اس کے بھائی کو پہلے ہی بچا کے باہر نکال چکے تھے، مگر احمد الٰہی پھر سکول سے نہیں لوٹا۔

  • مؤذن علی خان - عمر 14 سال

    ×

    مؤذن کے ایک عزیز لکھتے ہیں کہ وہ کیمرے سے شرماتا تھا۔ وہ ایسا بچہ نہیں تھا جو بڑا فیشن ایبل چشمہ پہنتا ہو یا دکھانے کے لیے بالوں میں جیل لگاتا ہو، بلکہ اس کی صرف ایک ہی خواہش تھی کہ وہ بہت محنت کرے اور مستقبل میں ایک کامیاب آدمی بنے۔ اچھی تعلیم کے لیے ہی وہ اپنی دادی کے ساتھ پشاور میں رہتا تھا۔

  • اویس خان

    ×

    اویس خان - عمر 13 سال

  • طاہرہ قاضی - سکول پرنسپل

    ×

    'طاہرہ قاضی ان نو اساتذہ اور سٹاف ممبران میں شامل تھیں جو طالبان کے حملے میں ہلاک ہوئے۔ وہ شہر کے ایک اعلیٰ سکول کو چلا رہی تھیں اور بطور سینئر اور تجربہ کار استاد جانی جاتی تھیں۔ 2012 میں انھیں امتیازی کامیابی حاصل کرنے اور دلجمعی اور بھرپور پیشہ ورانہ انداز سے کام کرنے پر’پرنسپل آف دی ایئر‘ کا ایوارڈ دیا گیا تھا۔

    مقامی میڈیا پر عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ انھوں نے(طاہرہ قاضی) نے بہت سے بچوں کی حفاظت میں مدد کی، کچھ والدین کو فون کیا اور انھیں اپنے بچوں کو لے جانے کی تاکید کی۔ مگر مس قاضی کی ہلاکت کے اصل حالات غیر واضح ہیں۔

  • حفصہ خوش - ٹیچر

    ×

  • سعید خان - ٹیچر

    ×

  • بینش پرویز - ٹیچر

    ×

    ان کی بہن نے لکھا: ’ وہ تین بیٹیوں کی ماں تھیں۔ سب سے چھوٹی صرف تین ماہ کی ہے۔ جب گولیاں چلنی شروع ہوئیں تو میری بہن کمپیوٹر لیب میں تھیں۔ طالب علموں کو بچانے کے لیے انھوں نے دروازہ بند کرنے کی کوشش کی لیکن دروازے سے گولیاں چلائی گئیں۔ بعد میں ان کی کلاس کے تمام طالب علموں کو بھی مار دیا گیا۔ جو تکلیف اِن غیر انسانی سفاکوں نے پہنچائی ہے وہ نہ صرف ہمارے خاندان بلکہ پورے ملک کے لیے ناقابل برداشت ہے۔‘

  • فرحت جعفری - ٹیچر

    ×

    ان کا بیٹا محمد باقر آرمی پبلک سکول میں ہی پڑھتا ہے لیکن اب وہ خود اس دنیا میں نہیں رہیں۔

طالبان کے اس حملے میں ہلاک ہونے والے کئی بچوں اور ان کے اساتذہ اور سکول کے عملے کے ارکان کے بارے میں تمام معلومات ہمیں دستیاب نہیں ہیں، تاہم ان میں کچھ درج ذیل تھے۔

عثمان صدیق عباسی، طالب علم

عثمان صدیق عباسی کے دوست کے بقول ان کی میت ان کے آبائی شہر ایبٹ آباد پہنچا دی گئی تھی۔

صوفیہ امجد، ٹیچر

آرمی پبلک سکول کی لیکچرر صوفیہ امجد کے شوہر وکیل ہیں۔ پاکستان کے ایک نجی چینل کے مطابق صوفیہ اور ان کے شوہر اپنی بیٹی کی شادی کی تیاریاں کر رہے تھے۔

حسنین شریف، طالب علم، جماعت ہشتم

حسنین کے دو کزن بھی ان کے ساتھ سکول میں ہی تھے اور وہ سکول کی دیوار پھلانگنے میں کامیاب رہے اور یوں حملے میں محفوظ رہے۔

شہناز نعیم، سربراہ کمپیوٹر سائنس

شہناز نعیم کے ایک سابق سٹوڈنٹ ڈاکٹر زبیر خٹک کہتے ہیں کہ ’انھیں اس وقت گولی مار دی گئی جب تمام بچوں کو سکول سے نکالنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ وہ آخری سانس تک حملہ آوروں کے سامنے کھڑی رہیں۔‘