دورہ پاکستان کا ذکر ہمسائیوں کا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا منگل کے روز ختم ہونے والا دورہ، دورانیے کے لحاظ سے تو شاید مختصر رہا لیکن اس دوران ہونے والی گفتگو اور طے ہونے والے معاملات کے اثرات طویل عرصے تک محسوس کیے جاتے رہیں گے۔

امریکی وزیر خارجہ ایسے وقت میں پاکستان آئے ہیں جب پاکستان کی سول اور ملٹری قیادت ملک کو شدت پسندی کے حوالے سے ایک نئی سمت دینے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

ایسے میں امریکی وزیر خارجہ نے پاکستانی سول اور فوجی قیادت سے ملاقاتوں میں جہاں ایک مخلص دوست ہونے کا تاثر دیا وہیں بعض ایسی باتیں بھی کیں جو پاکستانی سکیورٹی اسٹیلشمنٹ کے لیے ڈراؤنے خواب کی حیثیت اختیار کر چکی ہیں۔

بعض اہم ذرائع کے مطابق جان کیری نے شدت پسندگروہوں کے خلاف پاکستانی عزم کو سراہا۔ ان مذاکرات سے باخبر بعض اہم ذرائع کے مطابق صرف روایتی انداز میں نہیں بلکہ خاصے’غیر امریکی‘ انداز میں تسلیم کیا کہ تازہ پاکستانی اقدامات مشترکہ دشمن پر ضرب کاری بن رہے ہیں۔

جان کیری نے نہ صرف واضح الفاظ میں تسلیم کیا کہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے دوران حقانی نیٹ ورک کو خاصا نقصان پہنچا ہے بلکہ تسلیم کیا کہ حقانی نیٹ ورک کے افغانستان کے اندر حملے کرنے کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔

تاہم وہ اس بارے میں پراعتماد نہیں تھے کہ حقانی نیٹ ورک کو پہنچنے والا یہ نقصان عارضی ہے یا دائمی۔ انھوں نےالبتہ پاکستانی قیادت کو بتا دیا ہے کہ وہ بہت جلد اس نتیجے پر بھی پہنچ جائیں گے اور ان حقائق کی تہہ تک پہنچنے کے لیے آپریشن ضرب عضب کو امریکی کسوٹی پر پرکھنے کا سلسلہ جاری ہے۔

امریکی حکام اس لحاظ سے بھی ان مذاکرات سے خوشی خوشی لوٹے ہیں کہ پہلی بار پاکستان نے باضابطہ طور پر امریکہ کو بتا دیا ہے کہ پاکستان میں اب اچھے اور برے طالبان کی پالیسی نہیں چلے گی۔

اس ایک ’اعتراف‘ سےامریکیوں کا خیال ہے کہ دو شکار ہوئے ہیں۔ ایک تو یہ کہ پاکستان نے یہ مان لیا ہے کہ پاکستان ماضی میں اچھے اور برے طالبان کی پالیسی پر عمل کرتا رہا ہے۔ اس اعتراف نے امریکیوں کو ایک ایسا ’لٹمس ٹیسٹ‘ فراہم کر دیا ہے جس کی بنیاد پر امریکہ پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ’خلوص‘ کو ماپ سکتا ہے اس بنیاد پر کہ کسی شدت پسند گروہ کو کارروائی سے ماورا قرار تو نہیں دیا جا رہا۔

لشکر طیبہ کے آپریشن چیف، ذکی الرحمان لکھوی کی رہائی کی راہ میں حکومت پاکستان نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران جو روڑے اٹکائےانھوں نے بھی امریکی سیکرٹری خارجہ جان کیری کو بہت متاثر کیا۔

انھوں نے ممبئی حملوں کے اس ملزم کو رہا ہونے سے روکنے کی سرکاری کوششوں کو پاکستانی حکومت کے اس عزم نو کے اظہار کا نمونہ قرار دیا جو شدت پسندی کے خلاف پاکستان میں تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔ جان کیری نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اسی قسم کا رویہ بھارت مخالف بعض دیگر شدت پسند رہنماؤں کے خلاف بھی اختیار کرے گا۔

عموماً اس نوعیت کے دو طرفہ دوروں اور مذاکرات میں دو ملک ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے اور مسائل حل کرنے پر بات کرتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جان کیری کے ساتھ مذاکرات اور ملاقاتوں کے دوران زیادہ وقت دوسرے ممالک کے بارے میں بات کرتے گزرا۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ امریکہ کی جانب سے باضابطہ طور پر یہ معاملہ سامنے آیا ہے کہ افغانستان سےامریکی انخلا کے بعد افغانستان کی سکیورٹی کےلیے بھارت کو قائدانہ کردار پر غور ہو رہا ہے۔

پاکستانی قیادت نےاس خطرے کو بھانپتے ہوئےامریکی قیادت پر واضح کر دیا ہے کہ ایسی کسی بھی کوشش کی پاکستان کی جانب سے بھرپور مخالفت کی جائے گی چاہے اس کی کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔

اسی بارے میں