گلگت اور کشمیر میں فوجی عدالتوں کےقیام کا فیصلہ

Image caption اس پہلے پنجاب، خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان میں فوجی عدالتیں قائم کا اعلان کیا گیا تھا

وفاقی حکومت نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی فوجی عدالتیں قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس بات کا فیصلہ وزیر اعظم میاں نواز شریف کی سربراہی میں دہشت گردی سےنمٹنے کے لیے قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد سے متعلق اجلاس میں کیا گیا۔

اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیاگیا کہ ان علاقوں میں فوجی عدالتوں کے قیام کےلیے اکیسویں آئینی ترمیم کے تحت آزاد کشمیر اورگلگت بلتستان کونسلر سے کروایا جائے گا۔

وزیر اعظم ہاؤس کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام اقدامات کیے جائیں تاکہ آئندہ آنے والی نسلوں کو محفوظ بنایا جاسکے۔

پہلے مرحلے میں نو فوجی عدالتیں قائم ہوں گی: فوج

اُنھوں نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کی کوئی جگہ نہیں ہے اور اس ضمن میں پاکستانی معاشرہ اور حکومت پرعزم ہیں کہ شدت پسندوں کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

اجلاس کو شدت پسندی کے خاتمے کے لیے قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد سے متعلق کی جانے والی قانون سازی کے بارے میں بھی بتایا گیا۔

اجلاس کو بتایاگیا کہ گذشتہ تین ہفتوں کے دوران پنجاب اور وفاقی دارالحکومت میں مذہبی منافرت پھیلانے پر ایک سو چونسٹھ مقدمات درج کیےگئے جبکہ اس ضمن میں 157 افراد کو حراست میں لیاگیا۔ اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ 40 پرنٹٹنگ پریس اور دوکانوں کو بھی سیل کیاگیا ہے جہاں پر مذہبی منافرت پھیلانے والا مواد شائع اور فروخت ہوتا تھا۔

اطلاعات کے مطابق حکومت کی ہدایت پر دس کے قریب ایسی کتابوں کی فروخت پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے جو ملک میں مذہبی منافرت پھیلانے کا سبب بن سکتی تھیں۔

اجلاس کو بتایاگیا کہ لاوڈ سپیکر کے غلط استعمال پر 1994 مقدمات درج کرنے کے ساتھ ساتھ 1088 افراد کو بھی گرفتار کیا جاچکا ہے۔ اجلاس میں وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے علاوہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے قومی ادارے (نیکٹا) کے کوارڈینٹر اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اسی بارے میں