سزائے موت پر عملدرآمد کا سلسلہ جاری، مزید دو کو پھانسی

Image caption پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے پشاور میں گذشہ ماہ 16 دسمبر کو طالبان شدت پسندوں کے حملے میں 132 بچوں سمیت 150 افراد کی ہلاکت کے بعد سزائے موت پر عمل درآمد کی بحالی کا اعلان کیا تھا

پاکستان کی مختلف جیلوں میں قید دہشت گردی کے مقدمات میں سزائے موت پانے والے افراد کی سزا پر عملدرآمد کا سلسلہ جاری ہے اور جمعرات کو مزید دو مجرمان کو پھانسی دی گئی ہے۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ پھانسیاں کراچی کی سینٹرل جیل اور لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں علی الصبح دی گئیں۔

کراچی میں سزائے موت پانے والا مجرم کالعدم تنظیم کا رکن محمد سعید تھا جسے سنہ 2001 میں ایک ریٹائرڈ ڈی ایس پی سید صابر حسین شاہ اور ان کے بیٹے عابد حسین شاہ کے قتل کے جرم میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔

لاہور کی جیل میں زاہد حسین نامی مجرم کو تختۂ دار پر لٹکایا گیا جنہیں 1998 میں ایک پولیس اہلکار کے قتل کا مجرم قرار دیا گیا تھا اور موت کی سزا سنائی گئی تھی۔

پاکستان میں پھانسی کی سزا پر عمل درآمد کا یہ سلسلہ گذشتہ ماہ سے شروع ہوا جب وزیرِ اعظم پاکستان نواز شریف نے پشاور میں آرمی سکول پر طالبان کے حملے میں 134 بچوں سمیت 143 افراد کی ہلاکت کے بعد دہشت گردوں کی سزائے موت پر عمل درآمد کی بحالی کا اعلان کیا تھا۔

اس اعلان کے بعد سے اب تک 19 مجرموں کو ملک کی مختلف جیلوں میں پھانسی دی جا چکی ہے۔

اب تک پھانسی پانے والے مجرموں میں سے زیادہ تر فوجی اداروں پر حملے یا پھر سابق صدر پرویز مشرف پر قاتلانہ حملوں کے مجرم تھے۔

تاہم اس کے ساتھ ساتھ کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے کچھ شدت پسند بھی سزائے موت پانے والوں میں شامل ہیں۔

پاکستان میں پھانسیاں دینے کا عمل ایک طویل وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے ملک میں پھانسی کی سزا پر عمل درآمد روک دیا تھا۔ سنہ 2008 سے سنہ 2013 کے دوران صرف دو افراد کو پھانسی دی گئی تھی اور ان دونوں کو فوجی عدالت سے پھانسی کی سزا ہوئی تھی۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے پاس موجود اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی جیلوں میں اس وقت ساڑھے آٹھ ہزار کے قریب ایسے قیدی ہیں جنھیں موت کی سزا سنائی جا چکی ہے اور ان کی تمام اپیلیں مسترد ہو چکی ہیں۔

ان 8500 قیدیوں میں سے ایک اندازے کے مطابق 800 سے زیادہ قیدی ایسے ہیں جنھیں دہشت گردی کے مقدمات میں سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔

اسی بارے میں