پیغمبرِ اسلام کے خاکے کی اشاعت پر پاکستان میں احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption نمازِ جمعہ کے خطبات میں خاکوں کی اشاعت کے اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت کرنے کی اپیل کی گئی ہے

فرانسیسی رسالے چارلی ایبڈو میں پیغمبرِ اسلام کے خاکے کی اشاعت کے خلاف پاکستان میں جمعے کو مذہبی جماعتوں کی اپیل پر یومِ احتجاج منایا جا رہا ہے۔

مظاہروں کا سلسلہ جمعے کی صبح سے شروع ہوا ہے اور ان میں نمازِ جمعہ کے بعد شدت آ گئی ہے اور کراچی میں ایک مظاہرے کے دوران پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں بھی ہوئی ہیں جن میں چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

توہین آمیز خاکے کے خلاف احتجاج: تصاویر

چارلی ایبڈو نے یہ خاکہ پیرس میں اپنے دفتر پر اسلامی شدت پسندوں کے حملے کے بعد اپنے اگلے شمارے کے سرورق پر شائع کیا تھا۔

طنزیہ میگزین ماضی میں بھی پیغمبرِ اسلام کے خاکے شائع کر چکا ہے اور اس حملے کی وجہ بھی ان خاکوں کی اشاعت کو قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستان میں اس خاکے پر احتجاج کا سلسلہ جمعرات سے شروع ہوا تھا جب قومی اسمبلی نے اس کے خلاف قرارداد منظور کی اور ارکانِ اسمبلی نے شاہراہِ دستور پر احتجاجی مارچ کیا۔

اس احتجاج کے بعد مذہبی اور سیاسی جماعتوں نے بھی جمعے کو احتجاج کا اعلان کیا اور جس کے تحت دارالحکومت اسلام آباد اور چاروں صوبائی دارالحکومتوں کے علاوہ ملک کے متعدد شہروں میں مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔

کراچی میں فرانسیسی قونصل خانے کی جانب بڑھنے والے مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپ ہوئی ہے جس میں فرانسیسی خبر رساں ادارے کے لیے کام کرنے والے ایک فوٹوگرافر گولی لگنے سے زخمی ہوگئے ہیں، اطلاعات کے مطابق مظاہرین میں شریک سلمان نامی شخص بھی زخمی ہو گیا ہے۔ ایک پولیس اہلکار پتھر لگنے سے زخمی ہو گیا ہے۔

زخمی فوٹوگرافر کو جناح ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق مقررہ حد سے آگے بڑھنے پر پولیس اور اسلامی جمعیت طلبہ کے احتجاجی ارکان کے درمیان جھڑپ ہوئی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ جب مظاہرین نے تین تلوار سے باتھ آئی لینڈ میں واقع فرانسیسی قونصل خانے کی جانب بڑھنا شروع کیا تو پولیس نے انھیں روکا۔

اس دوران تصادم میں مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا جس کے جواب میں پولیس کی جانب سے آنسو گیس پھینکی گئی اور ہوائی فائرنگ بھی کی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption لاہور میں امریکی قونصلیٹ کی جانب جانے والا راستہ بند کر کے وہاں پولیس تعینات کر دی گئی ہے

پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پانی کی تیز دھار کا استعمال بھی کیا تاہم وہ انھیں مکمل طور پر منتشر کرنے میں ناکام رہی ہے۔

حالات خراب ہونے پر پولیس کے علاوہ رینجرز کی نفری بھی موقع پر پہنچ گئی ہے۔

کراچی میں اس کے علاوہ ایک بڑا مظاہرہ ناگن چورنگی کے علاقے میں تنظیم اہلِ سنت و الجماعت کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔

لاہور میں بھی احتجاج

نامہ نگار صبا اعتزاز کے مطابق صوبہ پنجاب کے دارلحکومت لاہور کے مختلف علاقوں میں مذہبی اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت پر احتجاج کیا جا رہا ہے۔

پی ٹی آئی کی ایم پی اے نوشین حامد کی قیادت میں جی ٹی روڈ لاہور پر اراکین صوبائی اسمبلی نے احتجاج کیا جبکہ پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ ق کے کے ایم پی اے سلطان چیمہ نے ایک مذمتی قرارداد پیش کی ہے۔

جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ سعید کی جانب سے جوبرجی چوک پر احتجاج کا انعقاد ہوا تاہم اس میں صرف ڈیڑھ سو افراد موجود تھے اور حافظ سعید نے بتایا کہ 18 تاریخ کو مزید احتجاج کیا جائے گا۔

’ہم نے اپنی تحریک کا آغاز کیا ہے اور ہم اتوار کو ایک بہت بڑا مظاہرہ کریں گے تاکہ ہم اس عالمی دہشت گردی کا راستہ روک سکیں۔‘

اس کے علاوہ جماعتِ اسلامی اپنے صدر دفتر منصورہ میں مظاہرہ کر رہی ہے۔ لاہور میں ان دونوں مقامات کے علاوہ مال روڈ پر مسجدِ شہدا اور پریس کلب کے باہر بھی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔

مظاہروں میں شریک افراد نے بینر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے ہیں جن پر پیغمبرِ اسلام کی توہین کرنے پر چارلی ایبڈو کے خلاف نعرے درج ہیں۔ مظاہرین فرانسیسی جریدے اور خاکے بنانے والے افراد کے خلاف نعرے بازی بھی کر رہے ہیں۔

ان مظاہروں میں جمیعت علمائے اسلام (ف)، جمیعت علمائے پاکستان ، سنی تحریک اور سنی اتحاد کونسل سمیت 20 سے زائد جماعتوں کے کارکن اور قیادت شریک ہیں۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق پنجاب اور خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں وکلاء نے بھی توہین آمیز خاکے کی اشاعت کے خلاف عدالتوں کا بائیکاٹ کیا ہے اور احتجاجی ریلیاں نکالی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption وکلاء نے بھی توہین آمیز خاکے کی اشاعت کے خلاف عدالتوں کا بائیکاٹ کیا ہے اور احتجاجی ریلیاں نکالی ہیں

مذمت کی اپیل

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے تمام مساجد میں جمعے کے خطبات میں فرانسیسی میگزین میں خاکوں کی اشاعت کے اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت کرنے کی اپیل کی ہے۔

جماعت کے دفتر سے جاری پریس ریلیز کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ فرانسیسی میگزین نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے اور اشتعال انگیزی پھیلانے کی کوشش کی ہے، لہٰذا فرانسیسی حکومت اس میگزین پر پابندی عائد کرے۔

انہوں نے کہا کہ او آئی سی اس واقعے کا نوٹس لے اور مسلمان اس معاملے میں او آئی سی کے کردار سے مایوس ہیں۔

جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے اپنے بیان میں انھوں نے حکومت پاکستان اور وزارت خارجہ کی جانب سے فرانسیسی اخبار پر حملے کے نتیجے میں خاکہ نگاروں کی ہلاکت پر افسوس کرنے پر تنقید کی اور کہا ہے کہ ’حکومت کو فرانسیسی حکام اور یورپ سے احتجاج کرنا چاہیے تھا۔‘

انھوں نے امت مسلمہ اور اسلامی ممالک سے کہا کہ وہ متحد ہو کر مغربی ممالک کو ایسے دل آزار اقدامات پر معافی مانگنے پر مجبور کریں۔

خیال رہے کہ پاکستان میں یہ احتجاجی مظاہرے ایسے وقت کیے جا رہے ہیں جب حکومت نے حال ہی میں آئینی ترامیم کر کے توہین آمیز مواد کی اشاعت ، نعروں اور تقاریر پر پابندی عائد کی ہے۔

اسی بارے میں