قومی پولیو مہم کا دوسرا مرحلہ پنجاب کے بعد پشاور میں شروع

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption خیبر ایجنسی سمیت قبائلی علاقے اور خیبر پختونخوا میں بیشتر اضلاع اس حوالے سے انتہائی خطرناک سمجھے جاتے ہیں جہاں بڑی تعداد میں ہیلتھ ورکرز، رضا کار اور ان کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں

وفاقی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ ملک میں مرحلہ وار قومی پولیو مہم کادوسرا مرحلہ پنجاب کے بعد اتوار کو پشاور میں شروع ہو گیا ہے۔

وزارت صحت کی پولیو مہم کے ترجمان مظہر نثار نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ مرحلہ وار قومی پولیو مہم کا پہلا مرحلہ چند روز قبل ہی پنجاب میں مکمل ہوا ہے۔

’آج دوسرے مرحلے میں پولیو ٹیمیں پشاور میں گھر گھر بچوں کو پولیو قطرے پلا رہی ہیں جبکہ پیر سے ملک کے دیگر صوبوں میں بھی پولیو مہم شروع ہو جائےگی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ مہم پیر، منگل اور بدھ کے دن تک جاری رہے گی۔ اور اگر کچھ بچے اس میں رہ جاتے ہیں تو پھر یہ جمعرات اور جمعے کے دن بھی جاری رہے گی۔‘

اس پولیو مہم میں ہدف کے بارے میں بات کرتے ہوئے مظہر نثار نے کہا کہ اس مہم میں ایک کروڑ اسّی لاکھ سے زیادہ بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے۔

’ایک لاکھ کے قریب پولیو کی ٹیمیں اس مہم میں حصہ لیں گی اور کوشش کریں گی کہ اس مہم کے تحت ہر بچے تک رسائی حاصل کی جائے۔‘

دوسری جانب 2015 کا پہلا پولیو کیس ایف آر ٹانک سے ہفتے کے روز سامنے آیا ہے۔

مظہر نثار نے کہا کہ اس موسم میں پولیو وائرس کم ایکٹو ہوتا ہے لہٰذا پولیو وائرس کو شکست دینے کا یہ موزوں ترین وقت ہے۔

پولیو ورکرز کی سکیورٹی سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے وزارت داخلہ کو صوبوں کے ساتھ مل کر سکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لینے کو کہا گیا تھا۔

’اس حوالے سے تمام تر انتظامات کر لیے گئے ہیں اور ایک مربوط سکیورٹی پلان تیار کیا گیا ہے۔‘

پشاور میں شروع ہونے والی پولیو مہم میں 4,300 سے زائد موبائل ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جوگھرگھر جا کر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائیں گی۔

پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے پولیو ٹیموں کی حفاظت کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کرتے ہوئے ضلعے بھر میں دفعہ 144 نافذ کردی ہے۔

ضلعی انتظامیہ نے اضافی اقدامات کے تحت آج پشاور میں ایک دن کے لیے موٹر سائیکل سواری پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔

واضح رہے کہ خیبر ایجنسی سمیت قبائلی علاقے اور خیبر پختونخوا میں بیشتر اضلاع اس حوالے سے انتہائی خطرناک سمجھے جاتے ہیں جہاں بڑی تعداد میں ہیلتھ ورکرز، رضا کار اور ان کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں تین روزہ انسداد پولیومہم پیر سے شروع ہوگی۔

خیال رہے کہ پشاور میں گذشتہ ماہ انسداد پولیو مہم کے دوران ساڑھے سات لاکھ بچوں کو اس بیماری سے بچاؤ کے قطرے دینے کا ہدف رکھا گیا تھا۔

پاکستان میں گذشتہ سال پولیو کے 297 مریض سامنے آئے جن میں 66 کا تعلق خیبر پختونخوا اور 173 کا تعلق قبائلی علاقوں سے تھا۔

سنہ 2014 میں سامنے آنے والے پولیو کے مریضوں کی تعداد گذشتہ 10 سال میں سب سے زیارہ رہی ہے۔

اسی بارے میں