’پیٹرول کی قلت کی وجہ بدانتظامی ہے، وزارتِ خزانہ ذمہ دار نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption پی ایس او کا کوئی پیسہ وزارت خزانہ کے ذمے نہیں اور نہ ہی پی ایس او نے وزرات خزانہ سے رابطہ کیا تھا: اسحاق ڈار

پاکستان کے وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار ملک میں پیٹرول کی قلت کی وجہ بدانتظامی کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی وزارت کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جانا درست نہیں۔

ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب اور دارالحکومت اسلام آباد میں ایک ہفتے سے پیٹرول کا بحران جاری ہے اور عوام کو پیٹرول ڈالوانے کے لیے کئی گھنٹے قطار میں کھڑا ہونا پڑ رہا ہے۔

وزیرِ اعظم پاکستان نواز شریف نے بھی اس معاملے پر پیر کو اہم اجلاس طلب کیا ہے جس میں اس بحران کے خاتمے کے لیے تجاویز زیرِ غور آئیں گی۔

اسلام آباد میں پیر کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ وزارتِ خزانہ پیٹرول کی خریداری کی ذمہ دار نہیں اور ’یہ تاثر کہ وزارت نے کوئی ایل سی روکی ہے غلط ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ یہ بحران بدانتظامی کی وجہ سے پیدا ہوا اور جو لوگ پیٹرول کا مطلوبہ ذخیرہ برقرار رکھنے کے ذمہ دار تھے انھوں نے اپنا کام نہیں کیا اور’اگر طلب میں اضافہ ہوا پھر بھی سٹاک موجود ہونا چاہیے تھا۔‘

اسحاق ڈار کا یہ بھی کہنا تھا کہ پی ایس او سمیت تیل کی مارکیٹنگ کمپنیاں مطلوبہ ذخیرہ برقرار رکھنے کی ذمہ دار تھیں اور اس معاملے پر نظر نہ رکھنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

انھوں نے بتایا کہ ’وزیر پیٹرولیم تحقیقات کر رہے ہیں، انھوں نے گذشتہ روز تمام آئل کمپنیوں کا اجلاس بلوایا تھا، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں 60 فیصد تیل مہیا کرتی ہیں اور اگر ان کے لائسنس میں یہ شرط ہے کہ انھوں نے ایک خاص تعداد میں دنوں کے حساب سے تیل ذخیرہ کرنا ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونا چاہیے کہ انھوں نے وہ سٹاک کیوں نہیں رکھا۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پی ایس او کا کوئی پیسہ وزارت خزانہ کے ذمے نہیں اور نہ ہی پی ایس او نے وزرات خزانہ سے رابطہ کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیراعظم نے کہا کہ بحران کے حل اور عوام کو فوری ریلیف کی فراہمی کیلئے ہرممکن اقدامات کیے جائیں گے

اسحاق ڈار نے کہا کہ ’پی ایس او کے ساتھ وزارت خارجہ کا کوئی بزنس نہیں ہے، ہاں جہاں پرائیویٹ سیکٹر کو وہ تیل اور پٹرولیم مصنوعات بیچتے ہیں وہاں ان کی ذمہ داری میں یہ شامل ہے کہ بجلی پیدار کرنے والی کمپنیوں کو

وہ تیل مہیا کرتی ہے۔‘

وزیرِ خزانہ نے کہا کہ پی ایس او کی جانب سے ان کی وزارت کو روزانہ رپورٹ دینے کی خبر درست نہیں۔

وزیرِ خزانہ نے کہا کہ چند روز میں یہ بحران حل کر لیا جائے گا: ’پی ایس اور نے تعاون کی درخواست کی، ہم نے تعاون کیا اور آئندہ بھی کریں گے۔‘

اسحاق ڈار نے بتایا کہ پیر کو ہی وزیراعظم کی سربراہی میں اس معاملے پر ایک اہم اجلاس بلایا گیا ہے۔

وزیر اعظم کے ترجمان مصدق ملک کے مطابق اس اجلاس میں پیٹرول بحران کے حل کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

خیال رہے کہ صوبہ پنجاب میں سردیوں میں گیس کی کمی کی وجہ سے سی این جی سٹیشن پہلے ہی پانچ ماہ کے لیے بند ہیں اور اب ایک ہفتے سے پیٹرول کی قلت نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔

وزیرِ اعظم نواز شریف نے اس قلت کے ذمہ دار چار افسران کو معطل بھی کر دیا ہے اور صوبائی حکام سے کہا تھا کہ وہ پیٹرول کی بلیک مارکیٹنگ کی روک تھام کریں۔

اسی بارے میں