ذمہ دار سرکار اور اس کے ادارے ہی ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاکستان کے وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے سوموار کو پریس کانفرنس کے دوران اپنے محکمے کی جانب سے پٹرول کے بحران سے اعلان لاتعلقی کیا

اسلام آباد کے ایوانوں میں پیٹرول کی قلت کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنے کی کوشش نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ چاہے وہ وزارتِ خزانہ ہو، پیٹرولیم ہو یا پانی و بجلی، ملک میں جاری اس سنگین بحران کی ذمہ دار سرکار اور اس کے ادارے ہی ہیں۔

پاکستان کے وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے سوموار کو پریس کانفرنس کے دوران اپنے محکمے کی جانب سے پیٹرول کے بحران سے اعلان لاتعلقی کیا۔

انھوں نے پیٹرول کی قلت کی ذمہ داری پیٹرولیم کے وزیر شاہد خاقان عباسی اور پانی و بجلی کے وزیر خواجہ آصف پر براہ راست تو نہیں ڈالی لیکن بعض تیکھے سوالوں کے جواب میں انھوں نے اتنا ضرور کہا کہ ان سوالوں کے جواب ان دونوں وزیروں سے کیے جائیں۔

اس سے پہلے پیٹرولیم کے وفاقی وزیر شاہد خاقان عباسی نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ تیل کی فراہمی کے سرکاری ادارے پی ایس او کو سرکار کی جانب سے بروقت ادائیگی نہ ہونے کے باعث تیل کی خریداری میں تاخیر ہوئی یعنی بلواسطہ طور پر پیٹرولیم کے وزیر نے وزارتِ خزانہ کی جانب سے فنڈز بروقت جاری نہ ہونے کو اس بحران کا ذمہ دار قرار دیا۔

پیٹرول کے جس بحران کا پاکستانی آبادی کے بڑے حصے کو سامنا ہے، اگر اس کی وجوہات سمجھنے کی کوشش کی جائے تو جو الزامات مختلف وزار دبے اور ڈھکے چھپے انداز میں ایک دوسرے پر عائد کر رہے ہیں وہ سب ہی ٹھیک دکھائی دیتے ہیں۔

سرکاری بد انتظامی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاکستان سٹیٹ آئل وہ سرکاری ادارہ ہے جو ملک میں استعمال ہونے والے پٹرول کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے اور جو نجی کمپنیاں بھی تیل درآمد کرتی ہیں وہ بھی سخت سرکاری نگرانی میں ایسا کرتی ہیں

پاکستان میں پیٹرول کی ترسیل پر سرکاری اجارہ داری ہے۔ چند برس قبل یہ سرکاری اجارہ داری ختم کرنے کی کوششوں کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا گیا تھا کہ یہ ایندھن پاکستان کی دفاعی مشینری کو چلانے کا ذمہ دار ہے لہٰذا اسے غیر سرکاری تحویل میں نہیں دیا جا سکتا۔

اب صورتِ حال یہ ہے کہ پاکستان سٹیٹ آئل وہ سرکاری ادارہ ہے جو ملک میں استعمال ہونے والے پیٹرول کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے اور جو نجی کمپنیاں بھی تیل درآمد کرتی ہیں وہ بھی سخت سرکاری نگرانی میں ایسا کرتی ہیں۔

سرکار کی جانب سے نگرانی کا یہ کام اوگرا (آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی) انجام دیتی ہے۔

اتنے سخت سرکاری کنٹرول میں اگر ملک میں تیل کی فراہمی کے نظام کہیں گڑ بڑ ہوتی ہے تو اس کی ذمہ داری انہی سرکاری اداروں میں سے کسی ایک یا سب کو لینے ہو گی۔

تیل کی فراہمی کے نظام میں جو خلل پیدا ہوا ہے اس کا آغاز واجبات کی عدم ادائیگی سے ہوتا ہے۔

واجبات کی عدم ادائیگی

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption پی ایس او نے 24 اور 30 دسمبر کو وفاقی حکومت کو تحریری طور پر اس صورتِ حال سے آگاہ کرتے ہوئے انتباہ کر دیا کہ پیسے نہ ہونے کے باعث وہ عالمی منڈی سے مزید پٹرول خریدنے کے قابل نہیں ہے

پی ایس او ملکی ضروریات کے لیے جو پیٹرول درآمد کرتا ہے وہ سرکاری اور نجی اداروں کو فروخت کرتا ہے۔

پچھلے چند ماہ میں جن سرکاری اداروں نے یہ پیٹرول خریدا اور اس کی ادائیگی نہیں کی اور جن نجی کمپنیوں نے خریدا انھوں نے یہ کہہ کر پی ایس او کو پیسے نہیں دیے کہ حکومت ایک دوسری مد میں ہماری مقروض ہے لہٰذا وہ یہ پیسے ہماری جانب سے حکومت سے وصول کر لے۔

نہ سرکاری اداروں نے پی ایس او کو پیسے دیے اور نہ ہی نجی کمپنیوں کی جانب سے وزارتِ خزانہ نے ادائیگیاں کیں جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پی ایس او کے پاس عالمی منڈی سے تیل خریدنے کے لیے پیسے نہیں رہے۔

پی ایس او نے 24 اور 30 دسمبر کو وفاقی حکومت کو تحریری طور پر اس صورتِ حال سے آگاہ کرتے ہوئے انتباہ کر دیا کہ پیسے نہ ہونے کے باعث وہ عالمی منڈی سے مزید پیٹرول خریدنے کے قابل نہیں ہے۔

تیل کے دستیاب ذخائر سے لاعلمی

وفاقی حکومت نے اس وارننگ کا شائد اس لیے بھی نوٹس نہیں لیا کہ پی ایس او اگر نیا تیل درآمد نہیں بھی کرتا تو بلیک میں تین ہفتے کے ذخائر موجود ہونے چاہئیں کیونکہ قاعدے اور قانون کے مطابق تیل درآمد کرنے والی تمام نجی اور سرکاری کمپنیاں اتنی مقدار میں تیل ذخیرہ کرنے کی پابند ہیں اور اوگرا کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ان ذخائر کی روزانہ کی بنیاد پر مانٹرنگ کرے۔

چھ جنوری کو کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی میں یہ مسئلہ زیرِ بحث آیا تو حکومت کو بتایا گیا کہ ملک میں 18 دن کے لیے تیل کے ذخائر موجود ہیں یعنی ملک میں اتنا پیٹرول ہے کہ وہ 24 جنوری تک کے لیے کافی ہے تاہم آٹھ دن بعد یعنی 14 جنوری کو صوبہ پنجاب اور ملک کے دیگر شمالی حصوں میں پیٹرول پمپس، پیٹرول کی عدم دستیابی کے باعث بند ہونا شروع ہو گئے۔

طلب میں اضافے کے غلط اندازے

تصویر کے کاپی رائٹ PA

حکومت نے دسمبر میں اعلان کیا کہ قدرتی گیس کی کمی کے باعث ٹرانسپورٹ سیکٹر کو سردیوں میں یعنی آئندہ تین سے چار ماہ تک گیس یا سی این جی فراہم نہیں کی جائے گی۔

پاکستان میں جس قدر سی این جی گاڑیوں میں ایندھن کے طور پر استعمال ہوتی ہے اس کی بنیاد پر ان گاڑیوں کے پیٹرول پر منتقل ہونے سے پیٹرول کی مانگ میں کب اور کتنا اضافہ ہو گا، یہ سمجھنے کے لیے حکومت کو کسی غیر معمولی ذہانت کی ضرورت نہیں تھی۔

تاہم جب یہ بات حکومت کی سمجھ میں آئی اس وقت بہت دیر ہو چکی تھی اور وہ سی این جی صارفین ایک بار پھر طویل لائنوں میں کھڑے تھے۔ فرق صرف اتنا تھا کہ یہ لائنیں سی این جی نہیں بلکہ پیٹرول کے حصول کے لیے تھیں۔

ایسے میں وزیر، وزارتیں اور دیگر سرکاری ادارے اس بحران کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال رہے ہیں تو کچھ ایسا غلط بھی نہیں کر رہے۔ کیونکہ یہ سب ادارے ہی اس بیوقوفی کے شریکِ جرم ہیں۔

اسی بارے میں