پشاور میں صحافیوں کے لیے ٹراما سینٹر

Image caption کومپی ٹینس اینڈ ٹراما سینٹر پشاور یونیورسٹی کے شعبۂ نفسیات میں قائم کیا گیا ہے جس کے لیے یونیورسٹی کے شعبۂ صحافت اور جرمن ادارے ڈی ڈبلیو اکیڈمی نے مالی تعاون کیا ہے

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں جنگ زدہ علاقوں میں کام کرنے والے صحافیوں کے لیے ملک کے پہلے ٹراما سینٹر نے کام شروع کر دیا ہے۔

اس سینٹر میں صحافیوں کو شدید ذہنی دباؤ سے بچنے اور دیگر نفسیاتی مسائل سے نمٹنے کے لیے علاج کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

ذیشان انور گذشتہ پانچ برس سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ ان پانچ برسوں میں وہ سینکڑوں حملوں اور دھماکوں کی رپورٹنگ کر چکے ہیں۔

لیکن 16 دسبمر کو پشاور کے آرمی پبلک سکول پر ہونے والے حملے کی کوریج کے بعد ان کی ذہنی کیفیت ایسی ہوئی کہ انھیں دو روز بعد ہی پشاور میں صحافیوں کے لیے قائم کیے گئے ٹراما سینٹر میں نفسیاتی مدد کے لیے رجوع کرنا پڑا۔

’مجھے نیند نہیں آرہی تھی۔ میں 16 دسمبر کو سی ایم ایچ گیا تھا جہاں میں نے وہاں لائی جانے والی بچوں کی لاشیں دیکھیں۔ مجھے بار بار انھی کا خیال آ رہا تھا۔ میں ذہنی دباؤ میں تھا۔ پھر مجھے صحافیوں کے لیے قائم ٹراما سینٹر کا پتہ چلا اور میں یہاں علاج کے لیے آیا۔‘

کامپی ٹینس اینڈ ٹروما سینٹر پشاور یونیورسٹی کے شعبۂ نفسیات میں قائم کیا گیا ہے جس کے لیے یونیورسٹی کے شعبۂ صحافت اور جرمن ادارے ڈی ڈبلیو اکیڈمی نے مالی تعاون کیا ہے۔

ذیشان کہتے ہیں: ’سائیکو تھیراپسٹ میرے نفسیاتی ٹیسٹ لے رہے ہیں۔ میری ہسٹری سے متعلق معلومات لی گئی ہیں اور کچھ ذہنی ورزشیں بھی بتائی ہیں۔ مجھے لگتا ہے اب میرا ذہن پہلے جیسا منتشر نہیں اور میرا کام پر فوکس بحال ہوگیا ہے۔‘

ذیشان ان نو صحافیوں میں سے ایک ہیں جو اب تک ٹراما سینٹر سے مستفید ہو چکے ہیں۔ یہ سینٹر دو کمروں پر مشتمل ہیں جس میں ایک ریلیکسنگ روم ہے جبکہ دوسرا کمرہ سائیکو تھیراپی کے سیشنز کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ریلیکسنگ روم کو نیلا رنگ دیا گیا ہے جو سکون اور ہم آہنگی کی علامت ہے۔ ان کمروں میں سجاوٹ بھی ایسی ہی کی گئی ہے کہ تھیراپی کے لیے آنے والوں کا حوصلہ بڑھے اور انھیں سکون مل سکے۔

پاکستان دنیا بھر میں صحافیوں کے لیے انتہائی خطرناک ملک سمجھا جاتا ہے، جہاں انھیں صرف جان کے خطرات ہی درپیش نہیں بلکہ وہ معاشی عدم تحفظ کے باعث بھی شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔

سائیکو تھیراپسٹ فرحت ناز نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں تین ماہ کا پائلٹ پروجیکٹ شروع کیا گیا تھا جو کافی کامیاب رہا۔ صحافیوں کو ان کی ذہنی کیفیت کی شدت کی مناسبت سے روزانہ یا ہفتہ وار سیشنوں کے لیے بلایا جاتا ہے۔

’پہلے ہم معلومات لیتے ہیں۔ کچھ ٹیسٹ لیتے ہیں اور پھر تھیراپی شروع کرتے ہیں۔ زیادہ تر لوگوں کے رویوں پر کام کیا جاتا ہے کہ وہ غصے اور دباؤ سے کیسے مقابلہ کر سکتے ہیں اور ایسی صورت میں ان کا ردعمل کیا ہونا چاہیے۔‘

دہشت گردی کے واقعات سے متعلق اعداد و شمار اکٹھے کرنے والی ویب سائٹ ساؤتھ ایشیا ٹیررزم کے مطابق صرف گذشتہ برس پشاور میں 169 حملے اور دھماکے ہوئے۔

مقامی صحافیوں کو نفسیاتی مدد اور رہنمائی دینے کے لیے قائم کیے گئے ملک کے پہلے کامپی ٹینس اینڈ ٹراما سینٹر کے روح و رواں پشاور کے شعبۂ صحافت کے چیئرمین الطاف خان ہیں۔

الطاف خان کہتے ہیں: ’اس علاقے میں ذہنی دباؤ کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ ایک تو ہم یہ چاہتے تھے کہ صحافیوں میں یہ اہلیت پیدا ہو کہ وہ کسی بھی پرتشدد کارروائی کی کوریج پر جانے سے پہلے خود کو اس لے لیے تیار کر سکیں اوردوسرا یہ کہ جو مسائل پیدا ہو چکے ہیں ان کا علاج ہو سکے۔ کیونکہ یہ ذہنی مسائل صرف صحافیوں کو ہی متاثر نہیں کر رہے بلکہ ان کی پراڈکٹ یا رپورٹنگ کےذریعے لوگوں کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔‘

Image caption ٹراما سینٹر میں علاج کے لیے صحافی براہ راست بھی رابطہ کرسکتے ہیں تاہم اس حولے سے پریس کلب بھی ٹروما سینٹر کے ساتھ کام کر رہا ہے

ٹراما سینٹر میں علاج کے لیے صحافی براہ راست بھی رابطہ کر سکتے ہیں تاہم اس حوالے سے پریس کلب بھی ٹراما سینٹر کے ساتھ کام کر رہا ہے۔

منصوبہ شروع کرنے سے پہلے خدشہ یہ تھا کہ شاید صحافی نفسیاتی علاج سے منسلک سماجی تاثر کے باعث اس منصوبے میں کوئی زیادہ دلچسپی نہ لیں تاہم شعبۂ صحافت کے چئیرمین الطاف خان صحافیوں کے ردعمل سے مطمئن ہیں۔

ان کا کہنا تھا: ’میں چاہوں گا کہ اس کو خواتین صحافی بھی اپنائیں۔ ایک تو علاقے میں خواتین صحافیوں کی تعداد کم ہے۔ دوسرا، خواتین کے نفسیاتی علاج کروانے کے حوالے سے سماجی رویے بھی بہت حوصلہ افزا نہیں لیکن جب اس منصوبے کی گروہی ملکیت پیدا ہو گی تو مجھے یقین ہے کہ خواتین بھی اس میں دلچسپی دکھائیں گی اور اپنے ذہنی دباؤ کےبارے میں بات کریں گی۔‘

پشاور کے صحافی تو ہر لمحہ کسی پرتشدد کارروائی کی زد میں ہیں۔ تاہم ملک کے دوسرے شہروں میں بھی جان کے تحفظ، مالی مشکلات اور کام کے بے تحاشا بوجھ تلے دبے صحافیوں کی صورتِ حال بھی زیادہ نہیں مختلف نہیں ہے۔

ٹراما سینٹر کا منصوبے کے لیے فی الحال تین سال کی فنڈنگ دستیاب ہے تاہم اسے ملک کے دوسرے علاقوں تک پھیلانے کی تجویز زیرِ غور ہے۔

اسی بارے میں