’بیک وقت تین طلاقیں دینا جرم ہے‘

Image caption ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دینا پیغمبر اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے

پاکستان کی اسلامی نظریاتی کونسل نے ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دینے کو قابل سزا جرم قرار دیتے ہوئے اس بارے میں قانون سازی کرنے کی سفارش کی ہے۔

اسلامی کونسل کا اجلاس بدھ کو مولانا خان محمد شیرانی کی سر براہی میں ہوا اور ایجنڈے میں شامل دو نکات پر تبادلہ خال کرتے ہوئے فیصلہ دیا گیا۔

اجلاس میں شامل علامہ طاہر اشرفی نے بی بی سی کو بتایا کہ اجلاس میں اس بات پر غور کیا گیا کہ چونکہ میاں بیوی کا رشتہ بڑا مقدس ہے اس لیے بیک جنبش قلم تین طلاقیں نہیں دی جاسکتیں۔

اُنھوں نے کہا کہ ’قرآن اور سنت کی تعلیمات میں بھی یہ واضح ہوا ہے کہ ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دینا پیغمبر اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے۔‘

طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ وقفے سے تین طلاقیں دینے سے اس بات کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں کہ اس عرصے کے دوران میاں بیوی کے درمیان پیدا ہونے والی غلط فہمیاں دور ہو جائیں گی۔

کونسل نے یہ بھی سفارش کی ہے کہ عدالتوں کے باہر طلاق کے فارم تقسیم کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔

اسلامی نظریاتی کونسل نے یہ بھی فیصلہ دیا ہے کہ کسی خاتون کے جج مقرر ہونے پر شریعت نے کوئی پابندی نہیں لگائی اور نہ ہی مذہب میں ایسی کوئی مثال موجود ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل کا کہنا تھا کہ خاتون کو جج کے عہدے پر تعینات کیا جاسکتا ہے بشرط یہ کہ خاتون کی عمر 40 سال سے زائد ہونی چاہیے اور اسے باپردہ ہونا چاہیے۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے اسلامی نظریاتی کونسل سے سوال کیا تھا کہ کیا کسی عورت کے جج مقرر ہونے پر دین میں کوئی ممانعت ہے؟

اس کے علاوہ کونسل نے پاکستان کا یوم آزادی 14 اگست کی بجائے ستائیس رمضان پر ملک میں عام تعطیل کرنے کی درخواست کو مسترد کردیا۔اس ضمن میں ایک خط اسلامی نظریاتی کونسل کو موصول ہوا تھا جس میں ملک میں عام تعطیل 14 اگست کی بجائے 27 رمضان کو کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔

یاد رہے کہ اس سے قبل اسلامی نظریاتی کونسل نے تجویز کیا تھا کہ ان پاکستانی قوانین میں تبدیلی کی جائے جن کے مطابق کم عمری میں شادی پر پابندی ہے اور کسی مسلمان مرد کو دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی سے اجازت لینا لازم ہے۔

اسی بارے میں