پی ٹی آئی کے استعفے، معاملہ آئینی یا سیاسی؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption عمران خان نے قومی اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ دیا تاہم وہ اب تک منظور نہیں ہو سکا

سندھ اسمبلی میں تو تحریک انصاف کے ارکان کے استعفےمنظور کرلیے گئے تاہم قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی دیے جانے والے استعفوں کے بارے میں ابھی تک خاموشی ہے۔

قومی اور پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کے ارکان کے استعفےچار ماہ سے متعلقہ سپیکرز کے پاس ہیں لیکن ابھی تک ان کی منظوری ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔

اس حوالے سے سپیکر پنجاب رانا محمد اقبال کا موقف ہے کہ وہ آئین کے تحت اجتماعی استعفے منظور نہیں کرسکتے اور پی ٹی آئی کے ہر رکن اسمبلی کے استعفے کو انفرادی طور پر دیکھنا ہوگا۔

تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کے استعفوں کی منظوری کے لیے ایک درخواست لاہور ہائی کورٹ میں بھی زیر سماعت ہے جہاں سپیکر پنجاب اسمبلی کے وکیل نے عدالت میں موقف احتیار کیا کہ استعفے منظور کرنا یا نہ کرنا سپیکر کا صوابدیدی اختیار ہے۔

سپیکر رانا اقبال کے وکیل کے عدالت میں پیش کردہ موقف کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے کہ سپیکر اپنے یہ اختیار کب استعمال کریں گے؟

یہ امر حیرت کا باعث ہے کہ 30 ارکان اسمبلی کے استفعوں کا انفرادی طور پر جائزہ لینے میں سپیکر کو اتنی دیر کیوں لگ رہی ہے اور یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ استعفوں کی منظوری کے لیے سپیکر کو اور کتنا وقت چاہیے۔

تحریک انصاف صوبہ پنجاب میں حزب اختلاف کی ایک بڑی جماعت ہے اور مارچ میں ہونے والے سینیٹ کے انتخابات میں بھی کردار ادا کرسکتی ہے۔

سیاسی پنڈتوں کا یہ ماننا ہے کہ یہ معاملہ آئین کا نہیں بلکہ سیاسی مفادات کا ہے۔ تحریک انصاف آنے والوں دنوں میں اپنی سیاسی اہمیت کو کم نہیں کرنا چاہتی جبکہ حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) موجودہ حالات میں اپنے لیے کوئی نئی سیاسی مشکل پیدا نہیں کرنا چاہتی۔

سنئیر صحافی اور تحزیہ نگار عارف نظامی کا کہنا ہے کہ حکمران جماعت مسلم لیگ نون کے لیے تحریک انصاف کے ارکان کے استعفے منظور کرنا کوکوئی آسان کام نہیں ہے کیونکہ بقول ان کےخالی ہونے والے نشستوں پر ضمنی انتخابات کروانے پڑیں گے اور یہ ضمنی انتخابات’منی الیکشن‘ ہوں گی جو حکومت کے لیے کسی سیاسی آزمائش سے کم نہیں ہیں۔

عارف نظامی کا موقف ہے کہ ایک طرف جہاں حکمران جماعت کے لیے استعفے منظور کرنے سیاسی طور پر مشکل ہیں وہیں تحریک انصاف بھی سیاسی اعتبار سے اسی طرح کی صورتحال سے دوچار ہیں۔

ان کے بقول تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ایک خاص قسم کے ماحول میں استعفے دینے کا اعلان کیا تھا جب ایک تحریک زور پکڑ رہی تھی لیکن اب ایسا نہیں ہے اور اب تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کو یہ اندیشہ ہے کہ اگر اسمبلی اپنی آئینی مدت مکمل کرتی ہیں اور اسی دوران وہ استعفے دے کر باہر آجاتے ہیں تو وہ سیاسی طور پر کنارہ کش ہو جائیں گےـ

سیاسی تجز یہ نگاروں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے ارکان استعفی نہیں دینا چاہتے تھے اور یہ بات اسی وقت واضح ہوگئی تھی جب عمران خان کے اعلان کے بعد بغاوت ابھری تھی اور کے پی کے سے تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی نے استعفے دینے سے انکار کردیا تھا۔

سینیئر تجزیہ نگار ڈاکٹر حسن عسکری کا کہنا ہے ’اس وقت مسلم لیگ (ن) استعفوں کے معاملے میں تاخیر کر کے تحریک انصاف کے اندر اس تقسیم کو نمایاں کرنا چاہتی ہے جبکہ تحریک انصاف الیکشن تک جوڈیشل کمیشن کی تشکیل تک معاملہ لٹکانا چاہتی ہے تاکہ فیس سیونگ کی جا سکے ـ دونوں کا سیاسی ایجنڈہ واضع ہے ـ‘

ویسے تو حکمران جماعت مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف کے درمیان کسی بھی نکتے پر اتفاق رائے کم ہی ہے لیکن استعفوں کے معاملے پر بظاہر یہ لگتا ہے کہ دونوں جماعتیں ’وقت گزارو‘ کی پالیسی پر متفق ہیں۔

تاہم سندھ اسمبلی میں تحریک انصاف کے استعفوں کی منظوری کے بعد صورتحال نے ایک نیا رخ اختیار کرلیا ہے اور اب آنے والے دن ہی یہ تعین کریں گیں کہ سپیکر قومی اسمبلی اور پنجاب اسبملی کیا حکمت عملی اپناتے ہیں۔

اسی بارے میں