سندھ :تحریک انصاف کے چار ارکان کے استعفے منظور

Image caption سیما ضیا پی ٹی آئی کےان چار اراکین میں شامل ہیں جن کے استعفے بدھ کو منظور ہوئے

پاکستان کے صوبہ سندھ کی اسمبلی کے سپیکر نے پاکستان تحریکِ انصاف کے چار ارکان کے استعفے منظور کر لیے ہیں۔

تحریک انصاف نے 2013 کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف دھرنوں کے دوسرے مرحلے میں چار ماہ قبل قومی اسمبلی اور دو صوبائی اسمبلیوں سے استعفے دیے تھے۔

قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں تاحال ان استعفوں کی منظوری کا معاملہ لٹکا ہوا ہے، لیکن سندھ اسمبلی کے سپیکر آغا سراج درانی نے بدھ کو ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ وہ کافی انتظار کر چکے ہیں تاہم تحریک انصاف کے اراکین نے ان کے نوٹس کا کوئی جواب نہیں دیا، اس لیے انھوں نے استعفے منظور کر لیے ہیں۔

جن اراکین کے استعفے منظور کیے گئے ہیں ان میں ثمر علی خان، خرم شیر زمان، سید حفیظ الدین اور سیما ضیا شامل ہیں۔ سندھ اسمبلی میں یہ استعفے یکم ستمبر 2014 کو جمع کرائے گئے تھے۔

سندھ اسمبلی کے اجلاس کے آغاز سے قبل میڈیا سے بات کرتے ہوئے سپیکر کا کہنا تھا کہ انھوں نے خالی ہونے والی نشستوں پر ضمنی انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کو خط بھی تحریر کر دیا ہے۔

Image caption استعفوں کی منظوری کے لیے ٹائمنگ حکمرانوں نے اپنی مرضی کی منتخب کی ہے: پی ٹی آئی کےمستعفی رکن حفیظ الدین

خیال رہے کہ تحریکِ انصاف کے سید حفیظ الدین کو ان کے مستعفی ہونے کے بعد الیکشن ٹریبیونل نے دھاندلی کے الزام میں نااہل قرار دیا تھا اور ان کی جگہ پر جماعت اسلامی کے امیدوار عبدالرزاق کو کامیاب قرار دیا گیا تھا۔ تاہم یہ معاملہ ابھی عدالت میں ہے۔

سندھ اسمبلی میں تحریک انصاف کے پارلیمانی رہنما حفیظ الدین ایڈووکیٹ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سپیکر کی جانب سے انھیں کوئی نوٹس نہیں ملا اور ’اگر انھوں نے استعفے منظور کر لیے ہیں تو ٹھیک ہے یہ ان کی پارٹی کا فیصلہ تھا جس کی انھوں نے پیروی کی۔‘

انھوں نے اپنی جماعت کا موقف دہرایا کہ ملک میں دھاندلی زدہ انتخابات ہوئے جن کے ذریعے تحریک انصاف کا مینڈیٹ چوری کیا گیا تھا۔

حفیظ الدین کا کہنا تھا کہ استعفے اس دھاندلی کے خلاف احتجاج تھا کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ صرف اسمبلیوں میں بیٹھنے سے وہ لوگوں کی خدمت نہیں کر سکتے ۔ بقول ان کے خیبر پختونخوا میں وہ لوگوں کی خدمت کر سکتے ہیں وہاں اس سلسلے کو جاری رکھا جائے گا۔

حفیظ الدین نے یہ بھی کہا کہ سپیکر کے اس فیصلے کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ سینیٹ الیکشن کے اعلان کے ساتھ ہی یہ استعفے منظور کر لیے گئے ہیں۔

’استعفوں کی منظوری کے لیے ٹائمنگ حکمرانوں نے اپنی مرضی کی منتخب کی ہے۔‘

یاد رہے کہ سینیٹ میں سندھ کی 11 نشستوں پر تین مارچ کو انتخابات ہوں گے۔

ان نشستوں سے پاکستان پیپلز پارٹی کے آٹھ سینیٹر ریٹائر ہوں گے، جن میں سابق وفاقی وزرا رحمان ملک، فاروق ایچ نائیک، مولا بخش چانڈیو، گل محمد لاٹ، سلیم مانڈی والا، اسلام الدین شیخ، عبدالقیوم سومرو اور الماس پروین شامل ہیں جبکہ متحدہ قومی موومنٹ کے تین سینیٹر ریٹائر ہوں گے، بابر غوری، عبدالحسیب اور شیرالا ملک۔

اسی بارے میں