’ضرورت ہو تواستاد مسلح ہو کر سکول جائیں‘

Image caption اسلحہ رکھنے کی اجازت عدم تحفظ کا احساس کرنے والے اساتذہ کو دی، صوبائی وزیرتعیلم

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کی حکومت نے کہا ہے کہ اساتذہ کرام کا تعلیمی اداروں کے اندر اسلحہ لانا لازمی نہیں ہے بلکہ انھیں پیش کش کی گئی ہے کہ اگر وہ ضرورت محسوس کرتے ہیں تو مسلح ہوکر سکول جاسکتے ہیں۔

یہ وضاحت خیبر پختونخوا کے وزیر تعلیم عاطف خان نے بدھ کو پشاور میں آل پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن کی طرف سے منعقدہ اساتذہ کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کی۔

عاطف خان نے کہا کہ صوبائی کابینہ نے ایسا کوئی تحریری فیصلہ نہیں کیا ہے کہ تعلیمی اداروں کی حفاظت کے پیش نظر اساتذہ کو اسلحہ لانے کی اجازت ہوگی۔

انھوں نے بتایا کہ حکومت نے دور دراز کے علاقوں میں کام کرنے والے اساتذہ کو پیش کش کی تھی کہ اگر وہ عدم تحفظ محسوس کرتے ہیں تو انہیں سکولوں کے اندر لائسنس شدہ اسلحہ لانے کی اجازت دے دی جائےگی ۔

صوبائی وزیر نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ استاد کا کام پڑھانا جبکہ سکولوں کو سکیورٹی فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

یاد رہے کہ خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان اور صوبائی وزیر مشتاق غنی نے چند دن پہلے صوبائی کابینہ کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ حکومت نے اساتذہ کو سکولوں کے اندر لائسنس شدہ اسلحہ لانے کی اجازت دے دی ہے۔ تاہم اس فیصلے کو اساتذہ سمیت صوبے کے تمام سیاسی جماعتوں نے یکسر طورپر مسترد کردیا تھا اور حکومت کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا تھا۔

گزشتہ چند دنوں سے ذرائع ابلاغ میں بھی اس حکومتی فیصلے پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔

عاطف خان نے مزید کہا کہ آرمی پبلک سکول پشاور پر ہونے والے حملے کے بعد سے صوبے بھر میں تعلیمی اداروں کی سکیورٹی بہتر بنانے کےلیے مسلسل بنیادوں پر کام کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’تعلیمی اداروں کے چوکیدار اور نائب قاصدوں کو بھی اسلحہ فراہم کیا جا رہا ہے تاکہ بوقت ضرورت ان کو کام میں لایا جاسکے۔‘

اس سے پہلے کنوشن سے خطاب کرتے ہوئے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے سرکاری سکولوں کے اساتذہ نے تعلیمی اداروں میں اسلحہ لانے کی اجازت دینے کی سخت الفاظ میں مخالفت کی۔ انھوں نے یک زبان ہوکر کہا کہ ’اساتذہ کا کام بچوں کو پڑھانا ہے ، اسلحہ اٹھانا نہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ وہ کسی بھی صورت میں اس فیصلے کو ماننے کےلیے تیار نہیں کہ اساتذہ کو تعلیمی اداروں میں اسلحہ لانے کی اجازت دی جائے یا سکولوں کی سکیورٹی کا کام ان کے ذمے لگایا جائے۔

کنوشن سے آل پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن کے صوبائی صدر ملک خالد اور سابق صوبائی وزراء سردار حسین بابک اور سلیم خان نے بھی خطاب کیا۔

خیال رہے کہ آرمی پبلک سکول پشاور پر ہونے والے طالبان حملے کے بعد شہر میں تعلیمی اداروں کے تحفظ کے حوالے سے بدستور ایک خوف کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ شہر کے مضافاتی علاقوں میں میں بیشتر سرکاری و نجی سکول بدستور یا تو بند ہے یا وہاں طلبہ کی حاضری نہ ہونے کے برابر ہے۔

اسی بارے میں