دہشت گرد تنظیموں کے اثاثے منجمد کر چکے ہیں: دفترِ خارجہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے 2008 میں بھارتی شہر ممبئی پر حملوں کے بعد جماعت الدعوۃ پر پابندیاں لگائی تھیں اور اسے دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کے مطابق جماعت الدعوۃ سمیت ان تمام دہشت گرد تنظیموں کے اثاثوں کو منجمد کیا جا چکا ہے جن پر اقوامِ متحدہ نے پابندی لگائی ہوئی ہے۔

دفترِ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے جمعرات کو ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ اقوامِ متحدہ کے رکن ہونے کی حیثیت سے پاکستان پر لازم ہے کہ وہ ان تنظیموں یا افراد پر پابندیاں لگائے۔

جماعت الدعوۃ اور حقانی نیٹ ورک پر پابندی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ جماعت الدعوۃ اور دیگر تنظیموں پر اقوامِ متحدہ کی جانب سے پابندی لگنے کے بعد پاکستان کو ان کے اثاثے منجمد کرنا اور سفری پابندیاں عائد کرنا لازم تھا اور ہم نے یہ کارروائی کی۔

تسنیم اسلم نے کہا کہ ان تنظیموں اور افراد کے بینک کھاتے ایک ’ایس آر او‘ کے اجرا کے بعد منجمد کیے گئے۔

تاہم ترجمان نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ پابندیاں حال ہی میں لگائی گئی ہیں یا کچھ عرصے سے عائد ہیں۔

بی بی سی کی عنبر شمسی کے مطابق انھوں نے یہ بھی بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف قومی ایکشن پلان کے مطابق ایسی کالعدم تنظیموں کے غیر قانونی مالیاتی ذرائع کے خلاف کارروائی کے بارے میں غور و فکر ہو رہا ہے: ’لیکن اس کی مزید وضاحت وزارتِ داخلہ اور نیکٹا سے ہی لی جا سکتی ہے۔‘

خیال رہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے 2008 میں بھارتی شہر ممبئی پر حملوں کے بعد جماعت الدعوۃ پر پابندیاں لگائی تھیں اور اسے دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔

بھارت اور امریکہ کے مطابق جماعت الدعوۃ ان حملوں کی ذمہ دار تھی جس میں 174 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اقوامِ متحدہ نے ساتھ ہی اپنی قرارداد میں کہا تھا کہ الاختر ٹرسٹ اور الرشید ٹرسٹ جماعت الدعوۃ کو تعاون فراہم کرتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ نے حافظ سعید، ذکی الرحمان لکھوی، حاجی محمد اشرف اور محمود محمد احمد کو جماعت الدعوۃ کے سینیئر رہنما قرار دیا ہے۔ جماعت الدعوۃ نے 2002 میں اپنا نام لشکرِ طیبہ سے تبدیل کر لیا تھا، جب پاکستان میں کالعدم قرار دیا گیا تھا۔

امریکہ نے گذشتہ برس ہی جماعت الدعوۃ کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے مالیاتی پابندیاں عائد کی تھیں، جبکہ سربراہ حافظ سعید کے بارے میں معلومات کے لیے ایک کروڑ ڈالر کا انعام کی پیش کش کی گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جماعت الدعوۂ کے ذکی الرحمان لکھوی پر پاکستان میں ممبئی حملوں کی سازش کا مقدمہ چل رہا ہے

دوسری جانب جماعت الدعوۃ پاکستان کے ترجمان محمد یحییٰ مجاہد نے ترجمان دفتر خارجہ کے بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی دباؤ پر بھارت کو خوش کرنے کے لئے جماعت الدعوۃ کے خلاف ایسے بیانات دیے جا رہے ہیں۔

بی بی سی کی نامہ نگار شمائلہ جعفری کے مطابق اپنے بیان میں ترجمان جماعت الدعوۃ نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں اقوام متحدہ کی پابندیوں کے معاملات زیر بحث رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ کے فل بینچ اور سپریم کورٹ کی طرف سے واضح طور پر فیصلے دیے جا چکے ہیں کہ جماعت الدعوۃ پر پاکستان میں کوئی پابندی نہیں اور اسے ملک میں رفاہی و فلاحی سرگرمیاں جاری رکھنے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔

یحییٰ مجاہد نے کہا کہ جماعت الدعوۃ پاکستان میں دعوتی، تبلیغی و رفاہی سرگرمیاں جاری رکھے گی۔

اسی بارے میں