وزیر کا بیان غلط ہے یا باہمی تعلقات کی تاریخ؟

Image caption اب بھی پاکستانی مدارس کو سعودی عرب سمیت دیگر ممالک سے فنڈنگ ملتی ہے اور حکومت اس سے آگاہ ہے، پروفیسر حسن عسکری

سعودی بادشاہ شاہ عبداللہ کے رخصت ہوتے ہی نئے فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اعلان کیا کہ ’ہم ان صحیح پالیسیوں پر کاربند رہیں گے جو سعودی عرب نے اپنے قیام کے بعد سے اختیار کر رکھی ہیں۔‘

اس وقت پورا مشرق وسطی فرقہ واریت کا شکار نظر آتا ہے۔ عراق اور شام میں انتہا پسندانہ خیالات کی حامل دولت اسلامیہ نامی سنی تنظیم شیعہ اکثریتی عراقی حکومت سے برسرِیپکار ہے دوسری طرف یمن میں شیعہ حوثی قبائل سنّی حکومت سے مسلح کشمکش میں الجھے ہوئے ہیں۔ شام میں ایران اور حزب اللہ صدر بشار الاسد کی حکومت کو بچانے کی کوشش میں شامی باغیوں سے نبردآزما ہیں۔

یمن ہو یا شام، عراق ہو یا بحرین شیعہ سنی کشمکش جہاں جہاں نظر آتی ہے وہاں سعودی عرب اور ایران کے پس پردہ ملوث ہونے کے الزامات کبھی کھلے بندھوں اور کبھی ڈھکے چھپے الفاظ میں لگائے جاتے ہیں۔

پاکستان میں بھی صورت حال مختلف نہیں ہے اور گذشتہ تقریباً دو دہائیوں سے ملک میں فرقہ واریت کے بڑھتے ہوئے مسئلہ کو دبے دبے الفاظ میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان ’پراکسی وار‘ یا بالواسط لڑائی کا شاخسانہ قرار دیا جاتا ہے۔

حکومتی اہلکاروں کی طرف سے بھی اکثر دبے دبے الفاظ میں سعودی عرب اور ایران کی طرف سے فرقہ وارانہ تنظیموں کی مالی معاونت کی بات ہوتی رہی ہے۔

سعودی عرب اور ایران کی طرف سے فرقہ وارانہ تنظیموں کی مالی معاونت کے بارے میں عوامی اور سرکاری حلقوں میں پائی جانے والی بے چینی سفارتی مصلحتوں کے باوجود سرکاری اہلکاروں کے لبوں پر بھی آ جاتی ہے۔

حال ہی میں پاکستان کے وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی نے اپنے بیان میں سعودی عرب کی مسلم دنیا کے حوالے سے اختیار کی جانے والی پالیسی پر شدید تنقید کی اور کہا کہ سعودی عرب اور امریکہ کے گٹھ جوڑ سے ملنے والے پیسے نے پاکستان کو تباہ کیا اور یہ دہشت گردی کے زیرِ اثر آیا اور سعودی عرب پاکستان سے لے کر چیچنیا تک اپنا مذہبی نظام پہنچانا چاہتا تھا۔

انھوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ سیاست دان اور گلیوں میں موجود لوگوں کو بات کرنی ہوگی۔

لیکن اس بیان کے اگلے ہی روز پاکستان کے وفاقی وزیر کو وزیراعظم نواز شریف کے نام ایک وضاحتی خط لکھنا پڑا جس میں ان کا موقف تھا کہ ’میرے بارے میں جو رپورٹ کیا گیا اور بیان کیا گیا وہ میں نے بالکل نہیں کہا تھا۔‘

سینیئر صحافی اور انیکر پرسن نسیم زہرہ کہتی ہیں کہ وفاقی وزیر نے پاکستان کی تاریخ بیان کی لیکن ملکی سطح پر یہ نہیں ہوتا کہ کابینہ کے لوگ عوامی سطح پہ ایسی بات کریں اس لیے اب ریاض پیرزادہ میڈیا پر ذمہ داری ڈال رہے ہیں۔

سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات کی عمر اتنی ہی ہے جتنا پاکستان خود ہے۔ 57 ممالک پر مشتمل اسلامی دنیا کا مرکز سمجھے جانے والی اس ریاست میں سب سے زیادہ بیرونی افرادی قوت پاکستانیوں کی ہے اور یہ تعداد 15 لاکھ سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔

تیل کی دولت سے مالا مال سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی ہر حکومت کے نہایت اچھےتعلقات رہے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کا زمانہ رہا ہو یا پھر ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان پر عائد ہونے والی اقتصادی پابندیاں ہر آڑے وقت میں سعودی حکومت نے پاکستان کو سہارا دیا۔

لیکن بحیثیت سفیر اور سیکرٹری خارجہ فرائص سرانجام دینے والے سابق سفیر نجم الدین شیخ کہتے ہیں 35 سال کے بعد ہمیں اس بات کا اعتراف کرنا چاہیے کہ عراق اور ایران کی جنگ اور اس سے پہلے جب ایران کا اسلامی انقلاب آیا تو اس وقت پاکستان میں شیعہ اور سنی دونوں فرقوں نے خود کو استعمال ہونے دیا اور حکومت نے اس سے چشم پوشی کی۔

’ایک جنگ بصرہ اور ایران میں ہو رہی تھی لیکن دوسری پاکستان کی سرزمین پر ہو رہی تھی، اس وقت ہماری حکومت کی غفلت تھی دوسرے مذہبی قائدین نے وہاں سے آنے والے پیسے کو بخوشی قبول کیا۔‘

سینئیر تجزیہ نگار حسن عسکری رضوری کہتے ہیں کہ یہ بات تو درست ہے کہ سعودی عرب اور کچھ ایرانیوں نے پاکستان میں اس قسم کے کام کیے ہیں ہاں برتری سعودی عرب کو ملتی رہی۔

غیر سرکاری سطح پر یہ باتیں کی جاتی ہیں مگر سعودی عرب کے خلاف سرکاری طور پر بات کرنا پاکستان کی پالیسی نہیں ہے اور خود وزیراعظم پاکستان کے سعودی عرب کے حکمران خاندان کے ساتھ ترجیحی نوعیت کے تعلقات رہے ہیں۔

پاکستان میں سعودیہ کا اثر و نفوذ ؟

پاکستان میں فرقہ وارانہ عصبیت اب شیعہ اور سنی تک محدود نہیں بلکہ مختلف سنی گروہ بھی اپنے اپنے نظریات کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل نظر آتے ہیں۔

ملک سنی فرقے کی اکثریت ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ 70 کی دہائی سے قبل تک شیعہ سنی تفرقہ تشدد یا عدم برداشت کی صورت میں موجود نہیں تھا۔

سویت جنگ میں امریکہ اور سعودی عرب نے پاکستان کو پیسہ اور ہتھیار تو دیے مگر بات صرف اقتصادی یا دفاعی مدد تک محدود نہ تھی پاکستان میں مدارس کی نشونما بھی اسی عرصے میں ہوئی۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کرنے والی پاکستانی ریاست نے 72 تنظیموں کو کالعدم قرار دیا ہے اور اپنی قومی پالیسی میں مدارس کی جانچ پڑتال کو بھی شامل کیا ہے۔ ان مدارس کی تعداد ہزاروں میں ہے۔

سینیئر تجزیہ نگار پروفیسر خادم حسین اسلامی دنیا کے مرکز سعودیہ عرب کی جانب سے پاکستان میں کیے جانے والے مذہبی اثرات پر بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ مذہب کی جو سعودی توجیہ ہے وہ دراصل انتہاپسندانہ سلفی توجیہ ہے اور اس میں کسی اور قسم کی رائے خیال یا توجیہ کو جگہ نہیں مل پاتی تو اس فکر کے ذریعے وہ اثرونفوذ کرتے ہیں، مدارس کو فنڈنگ، تنظیموں کو فنڈنگ دیتے ہیں۔‘

چند سال پہلے وکی لیکس کے نام سے شائع ہونے والی دستاویز میں پاکستان میں سعودی فنڈنگ کے بارے میں کچھ انکشافات کیے گئے تھے۔

روزنامہ ڈان نے اس حوالے سے خبر میں لکھا کہ سنہ 2008 میں پاکستان میں موجود امریکی اہلکار نے خفیہ مراسلے میں لکھا تھا کہ صرف صوبہ پنجاب میں دیوبندی اور اہل حدیث مسلک سے تعلق رکھنے والے علما کو سعودی اور متحدہ عرب امارات کی کی جانب سے سالانہ طور پر 10 کروڑ ڈالر کی امداد ملتی ہے۔

حسن عسکری کہتے ہیں کہ یہ حقیقت ہے کہ اب بھی نہ صرف سعودی عرب بلکہ دیگر عرب ممالک اور ایران اور عراق کی جانب سے بھی پاکستان میں موجود مذہبی تنظیموں کو امداد ملتی رہی اور اب بھی بہت سے مدرسوں اور کچھ مساجد کو سعودی عرب فنڈنگ کرتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption ماہرین کے مطابق سابق صدر ضیاالحق کے دور میں ملک میں سعودی اثرات میں اضافہ ہوا

’حکومت پاکستان کو پتہ ہے یہ باتیں ایسی خفیہ نہیں ہیں، لیکن مجبوریاں دو ہیں موجودہ حکومت کی مالی امداد اور نواز شریف کی اپنی ذات، نواز شریف کو قید سے نکالنے میں سعودی عرب کا کردار ہے۔‘

لیکن پاک سعودی عرب تعلقات اقتصادیات یا مذہبی نظریے تک محدود نہیں ہیں سیاسی الجھنیں اور فوج اور حکومت کے درمیان تعلقات سلجھانے میں بھی سعودی کردار نمایاں رہا۔

پروفیسر خادم حسین کے مطابق میاں نواز شریف اور سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے درمیان موجود مسئلے کے حل کے لیے سعودی عرب کا کردار اس کا مظہر ہے۔

جبکہ پروفیسر حسن عسکری کہتے ہیں کہ پاکستانی سماج میں سعودی اثرات ضیا الحق کے دور کے بعد زیادہ ہوچکا ہے اس سے پہلے یہاں ایرانی زبان یعنی فارسی کے اثرات ملتے ہیں تاہم اب آپ کو گاڑیوں کی نمبر پیلٹس پر پاکستان کے بجائے ’الباکستان‘ لکھا نظر آئے گا اور سعودیا ائزیشن آف پاکستان کے نام سے اخباروں میں کالمز اس کی ہی مثال ہیں۔

سابق سفیر نجم الدین شیخ سمجھتے ہیں کہ پیسوں کے ذریعے اپنے مذہبی نظریات پھیلانے کے لیے مسلم ممالک میں انتہا پسندی اور دہشت گردی پھیلانے کا الزام سعودی عرب پر لگتا ہے تاہم گذشتہ چند سالوں میں سعودی عرب میں دہشت گردی کی روک تھام کے لیے جو نئی اصلاحات آئی ہیں ان سے یہ لگتا ہے کہ وہ اب سرکاری طور پر ایسا کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نواز شریف اور پرویز مشرف کے درمیان معاہدے میں سعودی حکومت کا خاص کردار تھا

وہ کہتے ہیں کہ پاکستانی حکومت کی جانب سے انسداد دہشت گردی کے لیے نیشنل ایکشن پلان میں یہ بھی شامل ہے کہ دوست ممالک سے نجی سطح پر پاکستان میں موجود دہشت گرد اور انتہا پسندوں کی فنڈنگ روکنے کے لیے کہا جائے گا۔

ڈاکٹر حسن عسکری بتاتے ہیں کہ پاکستان میں پہلی بار حکومت نے بیرونی اثرات کو کنٹرول کرنے اور مساجد میں جو تقریریں ہوتی ہیں انھیں روکے جانے کی بات ہوئی ہے تاہم آنے والے مہینوں میں پتہ چلے گا کہ واقعی پاکستان میں اس کا کچھ فرق پڑا یا نہیں۔

2014 کے اوائل میں ڈیڑھ ارب ڈالر کی خطیر رقم سے پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر بڑھانے میں مدد ملی جسے دوست ممالک کی جانب سے ملک کے ترقیاتی فنڈ کے لیے تحفہ قرار دیا۔

گزشتہ سال 17 مارچ کو وزیراعظم کے مشیر سرتاج عزیز نے سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کو بتایا کہ یہ رقم سعودی عرب کی جانب سے دی گئی ہے تاہم اراکین کا سوال یہ تھا کہ اس کے بدلے میں پاکستان نے سعودی عرب کو کیا دیا ہے؟ اس کا کوئی خاطر خواہ جواب حکومتی حلقے تاحال دینے میں ناکام ہیں۔

اسی بارے میں