ژے سوئی عبداللہ

تصویر کے کاپی رائٹ reuters
Image caption شاہ عبداللہ جنتِ مکانی پرتشدد انتہا پسندی کے خلاف ایک بہادر اتحادی اور امن کے داعی تھے: جان کیری

چھٹے خادمِ حرمین شریفین عبداللہ بھی واصلِ جنت ہوگئے لیکن اس فراق میں اطمینان کا پہلو یہ ہے کہ ساتویں بادشاہ سلیمان نے بھی جنت مکانی عبداللہ کی پالیسیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

جنت مکانی کا وجود صرف عالمِ اسلام کے لیے نہیں کل عالم کے لیے باعثِ سکون تھا۔ اسی لیے برطانیہ سے آسٹریلیا تک متعدد ممالک کے پرچم سرنگوں ہیں۔ عالمِ اسلام تو خیر ان کی مفارقت میں نڈھال ہے ہی، اغیار بھی پچھاڑیں کھا رہے ہیں۔

برطانوی ولی عہد شہزادہ چارلس ہوں یا وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون، فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند ہوں یا امریکی نائب صدر جو بائیڈن سب اشک بار ہیں۔ براک اوباما بھی بنفسِ نفیس ریاض پہنچنے والے ہیں۔

مسلمان حکمرانوں کو تو جانے دیجیے جان کیری کہتے ہیں کہ شاہ عبداللہ جنتِ مکانی پُرتشدد انتہا پسندی کے خلاف ایک بہادر اتحادی اور امن کے داعی تھے۔

نیویارک ٹائمز انھیں اعتدال کی علامت قرار دیتے ہوئے لکھتا ہے کہ جنت مکانی نے نہ صرف شدت پسندی کو لگام دی بلکہ بہت سے دہشت گردوں کے سر بھی قلم کیے، جب آئی ایم ایف کی مینجنگ ڈائریکٹر کرستیاں لاگاردے انھیں خواتین کے حقوق کا مضبوط وکیل قرار دیتی ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ دنیا کیسے یتیم ہوگئی۔

ایسا خراجِ عقیدت ان مٹھی بھر عناصر کے منہ پر طمانچہ ہے جو کہتے ہیں کہ پاکستان، افغانستان، عراق اور شام وغیرہ میں فرقہ وارانہ غارت گری کی ایک بڑی وجہ سعودی نظریاتی و مالی معاونت ہے یا مصر میں اخوان المسلمین کی منتخب حکومت سعودی چیک بک نے برطرف کی، یا بحرین میں سیاسی تبدیلی سعودی ٹینکوں نے روکی یا یمن کا بحران سعودی پالیسیوں کے طفیل ہے۔

اور جب بس نہیں چلتا تو یہ عناصر مزید اوچھے الزامات پر اتر آتے ہیں کہ سعودی عرب میں مطلق العنانیت ہے اور بنیادی حقوق کا تصور نہیں۔ اگر ایسا ہی ہوتا تو جرمن چانسلر اینجلا مرکل اپنے تعزیتی بیان میں کاہے کو کہتیں کہ شاہ عبداللہ نے ملک کو مرحلہ وار جدیدیت کے راستے پر ڈالا ہے۔

کور چشموں کو کیوں سجھائی نہیں دیتا کہ جنت مکانی نے ہی سعودی تاریخ میں پہلی بار دس سال پہلے بلدیاتی انتخابات میں رعایا کو ووٹ کا حق دیا۔ آپ ہی نے اولمپک گیمز میں خاتون ایتھلیٹ کو جانے کی اجازت دی۔ آپ نے کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس و ٹیکنالوجی میں مخلوط تعلیم سے درگزر فرمایا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

آپ نے 160 رکنی شوری کونسل میں 30 خواتین کو بھی نشستیں سنبھالنے کا ازن دیا۔ آپ نے بادشاہ اور ولی عہد کے انتخاب کو جمہوری بنانے کے لیے ایک خاندانی جانشین کونسل قائم کی۔ آپ نے لگ بھگ 25 ہزار شہزادوں کو پابند کیا کہ وہ فون کا بل اپنی جیب سے دیں گے۔ آپ ہی نے یقینی بنایا کہ اتنے وسیع خاندان کا کوئی فرد کسی ایسی غیر اخلاقی حرکت میں ملوث نہ ہو جو پوری برادری کے لیے کلنک بن جائے۔ یہی سبب ہے کہ اب تک سوائے شاہ فیصل کے قاتل بھتیجے کے کسی سعودی شہزادے کا سر قلم نہیں ہوا۔

لے دے کے چھچھورے ناقدوں کو بس یہی یاد رہ جاتا ہے کہ سعودی خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت نہیں۔یہ اجازت بھی کبھی کی مل جاتی اگر سنہ 1998 میں ملکہ برطانیہ نے اپنی لینڈ روور میں ولی عہد عبداللہ کو فرنٹ سیٹ پر بٹھا کر بالمورل رائل سٹیٹ کی پگڈنڈیوں پر خود ڈرائیو نہ کی ہوتی۔ا سی روز جنت مکانی کو اندازہ ہوگیا کہ خواتین کیسی بےپرواہ ڈرائیور ہوتی ہیں۔

اور رہا معاملہ اس بے لگام بلاگر رائف بدوی کو ایک ہزار کوڑے کی سزا کا تو ایسے بدتمیز لمڈے کے لیے تو دس ہزار کوڑوں کی سزا بھی کم ہے۔ بھلا یہ بھی کوئی کرنے کی بات ہے کہ سعودی عرب میں سرکاری نظریے کے خلاف دلیل دینا کفر کے برابر ہے اور ایسی گھٹی ہوئی سیاسی فضا میں دوسری طرح سے سوچنے والوں کی کوئی گنجائش نہیں۔

کون کہتا ہے کہ سعودی عرب میں سوچنے اور کہنے کی آزادی نہیں۔ آپ اسرائیل، مغرب، دولتِ اسلامیہ، القاعدہ اور اخوان المسلمین وغیرہ وغیرہ کو جی بھر کے گالی دے سکتے ہیں مجال ہے کوئی شرطہ چیں بول جائے۔

آپ سعودی طرزِ حکومت کو بھی جتنا چاہیں برا بھلا کہہ سکتے ہیں لیکن ایسا کرنے سے پہلے ایک بار پھر سوچنے میں کوئی حرج تو نہیں۔

بہرحال شاہی کے رموز بادشاہ جانیں یا پھر خدا جانے۔ ہمیں تو سب ہی اچھے لگتے ہیں۔ ہمیں تو سب ہی کا کوچ کرنا برا لگتا ہے۔ بھلے وہ ملکہ وکٹوریہ کی وفات پر اقبال کا دس بند کا مرثیہ ’اشکِ خوں‘ ہو کہ ظلِ الہی عبداللہ کی ناوقت رخصتی پر ماتمِ عالم ۔

میت اٹھی ہے شاہ کی تعظیم کے لیے

اقبال اڑ کے خاکِ سرِ رہ گزار ہو

اسی بارے میں