’متحدہ قومی موومنٹ میں کئی گروپس ہیں‘

Image caption پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور صعنتی مرکز میں پولیس مقابلوں میں بھی اضافہ ہوا ہے

کراچی پولیس کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی غلام قادر تھیبو نے دعویٰ کیا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ میں کئی گروپس ہیں جو ہوسکتا ہے کہ کارکنوں کی جبری گمشدگی میں ملوث ہوں۔

دوسری جانب ایم کیو ایم کو شبہ ہے کہ پولیس کی غیر اعلانیہ تنظیم ان وارداتوں میں شامل ہے۔

ایڈیشنل آئی جی غلام قادر تھیبو نے بی بی سی سے ایک خصوصی گفتگو میں کہا ہے کہ ایم کیو ایم میں گروپنگ بھی ہے اور اس کے لوگ زیادہ متاثر بھی ہوتے ہیں۔

کراچی پولیس کے سربراہ سے سوال کیا گیا کہ ایم کیو ایم کے کارکنوں کی جبری گمشدگی میں ملوث یہ سادہ کپڑوں میں ملبوس کون لوگ ہیں؟

غلام قادر تھیبو نے بتایا کہ ایم کیو ایم کے ووٹر زیادہ ہیں، جن میں اہل تشیع اور بریلوی شامل ہیں، یہاں شیعہ سنی تنازع بھی ہے، ان کے مختلف گروہ سول کپڑوں میں ہو سکتے ہیں، اس کے علاوہ ان کے آپس کے بھی جھگڑے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ کارکنوں کی جبری گمشدگی میں ساری وجوہات شامل ہیں لیکن جو افراد بھی اس میں ملوث ہیں ان کے ایف آئی آر درج ہیں اور پولیس اس حوالے سے تحقیقیات کرتی ہے۔

ایم کیو ایم کو شکایت ہے کہ کراچی میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران انھیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

تنظیم کا دعویٰ ہے کہ اس ایکشن کے دوران ان کے 35 کارکنوں کی ماورائےعدالت ہلاکتیں ہو چکی ہیں جبکہ 20 سے زائد کارکن لاپتہ ہیں اور یہ تمام وارداتیں سادہ لباس میں کی گئی ہیں۔

ایم کیو ایم کے سینیئر رہنما حیدر عباس رضوی کا کہنا ہے کہ یہ لوگ سادہ کپڑوں میں آتے ہیں اس لیے کوئی بات وضاحت سے تو نہیں کی جاسکتی لیکن جس طریقے کا رجحان ہے اس سے تو ایسا محسوس ہوتا ہے ان کا تعلق براہ راست پولیس کی ایسی ٹیموں سے ہے جو ابھی تک ڈکلیئرڈ نہیں ہیں۔

انھوں نے کہا ’ جب ہم کراچی پولیس کے سربراہ غلام قادر تھیبو سے رابطے کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ سی آئی ڈی یا اس طرح کی پولیس کی جو تنظیمیں ہیں وہ ان کی ماتحت نہیں۔ رینجرز سے جب بھی بات ہوئی ہے وہ کہتے ہیں کہ وہ بغیر وردی کے کبھی نہیں آتے۔ صورتِ حال عجیب و غریب ہے، وہ دندناتے پھر رہے ہیں اور سفید رنگ کی ڈبل کیبن ہے جو اس طرح کی وارداتوں میں استعمال کی جا رہی ہے۔‘

پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور صعنتی مرکز میں پولیس مقابلوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

پولیس کا دعوی ہے کہ ٹارگٹڈ آپریشن کے 497 دنوں میں 771 مبینہ ملزمان کو مقابلوں میں ہلاک کیا گیا جن میں سے 170 کا تعلق شدت پسند تنظیموں سے ہے۔

ہلاکتوں میں اضافے کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ آپریشن سے قبل اسی عرصے میں ان ہی تنظیموں کے صرف آٹھ رکن مقابلوں میں ہلاک ہوئے تھے۔

ایڈیشنل آئی جی غلام قادر تھیبو کا کہنا ہے کہ شدت پسند گرفتار ہونے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور سرینڈر بھی نہیں کرتے اور الٹا پولیس پر فائرنگ کرتے ہیں جبکہ پولیس بھی اپنے دفاع میں فائرنگ کرتی ہے جس میں وہ مارے جاتے ہیں۔

دو کروڑ آبادی پر مشتمل شہر کے 6 اضلاع میں سے تین اضلاع غربی، شرقی اور ملیر میں یہ مقابلے سامنے آتے ہیں۔

غلام قادر تھیبو کا کہنا ہے کہ وزیرستان اور فاٹا سے جو لوگ آئے ہیں وہ زیادہ تر ان علاقوں میں رہتے ہیں اور انھیں مقامی حمایت بھی حاصل ہے، جنوبی اور وسطی اضلاع میں ان کی موجودگی نہیں ہے اس لیے وہاں مقابلے نہیں ہوتے۔

’پولیس کی یہ سوچ ہے کہ اگر انھیں چھوڑا جائے گا تو یہ کوئی نہ کوئی کارروائی کریں گے، پہلے یہ لوگ جرائم میں ملوث نہیں ہوتے تھے لیکن اب یہ اغوا برائے تاوان، چندے اور بھتہ کی وصولی، زمینوں پر قبضوں میں بھی ملوث ہیں پولیس نے ان کے خلاف کارروائیاں شروع کی ہیں اس وجہ سے مقابلوں کی تعاد میں اضافہ ہوا ہے۔‘

کراچی پولیس کے سربراہ تسلیم کرتے ہیں یہ سو فیصدی ممکن نہیں ہے کہ تمام مقابلے حقیقی ہوں، بقول ان کے کچھ ایسے واقعات ہوئے ہیں جن میں انھیں معلوم ہوا ہے کہ مقابلہ اصلی نہ تھا اس کی تحقیقات کی گئی اور اس میں ملوث اہل کاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔

اسی بارے میں