فوجی عدالتوں کا قیام آئین پر حملہ ہے: ہائی کورٹ بار

پاکستان فوج
Image caption وکلا کا کہنا ہے کہ آئین میں فوجی عدالتوں کی کوئی گنجائش نہیں ہے

لاہور ہائی کورٹ بار اور لاہور بار ایسوسی ایشن نے اکیسویں ترمیم کے ذریعے فوجی عدالتیں قائم کرنے کے اقدام کو آئین پر حملہ قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف تحریک چلانے کا عندیہ دیا ہے ۔

ہائی کورٹ بار اور لاہور کی ضلعی بار ایسوسی ایشن کا مشترکہ اجلاس ایوان عدل میں ہوا جس میں فوجی عدالتوں کے قیام کے خلاف مذمتی قرار داد منظور کی گئی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے لاہور بار ایسوسی ایشن کے صدر اشتیاق اے خان نے کہا کہ فوجی عدالتوں کا قیام ایک مساوی عدالتی نظام ہے جس کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔

لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن پہلے ہی فوجی عدالتوں کے قیام کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر چکی ہے اور اس سلسلہ میں ایک آئینی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی گئی جس کی سماعت 28 جنوری کو ہوگی۔

ضلعی بار کے صدر اشتیاق اے خان نے واضح کیا کہ فوجی عدالتیں آئین اور اعلیْ عدالتی فیصلوں کے منافی ہیں اور ارکان پارلیمان کو آئین کے بنیادی ڈھانچہ کے خلاف کوئی ترمیم منظور کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں فوجی عدالتیں قائم کرنا منی مارشل لا کے مترادف ہے۔

اشتیاق اے خان نے اعلان کیا کہ وکلا کو فوجی عدالتوں کے خلاف تحریک چلانی پڑی تو وہ اس سے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

دوسری جانب 29 جنوری کو لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن میں آل پاکستان وکلا کنونشن ہو رہا ہے جس میں فوجی عدالتوں کے خلاف آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کیا جائے۔

اسی بارے میں