اوباما مودی بے تکلفی پر پاکستان میں بے چینی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستانی حکام نجی طور پر اس دورے کے بارے میں کچھ تشویش اور کچھ بےچینی کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہی بے چینی اور تشویش پاکستانی اخبارات اور ٹیلی وژن چینلز پر بھی دکھائی اور سنائی دے رہی ہے

امریکی صدر براک اوباما کے دورۂ بھارت اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان معاہدوں، بات چیت اور بے تکلفانہ انداز پر پاکستان میں کچھ بے چینی پائی جا رہی ہے۔

امریکی صدر کے بھارت پہنچنے پر پاکستان کی جانب سے باضابطہ ردعمل دیتے ہوئے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے پریشانی ظاہر کیے بغیر کہا تھا کہ امریکی صدر کے بھارتی دورے سے خطے میں امن کے قیام میں مدد ملے گی جس سے پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں بہتری آئے گی۔

تاہم پاکستانی حکام نجی طور پر اس دورے کے بارے میں کچھ تشویش اور کچھ بےچینی کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہی بے چینی اور تشویش پاکستانی اخبارات اور ٹیلی وژن چینلز پر بھی دکھائی اور سنائی دے رہی ہے۔

سابق سیکریٹری خارجہ نجم الدین شیخ کہتے ہیں’پاکستان میں امریکی صدر کے دورۂ بھارت پر جو بے چینی پائی جاتی ہے اس کی بظاہر وجہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کے باوجود بھارت کو غیر معمولی اور غیر ضروری اہمیت دینے کا تاثر ہے۔ پاکستان میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ اس کے ساتھ اس قسم کا برتاؤ نہیں کیا جا رہا جس کا وہ مستحق ہے لیکن بھارت کے ساتھ تعلقات کو بڑھایا جا رہا ہے جبکہ اس نے پاکستان کے مقابلے میں امریکہ کی اس نوعیت کی مدد نہیں کی۔‘

بھارت میں سابق پاکستانی سفیر عزیز احمد کہتے ہیں بھارت میں امریکی صدر کی موجودگی پر پاکستان میں بے چینی کی کوئی وجہ نہیں ہے بلکہ یہ بے چینی یا اس دورے پر غیر معمولی توجہ پاکستانی میڈیا میں ہی پائی جاتی ہے۔ میرے خیال میں تو اس دورے میں ایسا کچھ نہیں ہوا کہ جس پر پاکستان کو تشویش ہو یا یہاں کوئی بے چینی پائی جائے۔‘

پاکستان کے سکیورٹی حکام اس دورے کے دوران بھارت اور امریکہ کے درمیان ایٹمی توانائی یا دفاعی تعلقات پر سمجھوتوں سے زیادہ جس معاملے کو اہمیت دے رہے تھے وہ افغانستان کے بارے میں ان دون ملکوں کے درمیان بات چیت ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق براک اوباما اور نریندر مودی نے دو طرفہ گفتگو کے دوران خاصا وقت افغانستان کے معاملات کو دیا تاہم امریکی صدر نے یہ کہہ کر پاکستان کے لیے تشویش کا سامان کر دیا ’بھارت کی شکل میں ہمیں افغانستان میں ایک قابل اعتماد شراکت دار مل گیا ہے۔‘

سابق پاکستانی سفارت کار نجم الدین شیخ اس حوالے سے کہتے ہیں کہ افغانستان میں پاکستان کو نظرانداز کر کے بھارت کو اہمیت دینا ناقابل عمل تجویز ہے اور پاکستان کو اس پر تشویش نہیں ہونی چاہیے۔

’بھارت کو افغانستان میں کردار دینے کے بارے میں پاکستانی حکام ضرورت سے زیادہ تشویش میں مبتلا ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کو معلوم ہے کہ پڑوسی اور سارک ممالک کے ساتھ تعلقات کے باوجود افغانستان کے لیے جو اہمیت پاکستان کی ہے اس کی جگہ کوئی دوسرا ملک نہیں لے سکتا۔‘

افغانستان کے علاوہ بھی امریکہ اور بھارت کے درمیان اس دو روزہ دورے کے دوران جو معاہدے ہوئے یا وعدے کیے گئےان کے پیشِ نظر سابق سیکرٹری خارجہ نجم الدین شیخ کہتے ہیں کہ اس دوران دونوں ممالک کے درمیان کوئی نیا یا قابل ذکر معاہدہ نہیں ہوا۔

’اس دورے کے دوران باتیں تو بہت ہوئیں اور بے تکلفی اور قربت کا تاثر بھی دیا گیا۔ لیکن جو معاہدے ہوئے ہیں یا جو اعلانات کیے گئے ہیں ان میں مجھے کوئی ایسی ٹھوس چیز نظر نہیں آئی جس سے یہ محسوس ہو کہ یہ دورہ غیر معمولی اہم تھا۔‘

پاکستانی میڈیا نے امریکی صدر کے دورۂ بھارت پر پاکستان کے لیے تشویش کے اتنے پہلو تلاش کر لیے کہ ایک اردو پاکستانی اخبار ’نوائے وقت‘ کے مطابق امریکی صدر کے اس دورۂ بھارت کے منفی اثرات کو زائل کرنے کے لیے بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل چین چلے گئے تاکہ دنیا کو یہ تاثر دیا جا سکے کہ اس خطے میں پاکستان اتنا بھی بے سہارا نہیں جتنا اسے سمجھا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں