خیبر پختونخوا: دو ہفتوں میں پانچ ہزار مشتبہ افراد گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد سکیورٹی فورسز کی جانب سے ان کارروائیوں میں تیزی آئی ہے

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت سکیورٹی فورسز کی مشترکہ کارروائیاں جاری ہیں جبکہ پولیس نے دو ہفتوں میں پانچ ہزار سے زیادہ مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے۔

سرکاری ذرائع کےمطابق مختلف شہروں میں سکیورٹی فورسز، پولیس اور دیگر اداروں نے شدت پسندوں کے خلاف کیے جانے والے مشترکہ آپریشن میں ان کا جانی نقصان بھی ہوا ہے۔

ضربِ عضب کیا ہے؟ دیکھیے خصوصی ویڈیو

مقامی افراد کے مطابق ضلع مردان کے قریب کاٹلنگ کے علاقے میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں دو مشتبہ شدت پسند ہلاک ہوئے۔

گذشتہ روز ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے لونی اور ضلع ہنگو کے مضافات میں بھی اسی طرح کی مشترکہ کارروائیاں کی گئی تھیں۔ ان کارروائیوں میں کم سے کم دو مشتبہ شدت پسند ہلاک ہوئے تھے۔

سکیورٹی اداروں اور پولیس کی یہ مشترکہ کارروائیاں ان علاقوں میں کی جا رہی ہیں جہاں گمان ہے کہ قبائلی علاقوں سے فرار ہو کر آنے والے شدت پسند اور یا ان کے حمایتی اور مددگار یہاں موجود ہو سکتے ہیں۔

ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن ضرب عضب کے تناظر میں خفیہ ایجنسیوں کی اطلاعات پر مشتبہ مقامات پر ٹارگٹڈ یعنی مخصوص ہدف پر آپریشن شروع کیے گئے تھے۔

پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد سکیورٹی فورسز کی جانب سے ان کارروائیوں میں تیزی آئی ہے اور سرکاری سطح پر اس بارے میں معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں۔

ڈیرہ اسماعیل خان کے ضلعی پولیس افسر صادق حسین نے بتایا کہ سٹرائیک اینڈ سرچ آپریشن میں پولیس روزانہ ہر مکان کا ریکارڈ حاصل کرتی ہے جبکہ مقامی روایات کے مطابق مدرسوں اور سکولوں کی بھی معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔

خیبر پختونخوا میں جاری اس آپریشن کے میں کوئی دو ہفتوں کے دوران پانچ ہزار سے زیادہ مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جبکہ دو ہزار کے لگ بھگ ایسے افغان پناہ گزینوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جن کے پاس پاکستان میں رہنے کے قانونی دستایزات نہیں تھے۔

اسی بارے میں