علم بانٹو چاہے اس کے لیے تمہیں اسلحہ ہی رکھنا پڑے

پشاور کے استاد
Image caption حالات نے مجبور کر دیا ہے کہ اسلحہ اٹھائیں: محمد اقبال

گذشتہ ماہ کے پشاور آرمی پبلک سکول پر دہشت گرد حملے کے بعد پاکستان میں اساتذہ کو اپنے پاس اسلحہ رکھنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ بی بی سی کے شاہ زیب جیلانی نے پشاور کے ایک ایسے سکول کا دورہ کیا ہے جس میں سٹاف اب مسلح گارڈز کے فرائض بھی ادا کر رہا ہے۔

جنوری کی ایک ابر آلود صبح کو محمد اقبال گورنمنٹ ہایئر سیکنڈری سکول نمبر 1 کے گراؤنڈ میں جسمانی فٹنس کی کلاس لے رہے ہیں۔ پشاور کے اس سب سے بڑے اور پرانے سرکاری سکول کا کیمپس بہت وسیع رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔

سکول میں کھیلنے کے لیے ایک بڑی گراؤنڈ ہے، لیکن گزشتہ ماہ قریبی آرمی پبلک سکول پر طالبان حملے کے بعد اسے استعمال نہیں کیا جا رہا۔ آرمی سکول پر حملے میں 150 کے قریب افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں زیادہ تعداد بچوں کی تھی۔

محمد اقبال اپنی جیب سے 9 ایم ایم کی بریٹا پستول نکالتے ہوئے کہتے ہیں: ’یہ میری ذاتی گن ہے جو میں اب سکول لانے لگا ہوں۔‘

سکول نے حال ہی میں اسلحہ خریدا ہے اور اپنے کچھ سٹاف کو بھی مسلح کیا ہے۔ ان میں سے ایک چھت پر سنائپر یا نشانچی کے فرائض انجام دیتا ہے جبکہ دوسروں کو سکول کے دروازے کی حفاظت کے لیے معمور کیا ہوا ہے۔

آرمی سکول پر حملے میں کئی اساتذہ بھی ہلاک ہوئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ’میں یہ بات یقینی بنانا چاہتا ہوں کہ اگر یہ پھر ہو تو ہم لڑتے ہوئے جان دیں۔‘

کیا انھیں بطور ایک استاد بندوق اٹھانا اچھا لگتا ہے؟

’ہم یہاں علم بانٹنے آئے ہیں، اپنے نوجوانوں کو مسلح کرنے نہیں۔ لیکن حالات نے ہمیں مجبور کر دیا ہے کہ ہم اپنی حفاظت کے لیے ایسا کریں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سولہ دسمبر کو پشاور سکول پر ہونے والے حملے میں 150 کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں سے زیادہ تعداد بچوں کی تھی

کیونکہ انتظامیہ یہ بات تسلیم کرتی ہے کہ پولیس صوبے کے ہزاروں سکولوں کی حفاظت نہیں کر سکتی۔ اور سرکاری سکولوں کے پاس اتنے فنڈز نہیں ہوتے کہ وہ ممتاز نجی سکولوں کی طرح مسلح سکیورٹی گارڈز رکھ سکیں۔ ان کے پاس اکثر سکیورٹی کا اپنا انتظام کرنے کے علاوہ کوئی اور آپشن نہیں ہوتا۔

16 دسمبر کو سکول میں قتلِ عام نے ملک اور ملک سے باہر سبھی کو ہلا کے رکھ دیا تھا۔ اس کے بعد پاکستان میں سکول بند کر دیےگئے۔ جب وہ سردیوں کی لمبی چھٹیوں کے بعد کھولے گئے تو بہت سے والدین اس شش و پنج میں تھے کہ اپنے بچوں کو سکول واپس بھیجیں یا نہیں۔

حکام نے سکیورٹی بہتر بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ ان میں شامل ہیں: بیرونی دیوار کو اونچا کرنا، ان پر خار دار تاریں لگانا، سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنا اور سکیورٹی گیٹ لگانا وغیرہ۔

لیکن فکر کی بات یہ ہے کہ حکومت نے کہا ہے وہ اسلحے کے لائسنسوں کا اجرا کرے گی اور اساتذہ کو اسے اپنے پاس رکھنے کی اجازت دے گی۔

صوبائی وزیرِ اطلاعات مشتاق غنی کہتے ہیں کہ اس کے پیچھے سوچ یہ ہے کہ ’جب تک مدد نہیں پہنچتی سٹاف حملہ آووروں کو مصروف رکھے۔‘

اس کے بعد سے اس تجویز پر تنقید شروع ہو گئی۔ خیبر پختونخوا صوبے کی اساتذہ کی انجمن کے صدر ملک خالد خان کہتے ہیں کہ ’ہمارا کام پڑھانا ہے، بندوق اٹھانا نہیں۔ ہم سکیورٹی گارڈز بننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔‘

گزشتہ ہفتے صوبائی حکومت کو اپنے کچھ اعلانات سے پیچھے ہٹنا پڑا۔ صوبائی وزیرِ تعلیم عاطف خان نے کہا کہ ’ہم اساتذہ کو بندوقیں اٹھانے کا حکم نہیں دے رہے۔ ہم نے یہ کہا تھا کہ اگر اساتذہ یا والدین میں سے کوئی اسلحہ رکھنے کے لیے کہیں گے تو ہم انھیں لائسنس جاری کر دیں گے۔‘

حکام کا کہنا ہے کہ شمالی مغربی پاکستان میں بندوق رکھنا یا اٹھانا کوئی نئی بات نہیں اور اسے پشتون ثقافت کا جزو سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ دیگر سمجھتے ہیں کہ بندوق کے کلچر کو فروغ دینا تشدد اور شدت پسندی کے خلاف لڑنے کا طریقہ نہیں ہے۔

بہت سے پاکستانیوں کا یہ خیال ہے کہ ایسا کرنے کے لیے فوج کو اسلامی شدت پسندی کے ہر رنگ کے خلاف اعلانِ جنگ کرنا پڑے گا چاہے وہ پاکستانیوں پر حملہ کرنے والے طالبان ہوں یا انڈیا اور افغانستان پر نظریں مرکوز کیے جہادی۔

لیکن ایسا کرنے کا مطلب ہے کہ پاکستان اپنی قومی سلامتی کے تصور کو بہت حد تک بدلے۔ کئی ایک کا خیال ہے کہ پشاور سانحے کے بعد پرانی سوچ تبدیل ہو رہی ہے۔ مگر کئی دوسرے جو پاکستان کے ملٹری اور جنگجوؤں کے تعلقات کو سمجھتے ہیں بہت پر امید نہیں ہیں۔

اسی بارے میں